برطانیہ آمد پر ’پابندی‘
برطانیہ کی مخلوط حکومت غیر یورپی تارکین وطن کی برطانیہ آمد کو محدود کرنے کے بارے میں اعلان کرنی والی ہے۔ امکان ہے کہ برطانوی وزیر داخلہ ٹیرسا مے پیر کے روز تارکین وطن کی برطانیہ آمد پر عارضی پابندی کا اعلان کریں گی۔
غیر یورپی تارکین وطن کی برطانیہ آمد کو محدود کرنےسے مستقل پابندی کا اطلاق اگلے سال اپریل سے ہوگا لیکن اس عارضی پابندی کا مقصد مستقل پابندی سے پہلے درخواستوں کے انبار لگنےسے بچنے کی ایک کوشش ہے۔
امید کی جا رہی ہے کہ برطانوی وزیر داخلہ پیر کے روز اعلان کریں گی کہ اب سے اپریل دو ہزار گیارہ تک چوبیس ہزار ایک سو غیر یورپی ورکروں کو برطانیہ آمد کی اجازت دی جائے گی۔ یہ تعداد پچھلے سال کے نسبت پانچ فیصد کم ہے۔
کنزریٹو پارٹی کے انتخابی منشور میں تارکین وطن کی برطانیہ آمد کو روکنا ایک اہم وعدہ تھا جبکہ لبرل ڈیموکریٹ پارٹی اس کی مخالف تھی۔
کنزویٹو پارٹی اور لبرل ڈیموکریٹ پارٹی کے اتحاد کے باوجود تارکین وطن کی برطانیہ آمد کو روکنے کی شق اس معاہدے میں شامل ہے جس کے تحت کنزویٹو اور لبرل ڈیموکریٹ نے مخلوط حکومت قائم کر رکھی ہے۔
کنزویٹو پارٹی کے بعض وزراء کا موقف ہے کہ اگر بیرونی ممالک کے ورکروں پر سخت پابندی عائد کی گئی تو اس سے برطانیہ کی معیشت متاثر ہو سکتی ہے۔
کنزویٹو پارٹی کی جولیا اونسلو کا موقف ہے کہ کاروباری اداروں کو اجازت ہونی چاہیے کہ وہ ان باصلاحیت غیر ملکی ورکروں کو بلا سکیں جو ان کے کاروبار کو بہتر چلانے میں مددگار ہو سکتے ہیں۔
جولیا اونسلو کا موقف ہے کہ کاروباری اداروں کو غیر ملکی ورکروں کو برطانیہ لانے میں مقامی ورکروں کی نسبت تین گنا لاگت آتی ہے اور وہ یہ رقم بلا وجہ خرچ نہیں کر رہے ہیں۔
الیکشن کے دوران موجودہ برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کا موقف تھا کہ وہ تارکین وطن کی برطانیہ آمد کو لاکھوں سے گھٹا کر ہزاروں تک لانا چاہتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس وقت برطانیہ میں ہر سال ایک لاکھ تریسٹھ ہزار بیرونی ورکروں کو آنے کی اجازت دی جاتی ہے۔
لیبر پارٹی کا موقف ہے کہ تارکین وطن کی برطانیہ آمد سے متعلق کنزویٹو پارٹی سیاسی شعبدہ بازی مظاہرہ کر رہی ہے حالانکہ پہلے ہی غیر یورپی کارکنوں کی برطانیہ آمد انتہائی معمولی ہے۔





















