غیر ملکی طالبعلموں کے لیے ویزوں میں کمی

فائل فوٹو
،تصویر کا کیپشنبرطانیہ میں سٹوڈنٹ ویزوں پر آنے والے بیشتر طالب علم تعلم کی بجائے کام میں لگ جاتے ہیں

برطانیہ کے وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ طالب علموں کے ویزا سسٹم کا ناجائزہ فائدہ اٹھانے کے خدشے کے پیش نظر غیر ملکی طالب علموں کے ویزے کے اجراء میں کمی کی جا رہی ہے۔

وزیر داخلہ ایلن جونسن کا کہنا ہے کہ سخت قوانین کے تحت امیدوار کے لیے ایک خاص معیار کی انگلش زبان بولنا لازمی ہوگی اور مختصر مدت کے کورسز پر ویزوں کے اجراء پر پابندی لگائی جائے گی۔انھوں نے کہا کہ نئے قوانین کا اطلاق سنجیدہ طالب علموں پر نہیں ہو گا لیکن ان کا ٹارگٹ وہ لوگ ہیں جو برطانیہ میں کام کرنے کی غرض سے آتے ہیں۔

ویزا پالیسی پر نظر ثانی کا حکم گزشتہ سال دسمبر میں امریکی شہر شگاگو میں ایک مسافر جہاز کو بم دھماکے میں اڑانے کی کوشش کے واقعے کے بعد کیا گیا ہے۔

ویزا پالیسی میں نظر ثانی کا حکم برطانوی وزیراعظم گورڈن براؤن نے دیا ہے کیونکہ کرسمس پر امریکی طیارے کو مبینہ طور پر اڑانے کی کوشش کرنے والے نائجیریا کے باشندے عمر فاروق عبدالمطلب نے تعلیم لندن میں حاصل کی تھی اور برطانیہ سے جانے کے بعد ان کے تعلق یمن میں القاعدہ سے قائم ہو گیا تھا۔

برطانوی وزرات داخلہ کے ترجمان کے مطابق ویزا پالیسی پر نظر ثانی کے بعد ویزوں کے اجراء میں خاطر خواہ کمی ہو گی لیکن انہوں نے ان اطلاعات کی تصدیق نہیں کی کہ غیر ملکی طالب علموں کے ویزوں میں ہزاروں کی تعداد میں کمی کی جا رہی ہے۔

نئے قوانین کے لیے کسی قانون سازی کی ضرورت نہیں ہو گئی اور اس کو آئندہ چند ہفتوں کے اندر لاگو کر دیا جائے گا۔ اس سے پہلے برطانیہ نے ویزے کے حصول کے طریقہ کار سے غلط طور پر فائدہ اٹھانے کے خدشے کے پیش نظر بھارت کے شمالی حصوں، بنگلہ دیش اور نیپال سے تعلیمی ویزوں کی درخواستیں وصول کرنا عارضی طور پر بند کر دی تھیں۔

برطانیہ نے گزشتہ سال ملک میں غیر ملکی طالب علموں کے لیے ایک نیا پوائنٹس بیس ویزا سسٹم متعارف کروایا تھا جس کے تحت امیدوار کو ملک میں داخلے کے لیے چالیس پوائنٹس حاصل کرنا ہوتے تھے۔ تاہم اس ویزا سسٹم پر حکومت کو تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا اور کہا گیا کہ اس نظام کے تحت مشتبہ دہشت گرد اور تارکین وطن برطانیہ آ سکتے ہیں۔

ایک بیان میں برطانوی وزیر داخلہ نے پہلے سے ہی سخت ویزا سسٹم کو مزید سخت کرنے پر کوئی معذرت خواہانہ رویا اختیار نہیں کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’ ہم نے پوائنٹس بیس ویزہ سسٹم اس لیے شروع کیا تھا کہ حالات کو دیکھتے ہوئے اس میں تیزی سے تبدیلی لائی جا سکے اور برطانیہ میں تعلیم کے خواہش مند طالب علموں پر مزید پابندیاں لگائی جا سکیں۔‘

’ ہم برطانیہ میں قانونی طریقے سے تعلیم حاصل کرنے کے لیے آنے والے سنجیدہ طالب علموں کو اب بھی خوش آمدید کہتے ہیں لیکن وہ جو یہاں تعلیم حاصل کرنے میں سنجیدہ نہیں بلکہ کام کر نے کے لیے آنا چاہتے ہیں ان کو اس بات پر کوئی شک نہیں رہنا چاہیے کہ ہم قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے ساتھ سختی سے پیش آئیں گے۔‘

نئے قوانین کے تحت طالب علم کو ایک ہفتے میں بیس گھنٹے کام کرنے کی بجائے دس گھنٹے کام کرنے کی اجازت ہو گی۔ اس کے یورپی برداری کے علاوہ غیر ملکی طالب علموں کی انگلش کا معیار ’ جی سی ایس ای‘ سے معمولی سا کم ہونا چاہیے جو کہ پہلے ابتدائی معیار کا تھا۔ ڈگری لیول سے نیچے کے طالب علموں کو کام کرنے کی اجازت نہیں ہو گی۔

نئے قوانین کے تحت ڈگری لیول سے کم درجے کے کورس کے لیے صرف اس وقت ویزا دیا جائے گا جب متعلقہ ادارہ جو نیا رجسٹر ہو گا وہ انتہائی قابل بھروسہ سپانسرز لسٹ کی گارنٹی دے گا۔