امریکی امداد میں چار ارب ڈالر کی کٹوتی

افغان صدر حامد کرزئی نے حکومتی اہلکاروں پر لگائے گئے کرپشن کے الزامات کی تردید کی ہے
،تصویر کا کیپشنافغان صدر حامد کرزئی نے حکومتی اہلکاروں پر لگائے گئے کرپشن کے الزامات کی تردید کی ہے

کرپشن کے الزامات کے بعد امریکی کانگریس کی سب کمیٹی نے افغان حکومت کے لیے امریکی امداد میں چار ارب ڈالر کٹوتی کی منظور دی ہے۔

یہ کارروائی ایک ایسے وقت عمل میں آئی ہے جب امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل میں یہ خبریں سامنے آئی ہیں کہ بھاری رقوم کو کابل کے بین الاقوامی ہوائی اڈے سے بیرونِ ملک منتقل کیا گیا ہے۔

افغانستان میں جاری فوجی کارروائیاں اور امدادی کام اس کٹوتی سے متاثر نہیں ہوں گے۔

تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ اس کٹوتی سے افغانستان میں جاری انفراسٹرکچر کے منصوبوں کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

کانگریس کی رکن اور بیرونی امداد کی منظوری دینے والی سب کمیٹی کی سربراہ نیٹا لوی نے مطالبہ کیا ہے کہ ماضی میں افغانستان کو امداد کی صورت میں دیئے گئے اربوں ڈالر کے فنڈ کا آّڈٹ کرایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ افغان حکومت کی مبینہ کرپشن کے بعد امریکی ٹیکس دہندگان کے پیسے کا جواز تلاش کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

’میں اس وقت تک افغان امداد کی مد میں ایک دھیلے کی بھی منظوری نہیں دوں گی جب تک مجھے یقین نہیں ہو جاتا کہ امریکی ٹیکس دہندگان کا پیسہ کرپٹ افغان حکام، منشیات فروشوں اور دہشت گردوں کے جیبوں میں نہیں جا رہا۔‘

افغان حکومت کی جانب سے کرپشن کے مسئلے سے عہدہ برآ ہونے کے سلسلے میں کیے جانے والے اقدامات کی روشنی میں امداد بحال بھی کی جا سکتی ہے۔

تاہم ریپبلکن رکن مارک کرک نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ اس کٹوتی سے اہم منصوبوں کا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے جبکہ اس سے جنگی کارروائیوں میں بھی کوئی خاطر خواہ مدد نہیں ملے گی۔

انہوں نے اس سلسلے میں قندھار الیکٹرک سسٹم کا ذکر کیا اور کہا کہ یہ علاقے کے عوام کے دل جیتنے کی طرف ایک اہم قدم ہے۔

افغان صدر حامد کرزئی نے حکومتی اہلکاروں پر لگائے گئے کرپشن کے الزامات کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ وہ اس سلسلے میس سخت اقدامات کریں گے۔

واشنگٹن میں بی بی سی کی نامہ نگار جین ابرائن کا کہنا ہے کہ امداد میں کٹوتی سے کرزئی حکومت کو یہ مضبوط پیغام جائے گا کہ اسے کرپشن کے مسئلے سے نپٹنے کے لیے مزید اقدامات کرنا ہوں گے۔

نامہ نگار کے مطابق اس کٹوتی سے دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی تعلقات متاثر ہوں گے۔