جنرل میکرسٹل کے ریٹائر ہونے کا ارادہ

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ جنرل سٹینلے میک کرسٹل نے فوج کو آگاہ کیا ہے کہ وہ ریٹائر ہونا چاہتے ہیں۔
جنرل میک کرسٹل افغانستان میں امریکی اور نیٹو فوج کے کمانڈر تھے انھیں اعلیٰ امریکی اہلکاروں پر تنقید کے بعد صدر براک اوباما نے گزشتہ بدھ کو برطرف کر دیا تھا۔
<link type="page"><caption> صدر اوباما نے جنرل میک کرسٹل کو برطرف کر دیا</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2010/06/100622_obama_angered.shtml" platform="highweb"/></link>
امریکی فوج کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ پیر کو جنرل میک کرسٹل نے فوج کو بتایا ہے کہ ان کا ارادہ ریٹائر ہونے کا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ جنرل میک کرسٹل نے ابھی تک اپنے منصوبے کے حوالے سے باقاعدہ طور پر درخواست نہیں دی ہے اس وجہ سے ابھی یہ واضح نہیں کہ وہ کس تاریخ سے فوج چھوڑ رہے ہیں۔
فوج سے ریٹائرمنٹ لینے کے عمل میں عمومی طور پر کئی ماہ لگ جاتے ہیں۔
پچپن سالہ جنرل میک کرسٹل نے فوج میں سیکنڈ لیفٹینٹ کے طور پر سنہ انیس سو چھہتر میں شمولیت اختیار کی تھی اور تیس سال میں ترقی کرتے ہوئے جنرل کے عہدے پر پہنچے تھے۔
جنرل میک کرسٹل نے رولنگ سٹون نامی میگزین کو دیے گیے ایک انٹرویو میں اوباما انتظامیہ کے اعلیٰ اہلکاروں اور افغانستان میں امریکی سفیر کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ جنرل میک کرسٹل کے انٹرویو پر صدر اوباما نے شدید غصے کا اظہار کیا تھا۔
جنرل میک کرسٹل کو برطرف کرنے بعد جنرل پیٹریئس کو افغانستان میں امریکی اور نیٹو افواج کا نیا کمانڈر مقرر کیا گیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی






















