افغانستان: برطانوی فوج سنگین سے واپس
افغانستان میں برطانوی فوج صوبہ ہلمند کے علاقے سنگین کا کنٹرول امریکی افواج کے حوالے کر کے وہاں سے نکل رہی ہے۔ برطانوی افواج دو ہزار ایک سے سنگین میں موجود رہی ہیں اور اس دوران وہاں اس کےننانوے فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔

بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ برطانوی فوج کے سنگین سے انخلاء کے بعد امریکی افواج اس علاقے کا کنٹرول سنھبال لے گئی۔
برطانوی فوج کے صوبہ ہلمند سے نکلنے کے فیصلے سے ان خدشات کو ہوا ملے گی کہ برطانیہ افغانستان میں اپنی فوجی موجودگی کو کم کرنے کے منصوبے پر عمل پیرا ہے۔
امید کی جا رہی ہے کہ برطانوی وزیرِ دفاع لیام فاکس پارلیمنٹ کو بتائیں گے کہ 2010 کے آخر تک برطانوی افواج کا سنگین کے علاقے سے مکمل طور پر انخلاء ہو جائے گا اور وہ اپنی توجہ صوبہ ہلمند کے مرکزی علاقے پر مرکوز کریں گی۔
برطانوی فوج کا اصرار ہے کہ اس کی افواج کا سنگین کے علاقے سے انخلاء اس کی پسپائی نہیں ہے بلکہ فوجی حکمت عملی کا نتیجہ ہے۔ برطانوی فوج کا کہنا ہے کہ چونکہ امریکی افواج اس علاقے میں موجود ہیں تو بہتر ہے کہ وہ ہی سنگین کا کنٹرول بھی سنھبالیں۔
.پچھلے مہینے برطانوی افواج نے صوبہ ہلمند کا کنٹرول بھی امریکی افواج کے حوالے کیا تھا۔
دو ہزار ایک سے ابتک افغانستان میں برطانیہ میں 312 فوجی ہلاک ہو چکے ہیں اور جن میں 99 سنگین کے علاقے میں ہلاک ہوئے ہیں۔
بعض مبصرین برطانوی فوج کی سنگین سے انخلاء کو اس کی پسپائی قرار دے رہے ہیں۔.
سنگین میں برطانوی افواج کو کمانڈ کرنے والے کرنل سٹیورٹ ٹوٹل نے بی بی سی کو بتایا کہ سنگین کے علاقے سے برطانوی افواج کا انخلاء ایک سوچا سمجھا فوجی فیصلہ ہے اور یہ کہنا کہ برطانوی افواج وہاں سے دم دبا کر بھاگ رہی ہیں قابل نفرت ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس سے پہلے برطانوی فوج قلعہ موسیٰ اور کاجکائی ڈیم کا علاقہ امریکی فوج کے حوالے کر چکی ہے۔.







