’عراق جنگ نے دہشگردی کا خطرہ بڑھایا‘

’عراق کی جنگ نے اس انتہا پسندانہ نظریے کو اجاگر کر دیا کہ مغرب اسلام کو مٹانے کی کوشش کر رہا ہے‘
،تصویر کا کیپشن’عراق کی جنگ نے اس انتہا پسندانہ نظریے کو اجاگر کر دیا کہ مغرب اسلام کو مٹانے کی کوشش کر رہا ہے‘

برطانیہ میں ایم آئی فائیو کی سابق سربراہ نے عراق جنگ سے متعلق ہونے والی انکوائری کے سامنے کہا ہے کہ عراق پر حملے کی وجہ سے برطانیہ میں دہشت گردی کا خطرہ بہت زیادہ بڑھ گیا تھا۔

انکوائری کے سامنے اپنے بیان میں بیرنس مینگھم بُلر نے کہا کہ اس واقعہ نے برطانیہ میں چند افراد کو ریڈیکل بھی بنا دیا۔

چنانچہ ان کا کہنا تھا کہ جب لندن میں جولائی سنہ دو ہزار سات کو ٹرینوں اور بس پر بم حملے ہوئے تو انھیں ’حیرت‘ نہیں ہوئی۔

بیرنس مینگھم بلر کا کہنا تھا کہ عراق کے بارے میں ملنے والی خفیہ اطلاعات ’اتنی زیادہ کافی‘ نہیں تھیں کہ اس وجہ بنا کر عراق کے خلاف کارروائی کی جاتی۔

انھوں نے کہا کہ عراق جنگ سے ایک برس قبل انھوں نے سرکاری اہلکاروں کو مشورہ دیا تھا کہ برطانیہ کو عراق سے بہت محدود سا خطرہ ہو سکتا ہے اور یہ کہ ان کا خیال ٹھیک نکلا۔

عراق جنگ کے بارے میں برطانیہ میں ہونے والی اس بڑی انکوائری میں عراق پر کارروائی سے پہلے جو کچھ ہوا اس کے بارے میں گواہیاں دی جا رہی ہیں اور ساتھ ساتھ اس جنگ کے نتائج پر بھی بات ہو رہی ہے۔

.ایم آئی فائیو کی سابق سربراہ نے جو سنہ دو ہزار دو سے سنہ دو ہزار سات تک اندرونِ ملک خفیہ سروس کی سربراہ رہیں، انکوائری کو بتایا کہ برطانیہ میں القاعدہ کی جانب سے دہشت گرد حملوں کا خطرہ عراق جنگ حتیٰ کہ گیارہ ستمبر کو امریکہ میں ہونے والے حملوں سے بھی پہلے کا تھا۔

’مگر سنہ دو ہزار تین میں مارچ کے مہینے میں عراق جنگ میں برطانوی شمولیت نے بلا شک و شبہہ دہشت گردی کے خطرے کی سطح کو بڑھا دیا۔‘

انھوں نے کہا کہ وہ بھی اس خیال کی حامل تھیں کہ عراق پر حملے سے برطانیہ دہشت گردی کی زد میں آ سکتا ہے اور انھوں نے تب کے ہوم سیکریٹری ڈیوڈ بلنکٹ سے اس سلسلے میں بات بھی کی تھی۔ تاہم انھیں یاد نہیں کہ یہ مسئلہ سابق وزیرِ اعظم ٹونی بلیئر کے ساتھ زیرِ بحث آیا یا نہیں۔

مینگھم بلر نے تسلیم کیا کہ سنہ دو ہزار چار کے بعد برطانوی شہری کس حد تک دہشت گردی کی کارروائیوں میں شریک ہو جائیں گے، ایم آئی فائیو اس کا پہلے سے اندازہ نہیں کر سکی۔ ’عراق کی جنگ نے اس انتہا پسندانہ نظریے کو اجاگر کر دیا کہ مغرب اسلام کو مٹانے کی کوشش کر رہا ہے۔ ہم نے بن لادن کو جہاد کی راہ دکھائی۔‘