چلی: تمام کان کن زندہ ہیں

چلی کے صدر سبزٹیان پینیرا نے کہا ہے کہ سین ہوزے کی کان میں سترہ روز سے پھنسے ہوئے تمام تینتیس کانکن زندہ ہیں۔
امدادی کارکنوں نے جب کان کے اندر معلومات حاصل کرنے کے لیے ایک پتلی ٹیوب کے ساتھ لگا ہوا کیمرا بھیجا تو انہیں اندر سے کھدائی کی آوازیں سنائیں دیں۔
جب اس ٹیوب کو باہر نکالا گیا تو اس میں ایک پرچی لگی ہوئی تھی جس پر لکھا تھا ’ہم تمام تینتیس لوگ خیریت سے ہیں‘۔
یہ کارکن کوپیاپو شہر کے قریب سین ہوزے نامی کان کے اندر دو ہزار تین سو فٹ نیچے کام کر رہے تھے جب اوپر کی جانب ایک بڑا پتھر گر گیا اور واپسی کا راستہ بند ہو گیا۔
گزشتہ روز تک ان کان کنوں کا کچھ پتہ نہیں چل پایا تھا اور ان کے بچنے کی امید ختم ہو چکی تھی۔
صدر پینیرا اس موقع پر کان پر موجود تھے اور انہوں نے کان کنوں کے زندہ ہونے کی خبر کا اعلان کیا۔ مسٹر پینیرا نے کہا کہ انہوں نے کیمرے کی فوٹیج دیکھی ہے جس میں کان کن کیمرے کی جانب ہاتھ ہلا رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’انہیں باہر نکالنے میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں لیکن چاہے جتنا بھی وقت لگے ہم انہیں نکال لیں گے‘۔
یہ کانکن سونے اور تانبے کی اس کان کے اندر ساڑھے چار میل دور دو ہزار تین سو فٹ گہرائی میں پھنسے ہوئے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی





















