’فیصل شہزاد کے ساتھی گرفتار‘

فیصل شہزاد
،تصویر کا کیپشناسلام آباد سے گرفتار ہونے والے ملزموں میں سے ایک کے چچا نے کچھ دن قبل اپنے بھتیجے کے اغوا کا مقدمہ اسلام آباد میں درج کروایا تھا

اسلام آباد پولیس کے حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ اُنہوں نے امریکہ کے شہر نیویارک کے ٹائم سکوائر میں بم دھماکہ کرنے کی کوشش کے الزام میں گرفتار فیصل شہزاد کے تین ساتھیوں کو اسلام آباد ہائی وے سے حراست میں لیا ہے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ان تینوں افراد کا ملزم فیصل شہزاد کے ساتھ قریبی رابطہ رہا ہے اور یہ افراد اُس کو ’مالی معاونت‘ بھی فراہم کرتے رہے ہیں۔

پولیس حکام نے یہ نہیں بتایا کہ گرفتار ہونے والے افراد سے کچھ برآمد ہوا ہے یا نہیں۔

تیس سالہ پاکستانی نژاد فیصل شہزاد جو امریکی شہری بھی ہیں ان کے خلاف ٹائمز سکوائر میں ناکام بم کی تنصیب، وسیع تباہی پھیلانے کے منصوبے اور دہشتگردی کی پاکستان میں تربیت حاصل کرنے جیسے الزمات کے مقدمے کی سماعت امریکہ کی ایک وفاقی عدالت میں ہو رہی ہے۔

گرفتار ہونے والوں میں سے ایک ملزم کے اغوا کا مقدمہ اسلام آباد کے ایک تھانے کوہسار میں بھی درج ہے جو چھ مئی سنہ دوہزار دس کو درج کروایا گیا تھا۔ اغوا کا یہ مقدمہ ملزم کے چچا نے درج کروایا تھا جس میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ چند نامعلوم مسلح افراد نے ان کے بھتیجے کو بلیو ایریا سے اغوا کرلیا ہے۔

اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق پولیس ذرائع کے مطابق دیگر دو ملزمان بھی کچھ عرصہ سے لاپتہ تھے تاہم اُن کے گھر والوں کو بھی اُن کے بارے میں کوئی علم نہیں تھا کہ وہ کہاں پر ہیں۔

فیصل شہزاد
،تصویر کا کیپشنفیصل شہزاد پاکستانی فضائیہ کے ایک ریٹائرڈ اعلی افسر کے بیٹے ہیں

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ان ملزمان کا تعلق اسلام آباد کے سیکٹر جی نائن سے ہے جبکہ ان افراد کی گرفتاری اسلام آباد کے نواحی علاقے سہالہ کے قریب سے ڈالی گئی ہے۔

متعلقہ تھانے کے ایس ایچ او محمد ارشد کا کہنا ہے کہ یہ افراد اسلام آباد ہائی وے پر ٹیکسی کے انتظار میں کھڑے تھے کہ پولیس نے اُنہیں گرفتار کرلیا۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ اس بات کو مسترد نہیں کیا جاسکتا کہ یہ تینوں ملزمان خفیہ ایجسنیوں کی تحویل میں رہے ہوں۔ پولیس نے ان افراد کے خلاف انسداد دہشت گردی کے تحت مقدمہ درج کرکے اُنہیں جیل بھجوا دیا ہے۔