’ایرانی خاتون کے معاملے میں مداخلت بند کریں‘

’ہم اس طرح کے واقعات کی مذمت کرتے ہیں جن کا کسی بھی مذہبی یا اخلاقی ضابطے کے تحت کوئی جواز نہیں بنتا۔‘
،تصویر کا کیپشن’ہم اس طرح کے واقعات کی مذمت کرتے ہیں جن کا کسی بھی مذہبی یا اخلاقی ضابطے کے تحت کوئی جواز نہیں بنتا۔‘

ایران کی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ غیر ملکی طاقتیں اس ایرانی خاتون کے معاملے میں مداخلت بند کریں جسے سنگساری کی سزا سنائی گئی ہے۔

وزارت کے ایک ترجمان نے کہا کہ سکینہ آشتیانی کا مسئلہ ’حقوقِ انسانی کا مسئلہ‘ نہیں بننا چاہیے۔ ’اشتیانی پر قتل اور ناجائز جنسی تعلقات کا الزام ہے جس کی سزا موت یا پھر عمر قید ہے۔‘

اس سزا سنائے جانے کے بعد سے دنیا بھر میں یہ معاملہ ایران کے لیے تنقید کا باعث بن گیا ہے اور تازہ ترین واقعہ میں ای سی کے صدر جو مینیوئل بروسو نے اس سزا کو ’اتنی وحشیانہ کہ لفظوں میں بیان نہیں ہو سکتی‘ قرار دیا ہے۔

فرانس میں بات کرتے ہوئے بروسو نے کہا: ’ہم اس طرح کے واقعات کی مذمت کرتے ہیں جن کا کسی بھی مذہبی یا اخلاقی ضابطے کے تحت کوئی جواز نہیں بنتا۔‘

لیکن تہران میں وزارتِ خارجہ نے مغربی تشویش کو مسترد کر دیا ہے اور کہا ہے ’بدقسمتی سے مغرب ایک ایسی عورت کا دفاع کر رہا ہے جس پر قتل اور ناجائز جنسی تعلقات کا مقدمہ چلا ہے۔ ’اگر قاتلوں کی رہائی حقوقِ انسانی کا ہی مسئلہ ہے تو پھر یورپ کو چاہیے کہ اپنے ملک کی جیلوں سے تمام کے تمام قاتلوں کو رہا کر دے۔‘

تینتالیس سالہ سکینہ اشتیانی کو جو دو بچوں کی ماں ہیں، ناجائز جنسی تعلقات اور شوہر کے قتل کے الزام کے تحت سنگساری کی سزا سنائی گئی تھی۔ تاہم بیرونی دنیا میں اس سزا پر احتجاج کے بعد خبریں آئی تھیں کہ شاید ایران نے سزا پر عارضی طور پرعمل درآمد روک دیا ہے۔ وزارتِ خارجہ کے ترجمان کے مطابق ان کے مقدمے پر اس وقت سپریم کورٹ نظرِ ثانی کر رہی ہے۔

اشتیانی کو سنائی جانے والی سزا پر شدید ردِ عمل کا اظہار کرتے ہوئے فرانس کے وزیرِ خارجہ نے کہا تھا کہ وہ ایرانی خاتون کو بچانے کے لیے جو بھی ممکن ہو کرنے کو تیار ہیں۔

فرانسیسی وزیر نے کہا تھا: ’اگر مجھے اس خاتون کو بچانے کے لیے تہران جانا پڑا تو میں تہران بھی چلا جاؤں گا‘۔ سکینہ اشتیانی کو اس سال جولائی میں سنگساری کی سزا سنائی گئی تھی جسے کچھ دنوں بعد عارضی طور پر معطل کر دیا گیا تھا کیونکہ دنیا بھر میں اس سزا پر شور مچ گیا تھا۔

فرانس کے وزیرِ خارجہ برنڈ کوچنر نے خاتون کو بچانے کے لیے سب کچھ کرنے کی بات پیرس میں سکینہ اشتیانی کے وکیل سے ملاقات کے بعد کہی تھی۔ انھوں نے کہا کہ ’سکینہ اشتیانی کا معاملہ میرے لیے ذاتی حیثیت اختیار کر گیا ہے‘۔

گزشتہ سنیچر کو اشتیانی کے صاحبزادے سجاد نے کہا تھا کہ ایک ایرانی جج نے ان کی والدہ کو ننانوے کوڑوں کی سزا سنائی ہے کیونکہ ’سکینہ اشتیانی نے ایک تصویر کے ذریعے اخلاقی کرپشن کی۔‘ یہ تصویر ایک برطانوی اخبار میں شائع ہوئی تھی اور اس میں بظاہر اشتیانی کو سر ڈھانپے بغیر دکھایا گیا ہے۔

یہ تصویر اٹھائیس اگست کو چھپی تھی لیکن کئی دن بعد ٹائمز اخبار نے یہ کہہ کہ معذرت کی تھی کہ تصویر اشتیانی کی نہیں بلکہ کسی اور خاتون کی تھی۔

مئی دو ہزار چھ میں ایک ایرانی عدالت نے اشتیانی کو اپنے شوہر کے مرنے کے بعد دو افراد کے ساتھ ناجائز جنسی تعلق کا مرتکب قرار دیا تھا۔ انھیں ننانوے کوڑوں کی سزا سنائی گئی تھی۔

تاہم اسی سال ستمبر میں اشتیانی کے شوہر کے قتل کے سلسلے میں ایک شخص کے خلاف مقدمے کی سماعت کے دوران، کسی دوسری عدالت میں اشتیانی کے خلاف ناجائز جنسی تعلقات کا مقدمہ شروع کر دیا گیاتھا جس کی بنیاد ان واقعات پر رکھی گئی تھی جو اشتیانی کے شوہر کے قتل سے پہلے پیش آئے۔

اشتیانی نے اس سلسلے میں ایک بیان بھی دیا تھا جو انھوں نے یہ کہہ کر واپس لے لیا کہ یہ بیان انھوں نے دباؤ کے نتیجے میں دیا تھا۔ تاہم انھیں شادی شدہ ہونے کے باوجود ناجائز جنسی تعلقات رکھنے کے الزام پر سنگساری کی سزا سنائی گئی۔