ایران: بی بی سی کے لیے انٹرویو پر جیل

فائل فوٹو، ایماد بگہی
،تصویر کا کیپشنان کا یہ انٹرویو دسمبر دو ہزار نو میں آیت اللہ منتظری کی موت کے بعد جاری کیا گیا تھا

ایران میں انسانی حقوق کی مہم کے ایک نمایاں کارکن کو بی بی سی کے لیے انٹرویو کرنے کے جرم میں چھ سال جیل کی سزا سنائی گئی ہے۔

انچاس سالہ ایماد بگہی نے یہ انٹرویو بی بی سی فارسی ٹی وی چینل کے لیے کیا تھا۔

ایماد بگہی کی ویب سائٹ پر جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ان پر اسلامی نظام کے خلاف پروپیگنڈا کرنے کا الزام ہے۔

عدالت نے ان کے جرم کو ایران میں اصلاحات کے مرکزی رہنما مرحوم گرینڈ آیت اللہ حسین علی منتظری سے بی بی سی کے لیے ایک انٹرویو کرنے سے منسوب کیا۔

ان کا یہ انٹرویو دسمبر دو ہزار نو میں آیت اللہ منتظری کی موت کے بعد جاری کیا گیا تھا، آیت اللہ کے جنازے پر ایران بھر میں حکومت کے خلاف احتجاج کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔

ایماد کو اس کے چند روز بعد گرفتار کیا گیا تھا لیکن پھر جون میں ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔

ایماد آزاد ہی رہے کیونکہ ان کی اپیل ایک عدالت میں زیر سماعت تھی۔

جمعرات کو ایک اپیل کورٹ نے ان کی سزا کو برقرار رکھا ہے۔

جولائی میں ایک دوسری کیس میں انھیں ایک سال کی قید اور سیاسی سرگرمیوں میں پانچ سال تک حصہ نہ لینے کی سزا سنائی گئی تھی۔

ایماد بگہی پر الزام تھا کہ قیدیوں کے حقوق کے لیے ان کا کام قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔

دو ہزار نو میں ایماد بگہی کو ایران میں سزائے موت اور حقوق کی دوسری سرگرمیوں کی اطراف میں مارٹن اینلس ایوارڈ سے نوازا گیا تھا۔

انھوں نے گزشتہ دہائی میں ساڑھے چار سال جیل میں گزارے اور وہ دل اور گردے کے مرض میں مبتلا ہیں۔