وکی لیکس: ’اتحادیوں سے تعلقات خراب ہونے کا خدشہ‘

امریکہ کا کہنا ہے کہ مستقبل قریب میں وکی لیکس کی جانب سے جاری کیے جانے والے خفیہ دستاویزات سے اس کے اتحادی ممالک کے ساتھ تعلقات خراب ہو سکتے ہیں اور اس ضمن میں حلیف ممالک کو اعتماد میں لیا جا رہا ہے۔
یہ بات امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان پی جے کرولی نے جمعرات کو پریس بریفنگ کے دوران کہی۔
<link type="page"><caption> عراق میں تشدد کونظر انداز کیا گیا: وکی لیکس</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2010/10/101022_wikileaks_iraq_report_as.shtml" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> ’پاکستان اب بھی طالبان کی مدد کر رہا ہے‘</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2010/07/100725_wikileaks_afghan_war_details.shtml" platform="highweb"/></link>
امریکی خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق ترجمان نے کہا کہ وکی لیکس اس بار خفیہ امریکی سفارتی دستاویزات کو منظرِ عام پر لانے کی تیاریاں کر رہا ہے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل وکی لیکس نے افغانستان اور عراق پر خفیہ امریکی دستاویزات جاری کیے تھے۔
امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ’ان سفارتی دستاوزات کے منظرِ عام پر آنے سے امریکہ کو نقصان پہنچے گا۔ ان دستاویزات کی وجہ سے ہمارے سفارت کاروں اور اتحادی ممالک کی حکومتوں کے روابط میں کشیدگی پیدا ہو جائے گی۔‘
انہوں نے مذید کہا کہ امریکی سفارت کاروں نے حکومتوں کو ان دستاویزات کے منظرِ عام پر آنے کے حوالے سے آگاہ کرنا شروع کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا اس بات کا امریکی کانگریس کو بھی بتا دیا گیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
برطانوی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق ان دستاویزات میں مختلف ممالک کے سربراہان کی بدعنوانیوں میں ملوث ہونے کے بارے میں معلومات ہیں۔
جن ممالک کے سربراہان کے بارے میں معلومات ہیں ان میں روس، افغانستان اور وسطی ایشیا کے مالک شامل ہیں۔
اے پی کے مطابق وکی لیکس یہ دستاویزات اس ہفتے کے اختتام تک جاری کردے گا۔
پی جے کرولی نے کہا کہ وزارت خارجہ کو بہت پہلے سے معلوم ہے کہ وکی لیکس کے پاس یہ دستاویزات ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان دستاویزات کے منظرِ عام پر آنے سے امریکہ اور اتحادی ممالک کے روابط کس حد تک خراب ہوں گے اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے کیونکہ یہ نہیں معلوم کہ وکی لیکس کون سے دستاویزات منظرِ عام لاتا ہے۔
ترجمان نے کہا کہ یہ دستاویزات وزارت خارجہ اور امریکی سفارتخانوں کے درمیان کیبل پیغامات پر مبنی ہیں۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق امریکی وزارت دفاع کے ترجمان کرنل ڈیو کا کہنا ہے کہ امکان ہے کہ وکی لیکس یہ دستاویزات اس ہفتے کے آخر یا اگلے ہفتے کے شروع میں منظرِ عام پر لے آئے گا۔






















