وکی لیکس کے بانی کے وارنٹ

سویڈن کی حکومت کے ایک اہلکار نے کہا ہے کہ ان کا ملک وکی لیکس کے بانی جولین اسانش کی گرفتاری کے لیے انٹرپول سے رابطہ کرے گا۔ سویڈن نے جولین اسانش کے ورانٹ جاری کرنے کا فیصلہ ایک جج کے اس فیصلے کے بعد کیا جس میں حکم دیا گیا ہے کہ جولین اسانش کے خلاف ریپ کے الزامات کی تحقیقات کی جائے۔
افغان جنگ سے متعلق دستاویزات کوافشا کرنے کے بعد جولین اسانش پر مبینہ جنسی جرائم کی تحقیقات شروع کی گئی تھی لیکن پراسیکیوٹر نےصرف ایک روز بعد ہی تحقیقات کر ختم کر دی تھیں۔ جولین اسانش الزامات کی تردید کرتے ہیں اور ان کا موقف ہے کہ یہ سب کچھ ان کی کردار کشی کی مہم کا حصہ ہے۔
<link type="page"><caption> ’امریکی سلامتی خطرے میں ڈالی گئی‘</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2010/07/100729_usa_fbi.shtml" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> پاکستان اب بھی طالبان کی مدد کر رہا ہے: ویکی لیکس </caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2010/07/100725_wikileaks_afghan_war_details.shtml" platform="highweb"/></link>
اس سے پہلے سویڈن کی حکومت نے جولین اسانش کو سویڈن میں رہائش کی اجازت دینے سے انکار دیا تھا۔
سویڈش امیگریشن بورڈ کی سربراہ نے جولین اسانش کی درخواست کو رد کرنے کی وجوہ بیان کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ اس کی وجوہات خفیہ ہیں۔
وکی لیکس کے بانی ایک آسٹریلوی شہری ہیں لیکن وہ آزادی اظہار کے کھلے قوانین کی وجہ سے سویڈن میں سکونت اختیار کرنے کے خواہشمند تھے اور انہوں نے اگست میں سویڈن حکام کو مستقل سکونت کی اجازت دینے کی درخواست دائر کی تھی۔
سویڈن کی حکومت کی طرف سے جولین اسانش کی درخواست کو ایک ایسے وقت مسترد کیا تھا جب وکی لیکس عراق جنگ کے بارے میں چار لاکھ دستاویزات کو منظر عام پر لانےکی تیاری میں مصروف تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جولائی میں وکی لیکس نےافغان جنگ کے حوالے سے ہزاروں دستاویزات کو منظر پر لایا تھا جس کے بارے میں امریکی فوج کا کہنا تھا کہ اس سے کئی امریکی اور افغان شہریوں کی زندگیوں کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔






















