’دھمکیاں نہیں‘، امریکہ کو چین کا جواب

اگلے ہفتے سینیئر امریکی سفارتکاروں کی ایک ٹیم مزید بات چیت کے لیے بیجنگ پہنچے گی جس میں صورتِ حال پر تفصیلی گفتگو ہوگی
،تصویر کا کیپشناگلے ہفتے سینیئر امریکی سفارتکاروں کی ایک ٹیم مزید بات چیت کے لیے بیجنگ پہنچے گی جس میں صورتِ حال پر تفصیلی گفتگو ہوگی

چین نے اپنے خلاف امریکی تنقید کا جواب دیتے ہوئے جس میں واشنگٹن نے بیجنگ پر اپنے حلیف شمالی کوریا کو ’لگام نہ ڈالنے‘ کا الزام لگایا تھا، کہا ہے کہ فوجی دھمکیوں سے جزیرہ نما کوریا میں کشیدگی ختم نہیں ہو سکتی۔

اس سے قبل امریکہ کے اہم ترین جنرل مائک مولن نے چین کو شمالی کوریا کے ’غیر محتاط رویے‘ کا ذمہ دار قرار دیا تھا۔

انہی بڑھتی ہوئی کشیدگیوں کے دوران چین کے ایک سرکردہ سفارت کار نے شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ال سے پیانگ یانگ میں ملاقات کی ہے۔

حکومتی میڈیا کا کہنا ہے کہ چین اور شمالی کوریا کے درمیان اتفاقِ رائے ہوگیا ہے لیکن اس کی کوئی تفصیل نہیں بتائی گئی۔

جنوبی کوریا کے جزیرے یون پیانگ پر جو متنازع سمندری سرحد کے قریب واقع ہے، شمالی کوریا کی گولا باری کے بعد سے جس میں چار افراد ہلاک ہوگئے تھے، امریکہ چین پر مسلسل دباؤ ڈال رہا ہے۔

جنوبی کوریا نے دھمکی دی تھی کہ اگر شمالی کوریا نے مزید حملے کیے تو وہ جوابی کارروائی کرتے ہوئے فضائی حملہ کرے گا۔

مائک مولن نے ٹوکیو میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ شمالی کوریا کی جانب سے اشتعال انگیز کارروائیاں جن کا دورانیہ بڑھ گیا ہے، خطرے کو بڑھا رہی ہیں اور انھیں روکنے کے لیے اقدامات کی ضرورت ہے۔ صورتِ حال کی نزاکت کا سبب شمالی کوریا کا غیر محتاط رویہ ہے جس میں چین میں بیٹھے اس کے دوست اضافہ کر رہے ہیں۔‘

چین کی وزارتِ خارجہ کی ترجمان جیانگ یو نے ایک اخباری کانفرنس میں سوال اٹھایا کہ امریکی جنرل مائیک مولن نے خطے میں امن و استحکام کے لیے کیا کیا ہے۔

ترجمان نے امریکی جنرل کے ان جملوں کو الزام قرار دیا ہے کہ چین شمالی کوریا کی حمایت کر رہا ہے۔

اگلے ہفتے سینیئر امریکی سفارتکاروں کی ایک ٹیم مزید بات چیت کے لیے بیجنگ پہنچے گی جس میں صورتِ حال پر تفصیلی گفتگو ہوگی۔

چین شمالی کوریا کو خوراک اور ایندھن فراہم کرتا ہے، اور اس نے ابھی تک جنوبی کوریا جزیرے پر گولا باری کی مذمت کرنے سے انکار کیا ہے۔ یہ گولا باری انیس سو تریپن میں کوریاوں میں جنگ بندی کے بعد اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے۔ اس جنگ میں چین شمالی کوریا کے ساتھ تھا۔

مائیک مولن نے کہا کہ امریکہ، جاپان اور جنوبی کوریا کو شمالی کوریا کے خلاف متحد ہونا چاہیے۔