سویڈش حکام سے انصاف کی امید نہیں: اسانژ

وکی لیکس ویب سائٹ کے بانی جولین اسانژ کا کہنا ہے کہ اگر انہیں سویڈن کے حوالے کیا گیا تو وہاں انہیں انصاف ملنے کی کوئی امید نہیں۔
جولین اسانژ پر سویڈن میں دو خواتین سے جنسی زیادتی کا الزام ہے۔
انہیں برطانیہ میں حراست میں لیا گیا تھا اور سویڈن کے حوالے کیے جانے کی درخواست پر فیصلے تک انہیں ضمانت پر رہائی کے بعد برطانیہ میں رہنے کا پابند کیا گیا ہے۔
مشرقی انگلینڈ میں اپنی رہائش گاہ پر بی بی سی کو ایک انٹرویو میں انتالیس سالہ اسانژ نے کہا کہ انہیں خدشہ ہے کہ اگر برطانوی حکام انہیں سویڈش حکام کے حوالے کر دیتے ہیں تو ان کے باہر کی دنیا سے رابطے پر پابندی لگا دی جائے گی۔
انہوں نے جنسی زیادتی کے الزامات کو رد کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خلاف سیاسی مقاصد کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان پر جن دو خواتین سے جنسی زیادتی کا الزام لگایا گیا ہے، انہوں نے پولیس سے ابتدائی طور پر مشورہ لینے کے لیے رجوع کیا تھا نہ کہ شکایت کرنے کے لیے۔
جولین اسانژ نے کہا کہ’مجھے سویڈن واپس جانے کی ضرورت نہیں۔ قانون کہتا ہے کہ میرے کچھ حقوق ہیں جن کے تحت میرا دنیا بھر میں ایسے وکلائے استغاثہ کو جواب دینا ضروری نہیں‘۔
انہوں نے کہا کہ سویڈش حکام نے انہیں ملک بدر کرنے کی جو درخواست دی ہے اس کے تحت سویڈن میں ان کی زبان بندی کر دی جائے گی اور ان کے سویڈش وکیل کو بھی اس مقدمے کے بارے میں بولنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کے مطابق ’یہ وہ حالات نہیں جن کے تحت انصاف ممکن ہوگا‘۔
انہوں نے اس خیال کو بھی رد کر دیا کہ وکی لیکس ویب سائٹ کی جانب سے امریکی سفارتی دستاویزات افشاء کیا جانا ایک خطرناک اقدام تھا۔ انہوں نے کہا کہ وکی لیکس سیاسی اصلاح کی کوشش کر رہی ہے اور وہ خود ایک ’قابل شخصیت ہیں جو لوگوں کو نشانہ نہیں بنا رہے بلکہ انہیں نشانہ بننے سے بچا رہے ہیں‘۔





















