خاتون سیاسی کارکن کی گرفتاری پر مظاہرہ

یمن میں ایک خاتون سیاسی کارکن کی گرفتاری کے خلاف مظاہرے ہو رہے ہیں۔
یہ وہی خاتون ہیں جنہوں نے ان مظاہروں میں اہم رول ادا کیا تھا جن میں یمن کے لوگوں سے اپیل کی جا رہی تھی کہ وہ تیونس کے صدر کا تختہ الٹنے جیسی بغاوت میں شامل ہو جائیں۔
یمن کے دارالحکومت ثناء میں یونیورسٹی کے باہر سینکڑوں طالب علموں نے سیاسی تبدیلی کا مطالبہ کرتے ہوئے مظاہرے میں شرکت کی۔
اس کے علاوہ صحافیوں نے بھی سیاسی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے مارچ کیا۔
اسلامی گروپ ’اصلاح‘ کی کارکن توکل کامران کو سنیچر کی رات گرفتار کر لیا گیا۔ ان کے شوہر کا کہنا ہے کہ ان پر بلا اجازت مظاہرے کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ انہیں اس بارے میں بالکل بھی علم نہیں کہ انہیں کہاں لے جایا گیا ہے۔
















