یمن: صدر کا امریکی دورہ ملتوی

،تصویر کا ذریعہAP
یمن کے صدر علی عبداللہ صالح نے ملک میں اپنے خلاف ہونے والے مظاہروں کے بعد واشنگٹن کا طے شدہ دورہ ملتوی کر دیا ہے۔
یمن کی سرکاری خبر رساں ایجنسی صبا کے مطابق صدر کا دورہ جو اس ماہ ہونا تھا خطے کی صورتحال کی وجہ سے اب تاخیر سے ہوگا۔
اس سے پہلے دارالحکومت صنعاء میں حکومت مخالف مظاہرین کا پولیس کے ساتھ تصادم ہوا جس میں کئی مظاہرین زخمی ہو گئے۔
اطلاعات کے مطابق صنعاء میں مظاہرین نے صدر علی عبداللہ صالح کے خلاف مظاہرہ کیا۔ مظاہرین کا پولیس کے ساتھ تصادم میں کئی افراد زخمی ہوئے ہیں اور درجنوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
مصر میں حسنی مبارک کے استعفے کے بعد یمن میں حکومت کے خلاف مظاہروں میں تیزی آئی ہے۔
اپوزیشن نے صدر صالح کے اس اعلان کا خیر مقدم کیا ہے کہ وہ آئندہ ہونے والے صدارتی انتخابات میں حصہ نہیں لیں گے۔ تاہم چند کا کہنا ہے کہ اصلاحات کا عمل ابھی شروع کیا جائے۔
یاد رہے کہ سنیچر کے روز بھی صنعاء میں ہزاروں لوگوں نے حکومت کے خلاف مظاہرہ کیا تھا۔
مظاہرین نے یمن کے صدر علی عبداللہ صالح کے خلاف نعرے بازی کی، ان سے اقتدار چھوڑنے کو کہا اور خود سے انقلاب برپا کرنے کی بات کہی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سنیچر کو صنعاء یونیورسٹی کے پاس یمنی صدر کے حامیوں نے چھوٹے مظاہرین کے گروپ پر حملہ کر دیا تھا جس کے بعد ان مظاہروں میں مزید شدت پیدا ہوگئي۔
عینی شاہدین کے مطابق کچھ لوگ جو چاقو اور ڈندوں سے لیس تھے، تقریباً تین سو حکومت مخالف مظاہرین پر حملہ کر کے انہیں زبردستی مظاہرہ روکنے پر مجبور کیا جس سے ماحول گرم ہوگیا۔
مظاہرین نے نعرہ بلند کیا ’عوام حکومت کا خاتمہ چاہتے ہیں، مصری انقلاب کے بعد اب یمن کا انقلاب۔‘
سنیچر کی صبح تقریباً تین سو طلباء نے یونیورسٹی کے پاس حکومت کے خلاف احتجاج شروع کیا لیکن یہ تعداد بڑھتے بڑھتے ہزاروں تک پہنچ گئی۔
یہ مظاہرہ مصر کے سفارتخانے کی طرف مارچ کرنے کے لیے بڑھا لیکن راستے میں حکومت حامی مظاہرین سے سامنا ہوا اور وہیں ٹکراؤ کی صورت حال پیدا ہوگئي۔
دونوں گروہوں نے ایک دوسرے پر جوتے پھینکے، کچھ نے ڈنڈے برسائے تو کچھ نے ہاتوں سے مقابلہ کیا۔
’ہیومن رائٹس واچ‘ کا کہنا ہے کہ جمعہ کے روز حسنی مبارک کے استعفے کے بعد جب یمن میں بعض لوگوں نے جشن منانے کی کوشش کی تو حکومت نے دس افراد کو گرفتار کر لیا تھا۔
مشرق وسطیٰ میں تنظیم کی ڈائریکٹر سارہ لیہ وسٹن کا کہنا ہے کہ ’یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ پر امن مظاہرین کو تحفظ فراہم کرے۔ اس واقعے سے تو ایسا لگتا جیسے کہ سکیورٹی فورسز نے مسلح افراد کو مظاہرین پر حملے کے لیے تیار کیا تھا۔‘ حکومت کی جانب سے اس واقعے کے متعلق ابھی کچھ بھی نہیں کہا گیا ہے۔
یمن کے صدر علی عبداللہ صالح نے عرب ممالک میں اٹھتی عوامی بے چینی کو دیکھتے ہوئے کہا تھا کہ وہ سن دو ہزار تیرہ میں اپنے عہدے کی مدت ختم ہونے کے بعد اس میں توسیع نہیں چاہیں گے۔
تین دہائیوں سے اقتدار میں رہنے والے علی عبد اللہ صالح نے یہ بھی وعدہ کیا ہے کہ وہ اقتدار اپنے بیٹے کو منتقل نہیں کریں گے۔ صالح انیس سو اٹھہتر میں شمالی یمن کے صدر کی حیثیت سے اقتدار میں آئے تھے اور انیس سو نوے میں شمالی اور جنوبی یمن کے اتحاد کے بعد وہ نئے ملک کے حکمران قرار پائے تھے۔





















