بریقہ پر باغیوں کا دوبارہ قبضہ

اقوامِ متحدہ کی سیکریٹری جنرل بانکی مون کے مطابق لبیا میں تشدد کے واقعات میں ایک ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشناقوامِ متحدہ کی سیکریٹری جنرل بانکی مون کے مطابق لبیا میں تشدد کے واقعات میں ایک ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں

لیبیا میں باغیوں کی فوج نے کرنل معمر قدافی کی حمایتی فوج کا حملہ پسپا کرتے ہوئے مشرقی شہر بریقہ کا کنٹرول پھر سے حاصل کر لیا ہے۔

بریقہ پر دو ہفتے قبل قذافی حکومت کے خلاف احتجاج کرنے والوں نے قبضٰہ کر لیا تھا اور بدھ کو دو ہفتے بعد پہلی بار کرنل قذافی کی فوج شہر کے مشرقی حصوں میں داخل ہو گئی تھی۔ تاہم باغیوں نے اس پیشقدمی کو روک دیا اور شہر پر پھر سے کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔

بی بی سی کے جان سمپسن نے بریقہ سے خبر دی ہے کہ ایسے آثار ہیں کہ بریقہ سے کرنل قذافی کی حمایتی فوج چلی گئی ہے۔

اس سے قبل معمر قذافی کی حمایتی فوج نے ملک کے شمال مشرقی شہر بریقہ پر حملہ کیا اور ریاستی ٹی وی کے مطابق فوج نے شہر کا کنٹرول واپس لے لیا ۔ تاہم اپوزیشن کا کہنا تھا کہ سرکاری حملہ پسپا کر دیا گیا ہے۔

بریقہ میں تیل کی ایک بڑی تنصیب واقع ہے۔

ادھر ٹی وی پر خطاب میں کرنل قذافی نے لبیا میں بدامنی کا الزام پھر غیر ملکی میڈیا اور القاعدہ پر عائد کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ لبیا اور اس کے تیل کے ذخائر کو کنٹرول کرنے کی ایک سازش ہو رہی ہے۔ انھوں نے اقوامِ متحدہ سے کہا کہ لبیا میں حقائق جاننے کے لیے مشن یا فیکٹ فائنڈنگ مشن بھیجے۔

دریں اثناء عرب لیگ کے سیکریٹری جنرل امر موسیٰ نے لبیا کی صورتِ حال کو تباہ کن قرار دیا ہے جو ’قابلِ قبول نہیں ہے۔‘

عرب وزرائے خارجہ کے ایک اجلاس کا افتتاح کرتے ہوئے، امر موسیٰ نے کہا کہ لبیا کے عوام کی آزادی کی خواہش کچلنے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔ عراقی وزیرِ خارجہ ہوشیار زبیری نے لبیا پر زور دیا کہ وہ اپنے لوگوں کے حقوق کا احترام کرنے کے لیے اقدامات کرے لیکن انھوں نے واضح کیا کہ عرب لیگ کے اراکین کا لبیا میں مداخلت کا کوئی ارادہ نہیں۔

قذافی کی طرف دار فوج نے عجدیبیہ کے شہر کے قریب بمباری بھی کی۔

کرنل قذافی نے ٹی وی پر اپنے خطاب میں کہا کہ وہ اس وقت تک لڑیں گے جب تک کہ ایک بھی مرد یا عورت موجود ہے۔ انھوں نے خبردار کیا کہ اگر مغربی فوجوں نے مداخلت کی تو لیبیا کے ہزاروں افراد ہللاک ہو جائیں گے۔

قذافی نے اقوامِ متحدہ سے کہا کہ وہ لیبیا میں تشدد کی تحقیقات کرے۔ انھوں نے کہا کہ اقوامِ متحدہ نے لیبیا کی مذمت پر مبنی ایک قرار داد منظور کی تھی جس میں ’جھوٹ‘ کا سہارا لیا گیا تھا۔

تاہم بی بی سی کے عالمی امور کے نامہ نگار پیٹر بائلز کہتے ہیں کہ ابھی یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا کرنل قذافی ملک میں کسی طرح کی تحقیقات کی اجازت دیں گے بھی یا نہیں۔

اقوامِ متحدہ کی سیکریٹری جنرل بانکی مون کے مطابق لیبیا میں تشدد کے واقعات میں ایک ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ان افراد کے لیے معافی نہیں ہوگی جنھوں نے انسانیت کے خلاف جرائم کیے ہیں۔

کرنل قذافی نے اپنے حمایتوں کے ایک گروہ سے بھی خطاب کیا جو ’خدا، معمر اور لیبیا‘ کے نعرے لگا رہے تھے۔

لیبیا کے رہنما نے کہا کہ وہ حیران ہیں کہ باہر کے ممالک میں ان کا نام لیا گیا ہے حالانکہ انھوں نے سنہ انیس سو ستتر میں، زمامِ اقتدار سنبھالنے کے آٹھ سال بعد، اقتدار عوام کے حوالے کر دیا تھا اور اب ان کے پاس ایسا کوئی منصب نہیں جس سے وہ استعفیٰ دیں۔