امریکی وزیر دفاع اچانک کابل میں

رابرٹ گیٹس
،تصویر کا کیپشنرابرٹ گیٹس افغانستان کے صدر حامد کرزئی سے ملاقات کریں گے

افغان صدرحامد کرزئی کے اس بیان پر کہ نیٹو کے ایک حملے میں بچوں کی ہلاکت کے بعد امریکی کمانڈر جنرل ڈیوڈ پیٹریس کی معافی کافی نہیں امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس کابل پہنچ گئے ہیں۔

رابرٹ گیٹس کا افغانستان کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب افغانستان اور مغربی اتحادیوں کے درمیان تعلقات میں کشیدگی پیدا ہو چکی ہے۔

نیٹو کے ایک حملے میں نو بچوں کی ہلاکت کے بعد اتوار کو کابل میں امریکہ کے خلاف مظاہرہ بھی کیا گیا تھا ۔ رابرٹ گیٹس افغانستان کے صدر حامد کرزئی سے ملاقات کریں گے۔

اس مہینے کے آخر میں صدر کرزئی افغانستان میں سکیورٹی کی ذمہ داری غیر ملکی افواج سے ملکی اداروں کے حوالے کیے جانے کے نظام الاوقات کا اعلان کریں گے۔ یہ عمل جولائی کے مہینے میں شروع ہونا ہے۔

یاد رہے کہ افغانستان میں کابینہ کے ایک اجلاس میں شریک جنرل ڈیوڈ پیٹریس سے صدر حامد کرزئی نے کہا تھا کہ ’افغان لوگوں کی طرف وہ چاہتے ہیں کہ شہریوں کی ہلاکتوں کو بند کیا جائے۔‘

’امریکہ اور افغانستان کے مابین تعلقات خراب ہونے کی ایک بڑی وجہ عام شہریوں کی ہلاکتیں ہیں۔‘ واضح رہے کہ منگل کو نیٹو افواج کے ایک حملے میں نو افغان بچے ہلاک ہو گئے تھے۔

بدھ کو جنرل ڈیوڈ پیٹریس نے کہا تھا کہ وہ اس واقعے پر معافی مانگتے ہیں جس میں نیٹو کے ہیلی کاپٹروں نے بارہ سال اور اس سے کمر عمر بچوں پر مزاحمت کار سمجھ کر فائرنگ کی دی۔‘

افغانستان میں عام شہریوں کے ہلاکتوں کے واقعات عوامی غصے میں اضافے کی ایک بڑی وجہ ہے جب کہ اسی وجہ سے افغان حکومت اور امریکہ کے تعلقات میں تناؤ پیدا ہوا ہے۔

اتوار ہی کو ایک سڑک کے کنارے نصب بم کے دھماکے میں پانچ بچوں سمیت بارہ افراد ہلاک ہو گئے۔