بریقہ پر پھر باغیوں کا قبضے کا دعویٰ

لیبیا کے شہر بریقہ میں باغی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے کرنل قدافی کی وفادار فوج کا حملہ پسپا کر دیا ہے اور شہر میں دوبارہ داخل ہوگئی ہے۔
اس سے قبل اتوار کو کرنل قدافی کی وفادار فوج نے باغیوں پر شدید بمباری کی تھی اور انھیں شہر سے پسپائی پر مجبور کر دیا تھا لیکن اب ان کا کہنا ہے کہ بنغازی سے بھیجے جانے والے ایک ایلیٹ یونٹ کی مدد باغیوں نے پھر بریقہ پر اپنا قبضہ جما لیا ہے۔
بریقہ لیبیا کا صنعتی شہر کہلاتا ہے جہاں کئی روز سے لڑائی ہو رہی ہے۔
اس سے قبل کرنل قدافی کی وفادار فوج نے باغیوں کے قبضے میں علاقے تک پیش قدمی کی تھی اور انھیں شہر سے باہر دھکیل دیا تھا۔ بھاری گولہ باری کی وجہ سے درجنوں لڑاکا باغی بریقہ میں اپنے گڑھ سے باہر نکلنے پر مجبور ہو گئے تھے۔
گزشتہ کچھ دنوں سے لیبیا کے باغیوں کو ہزیمت کا سامنا ہے اور سنیچر کو ان کے ہاتھ سے راس النوف کی بندرگاہ بھی نکل گئی۔
اسی دوران فرانس کی حکومت نے کہا ہے کہ وہ لیبیا پر نو فلائی زون قائم کرنے کے لیے عالمی برادری کو راغب کرنے کی غرض سے اپنی کوششیں تیز کر رہا ہے۔
ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ لیبیا میں حکام نے دارالحکومت طرابلس میں کئی لوگوں کو گرفتار کر لیا ہے۔

















