یمن میں صورتِ حال ابتر، جھڑپوں میں اضافہ

یمن میں مظاہرین

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنپیر کو تعز شہرمیں منتظمین اور طبی عملے کا کہنا تھا کہ سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے بیس احتجاجی مظاہرین ہلاک ہوئے

یمن کے دارالحکومت صنعاء میں صدر صالح کی فوجوں اور مسلح قبائل کے درمیان جھڑپوں میں تیزی آنے سے صورتِ حال مزید ابتر ہو گئی ہے۔ ہزاروں قبائلی جنگجو صنعاء کے شمال کی جانب بڑھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ کچھ قبائلی جنگجوؤں نے صنعاء کے شمال میں پیش قدمی کی ہے۔ قبائلی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ کئی جنگجو شیخ صادق الاحمر کی حمایت میں شہر کی جانب بڑھ رہے ہیں۔

ادھر صنعاء کے ہوائی اڈے پر آنے اور جانے والی پروازیں متاثر ہوئیں ہیں۔ لیکن اہلکاروں کا کہنا ہے کہ اب صورتِ حال نارمل ہوگئی ہے۔

صدر علی عبداللہ صالح عہدۂ صدارت چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہیں حالانکہ ان کے تینتیس سالہ دور کے خلاف گزشتہ کئی ماہ سے مظاہرے ہو رہے ہیں۔

گو مظاہرے پرامن رہے ہیں لیکن تجزیہ کار کہتے ہیں کہ قبائلی افراد اور حکومت کی افواج کے درمیان لڑائی سے خدشہ ہے کہ یمن خانہ جنگی کی طرف بڑھ جائے گا۔

واضع رہے کہ گزشتہ ہفتے دارالحکومت صنعاء میں پانچ دن جاری رہنے والی جھڑپوں کے بعد یمنی صدر اور ملک کے سب سے طاقتور قبیلے کے سردار جنگ بندی پر متفق ہو گئے تھے۔

اس سے پہلے گزشتہ روز پیر کو تعز شہرمیں منتظمین اور طبی عملے کا کہنا تھا کہ سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے بیس احتجاجی مظاہرین ہلاک ہوئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق فوج کو شہر میں چار ماہ سے جاری احتجاجی دھرنے کو ختم کرانے کے لیے بھیجا گیا تھا۔ یمن کے صدر علی عبداللہ صالح نے چار ماہ سے جاری احتجاجی مظاہروں اور اہم قبائل کی مخالفت کے باوجود صدارت کے عہدے سے الگ ہونے سے انکار کر دیا تھااور اس حوالے سے خلیجی تعاون کونسل کی ثالثی میں طے پانے والے معاہدے پر دستخط سے انکار کردیا تھا۔