باغیوں کا طرابلس رابطے

،تصویر کا ذریعہAP
بی بی سی کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق مشرقی لیبیا کے باغی طرابلس سمیت کرنل معمر قدافی کے زیر اثر شہروں میں ایک زیر زمین نیٹ ورک سے قریبی رابطے میں ہیں جو انہیں وہاں کے حالات سے متعلق آگاہی مہیا کر رہا ہے۔
نیشنل ٹرانزیشنل کونسل نامی گروہ لیبیا کے شہر بن غازی سے کام کر رہا ہے اور اس کا خاص مقصد کرنل قدافی کی حکومت کا تخت پلٹنا ہے۔
نیٹ ورک کے ایک رکن نے بی بی سی کو بتایا کہ باغی گروہ کرنل قذافی کی حکومت پلٹنے کے سلسلے میں خفیہ بات چیت کر رہا ہے جو سیٹلائٹ ٹیلی فونز اور انٹرنیٹ پر رابطے کے پروگرام سکائپ کے ذریعے کی جا رہی ہے۔
چونکہ باغی نیٹو کی جانب سے ہونے والے فضائی حملوں کے دباؤ کے ردعمل اور طرابلس میں حالات پر کڑی نظر رکھنا چاہتے ہیں، تاہم انھیں معمر قدافی کے مخالف زیر زمین گروہ کی مدد درکار ہے تاکہ کرنل قدافی کو حکومت سے ہٹایا جا سکے۔
گروہ کے رکن، الامن بلحاج کا کہنا ہے کہ سکائپ اور سیٹلائٹ ٹیلی فون رابطے کا محفوظ طریقہ ہیں اور ابھی تک گروہ کے ارکان میں سے کوئی بھی گرفتار نہیں ہوا ہے۔
’ہم ہر رات کم و بیش ایک گھنٹے تک بات کرتے ہیں۔ ہمارا نیٹ ورک سماج کے ہر شعبے کا جائزہ لیتا ہے اور پھر ہمیں یہ بتاتا ہے کہ ان کے دوست وغیرہ کیا سوچ رہے ہیں یا مساجد اور گھروں میں کیا کہا جا رہا ہے۔‘
پچھلے تیس برس سے کرنل قدافی کی مخالفت کرنے والے مسٹر بلحاج کا کہنا تھا کہ ’ہم لوگ سو فیصد یقینی ہیں کہ طرابلس میں حکومت خلاف بغاوت ہوگی، بس صحیح وقت کا انتظار ہے۔‘
















