لیبیائی فوج کے آٹھ سینئر اہلکار منحرف

’حکومتی فوج میں شامل120 افراد اب تک منحرف ہو چکے ہیں‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشن’حکومتی فوج میں شامل120 افراد اب تک منحرف ہو چکے ہیں‘

لیبیائی رہنما کرنل معمر قذافی کی حامی فوج سے منحرف ہونے والے آٹھ سینئر اہلکاروں نے حکومتی فوج سے اپیل کی ہے کہ وہ باغیوں کا ساتھ دیں۔

ادھر جنوبی افریقہ کے صدر جیکب زوما لیبیا میں جاری لڑائی کے پرامن سفارتی حل کے سلسلے میں کرنل معمر قذافی سے ملاقات کے بعد لیبیا سے روانہ ہو گئے ہیں۔

<link type="page"><caption> لیبیا: باغیوں نے امن منصوبہ مسترد کر دیا</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2011/04/110411_libya_rebels_rejection_ha.shtml" platform="highweb"/></link>

ان افسران نے، جن میں سے پانچ جرنیل بتائے جاتے ہیں، اطالوی شہر روم میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔

ان جرنیلوں میں سے ایک نے جن کا نام عون علی عون بتایا گیا، اپنے ساتھی فوجیوں اور سکیورٹی حکام سے اپیل کی کہ وہ ’ آزادی کا دفاع کرتے ہوئے شہید ہونے والے افراد کے نام پر‘ قذافی حکومت کا ساتھ چھوڑ دیں۔ انہوں نے حکومتی افواج پر باغیوں کے خلاف کارروائی کے دوران نسل کشی اور عورتوں پر تشدد کا الزام بھی عائد کیا۔

ایک اور جرنیل میلود مسعود حلاسہ نے صحافیوں کو بتایا کہ بغاوت سے پہلے کے مقابلے میں اب کرنل قذافی کی حامی افواج کی کارکردگی اب صرف بیس فیصد رہ گئی ہے اور’زیادہ سے زیادہ دس جرنیل‘ ہی کرنل قدافی کے حامی ہیں۔

فائل فوٹو، زوما قذافی ملاقات

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشناپریل میں صدر جیکب زوما کی قیادت میں پانچ افریقی ملکوں کےسربراہوں نے لیبیا کا دورہ کیا تھا

باغیوں کا ساتھ دینے والے سابق لیبیائی وزیرِخارجہ عبدالرحمان شلغم کے مطابق حکومتی فوج میں شامل ایک سو بیس افراد اب تک منحرف ہو چکے ہیں۔

جیکب زوما کا دورۂ طرابلس

طرابلس سے روانگی سے قبل صحافیوں سے بات کرتے ہوئے جیکب زوما نے کہا کہ کرنل قذافی افریقی یونین کی جنگ بندی کی تجویز ماننے اور لیبیا کے سیاسی مستقبل پر بات کرنے کو تیار ہیں۔

تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ آیا کرنل قذافی اقتدار سے علیحدگی پر بھی تیار ہیں یا نہیں جو کہ باغیوں کی اولین شرط ہے۔ ان کے اس دورے کو لیبیا میں لڑائی اور حکومت مخالف مزاحمت کے پرامن حل کی آخری کوشش قرار دیا جا رہا تھا۔

اس دورے سے قبل صدر زوما کے ترجمان زیزی کودوا نے کہا تھا کہ پیر کو صدر زوما کا دورہ افریقی یونین کی ان کوششوں کا حصہ ہے جس کا مقصد لیبیا کو اس بات پر قائل کرنا ہے کہ اسے بحران کے حل کے لیے سیاسی اصلاحات کرنے کی ضرورت ہے۔

کرنل قذافی پر اقتدار سے علیحدگی کے حوالے سے عالمی دباؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنکرنل قذافی پر اقتدار سے علیحدگی کے حوالے سے عالمی دباؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے

صدر زوما ایک ایسے وقت لیبیا کا دورہ کر رہے ہیں جب برطانیہ اور فرانس نے لیبیا میں نیٹو کی کوششوں میں مدد کے لیے جنگی ہیلی کاپٹر روانہ کرنے کا اعلان کیا ہے، ان کوششوں کا مقصد اس جمود کا خاتمہ ہے جس میں ایک طرف لیبیا کے مشرقی علاقوں پر باغیوں کا کنٹرول ہے جب کہ دوسری جانب زیادہ مغربی علاقوں پر لیبیائی حکومت کی فوج کا کنٹرول ہے۔

رواں سال فروری کرنل قذافی کی حامیوں فوج سے لڑنے والے باغیوں نے کہا ہے کہ اس وقت تک مذاکرات نہیں ہونگے جب تک کرنل قذافی اقتدار سے علیحدہ نہیں ہوتے ہیں۔

کرنل قذافی پر اقتدار سے علیحدگی کے حوالے سے عالمی دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ جمعہ کو آٹھ امیر ممالک کی تنظیم جی ایٹ نے ان کی علیحدگی کا مطالبہ کیا تھا جب کہ سنیچر کو لیبیا کے ایک اہم اتحادی روس کے صدر دمتری میدوف نے کہا تھا کہ’ کرنل قذافی کے پاس لیبیا کی رہنما کا کوئی حق نہیں رہا ہے‘۔