صومالی گروپ کے القاعدہ سے رابطے

صومالیہ کے جنگجوگروپ الشہاب نے پہلی مرتبہ تصدیق کی ہے کہ القاعدہ سے اس کے قریبی رابطے ہیں۔
گروپ کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ افریقہ کی عظمت کو بحال کرنے کے لیے کیے جانے والے جہاد کو بقول ان کے اس جہاد سے مربوط کردیا گیا ہے جو ’القاعدہ عالمی سطح پر اسلام کے لیے کررہی ہے‘۔
اس سے پہلے امریکہ متعدد مرتبہ اشہاب کے بارے میں کہتا رہا ہے کہ اس کے القاعدہ سے روابط ہیں مگر حال ہی میں بی بی سی سے ایک ا نٹر ویو میں الشہاب گروپ نے القاعدہ سے کسی بھی قسم کے رشتوں کی سختی سے تردید کی تھی۔
بی بی سی کی صومالی سروس کے محمد محمد کہتے ہیں کہ یہ پہلا موقع ہے کہ الشہاب گروپ نے باضابطہ طور پر اپنی لڑائی کو القاعدہ سے منسلک کرنے کا اعلان کیا ہے۔
القاعدہ کے ساتھ رابطوں کی تصدیق کے کے ساتھ ساتھ گروپ نے یہ انکشاف بھی کیا ہے کہ وہ ’کمبونی‘ نامی اس گروپ سے بھی رابطے میں ہیں جس کے ملک کے جنوب میں راس کیمبونی شہر میں ٹھکانے ہیں۔
یہ گروپ ماضی میں ایک اور جنگجو گروپ ’حزب االاسلام‘ کے ساتھ ملکر کر حکومت کے خلاف لڑتا رہا ہے اور حسن ترکی نامی شخص ’کیمبونی جنگجو ؤں‘ کی قیادت کررہے ہیں۔ جن کے بارے میں امریکہ یہ الزام لگاتا رہا ہے کہ وہ دہشت گرد عناصر کی مالی امداد کررہے ہیں۔
الشہاب نے مزید کہا کہ وہ تمام جہادی اسلامی گروپوں کو یکجا کرکے ایسی ریاست قائم کرنا چاہتے ہیں جہاں اسلامی شریعہ نافذ کی جاسکے۔ گروپ کے زیر کنٹرول حصوں میں اس وقت بھی سرعام سر قلم کرنے اور سنگسار کرنے جیسی سزائیں دی جاتی ہیں۔
اسی دوران موغا دیشو سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق شدت پسدوں کے ٹھکانوں پر گولہ باری سے کئی افراد ہلاک ہوگئے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اطلاعات کے مطابق گزشتہ شب ہونے والی لڑائی میں کم از کم 8 شہری مارے گئے ہیں۔
صحت سے متعلق ایک اہلکار علی موسا نے خبر ایجینسی اے ایف پی کو بتایا ہے کہ ان کی ٹیم نے جن آٹھ شہریوں کی لاشیں اٹھائی ہیں وہ گولہ باری سے ہلاک ہوئے تھے جبکہ 55 افراد زخمی ہیں۔
اطلاعات کے مطابق اس لڑائی میں شدت پسندوں نے توپ خانے کی مدد سے صدارتی رہائش گاہ کے کمپاؤنڈ پر حملہ کیا تھا جس کے جواب میں حکومتی اور افریقی یونین کی فوج نےگولہ باری کی۔ خبر ایجینسی کے مطابق ایک پولیس اہلکار نے نام ظاہر نہ کرتے ہوئے الزام لگایا کہ شدت پسند باغی شہری علاقوں سے چھپ کر حملے کرتے ہیں اور شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔
واضح رہے کہ صومایہ کوئی بیس برس سے تشدد کی لپیٹ میں ہے۔ ملک کے وسط اور جنوب کے خاصے حصے پر جنگجوؤں کا کنٹرول ہے۔ جبکہ اقوام متحدہ اور افریقی یونین کی مدد سے قائم حکومت کا دائرہ کار دارالحکومت موغا دیشو کے کچھ حصوں تک محدود ہے اور 1991 سےمرکزمیں کوئی بھی حکومت مؤثر انداز میں کام نہیں کرسکی۔





















