فون ہیکنگ: بی سکائی بی کی فروخت منسوخ

ڈیوڈ کیمرون پارلیمان میں بولتے ہوئے
،تصویر کا کیپشنڈیوڈ کیمرون نے ٹیلی فون اسکینڈل میں تحقیقات کی تازہ ترین صورتِ حال سے اراکان پارلیمینٹ کو آگاہ کیا۔

روپرٹ مردوک کی نیوز ایجنسی نے بی سکائی بی سیٹلائٹ ٹی وی نیٹ ورک کو خریدنے کا ارادہ ترک کر دیا ہے۔

یہ اعلان ایسے میں کیا گیا ہے جب برطانوی پارلیمان میں موجود تمام جماعتوں نے ایک ایسی تحریک کے حق میں ووٹ دینے کا فیصلہ کیا جس میں فون ہیکنگ سکینڈل کے سامنے آنے کے بعد روپرٹ مردوک کو بی سکائی بی کی خریداری کا ارادہ ترک کرنے کو کہا گیا تھا۔

ادارے کے نائب سربراہ چیز کیری کا کہنا ہے کہ ’موجودہ حالات میں یہ نیلامی ممکن نہیں ہے‘۔

برطانیہ میں ٹیلی فون ہیکنگ سکینڈل سامنے آنے کے بعد ایک سو اڑسٹھ سال سے شائع ہونے والا روزنامہ ’نیوز آف دی ورلڈ‘ بند ہو چکا ہے اور گزشتہ اتوار کو اس کا آخری شمارہ شائع ہوا۔

اخبار نیوز آف دی ورلڈ پر جرائم کا شکار ہونے والے افراد، مشہور شخصیات اور سیاستدانوں کے فون ہیک کرنے کا الزام ہے۔ پولیس نے اب تک ایسے چار ہزار ناموں کی نشاندہی کی ہے جو ممکنہ طور پر فون ہیکنگ کا نشانہ بنے ہیں

گزشتہ چند دنوں سے یہ دعوے کیے جارہے ہیں کہ سکول جانے والی مقتول لڑکی ملی ڈاؤلر کے موبائل فون اور چھ سال قبل سات جولائی کو لندن میں ہوئے خودکش بم دھماکوں میں ہلاک ہونے والوں کے اہلِ خانہ کے موبائل فونز کو ہیک کرنے کے لیے اخبار کی انتظامیہ نے باقاعدہ اجازت دی تھی۔

نیوز کارپوریشن کے نائب چیئرمین چیز کیری نے ایک بیان میں کہا ’ ہم سمجھتے ہیں کہ بی سکائی بی کی مجوزہ خرید دونوں کمپنیوں کے مفاد میں ہے لیکن یہ واضح ہے کہ ایسے حالات میں ایسا کرنا ممکن نہیں‘۔

ان کا مزید کہنا تھا کے ’ نیوز کارپوریشن لمبے عرصے تک بی سکائی بی کے سب سے زیادہ شیئرز کا مالک رہے گا۔ ہم اپنی کامیابیوں اور اپنے کردار پر فخر کرتے ہیں‘۔

اس خبر کے پھیلتے ہی اسٹاک مارکیٹ میں بی اسکائی بی کی قیمت چار فیصد تک گر گئی۔

بدھ کو وزیرِاعظم ڈیوڈ کیمرون اجلاس کے دوران فون ہیکنگ معاملے کی تحقیقات کی تازہ ترین صورتِ حال سے بھی اراکان پارلیمنٹ کو آگاہ کیا۔

اس سے پہلے لیبر پارٹی کا کہنا ہے کہ اس کی پارلیمانی تحریک کی مکمل حمایت سے روپرٹ مردوک کو ’واضح پیغام ‘ پہنچے گا۔

منگل کو ڈیوڈ کیمرون نے نائب وزیرِاعظم نک کلیگ اور لیبر پارٹی کے رہنما ایڈ ملی بینڈ سے اس مسئلے پر تبادلہ خیال کے لیے اپنے گھر پر ملاقات کی تھی۔

خیال ہے کہ پولیس کمشنر سر پال سٹیون سن نے فون ہیکنگ سے متعلق تحقیقات پر ان تینوں رہنماؤں کو وزیرِاعظم کے گھر پر تفصیلات بتائیں۔