صومالیہ: الشباب کے علاقوں میں امدادی کام

اقوام متحدہ نے صومالیہ میں خشک سالی کی وجہ سے قحط کے زد میں آئے ان علاقوں میں امدادی کارروائی شروع کی ہے جہاں شدت پسند تنظیم الشباب کا کنٹرول ہے۔
بچوں کے فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے والی اقوام متحدہ کی تنظیم یونیسیف کی صومالیہ میں نمائندہ کا کہنا ہے الشباب نے بغیر کسی رکاوٹ کے اقوام متحدہ کو ان علاقوں کی رسائی دی ہے اور امید ہے کہ اس سے ان کی تنظيم کو وہاں امدادی کام کرنے کے لیے حوصلہ افضائی ملے گی۔
واضح رہے کہ اقوام متحدہ نے یہ امدادی کام ایک ایسے وقت میں شروع کیا جب برطانیہ نے صومالیہ کے متاثرین کے لیے چوراسی ملین ڈالر کی امداد کا وعدہ کیا ہے۔
برطانیہ کے وزبر برائے امدادی امور اینڈریو میچیل نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ برطانیہ الشباب سے کوئی بات چیت نہیں کرے گا۔
صومالیہ میں خشک سالی کے سبب قحط کی صورتحال کا اندازہ لگانے کے لیے اینڈریو میچیل شمالی مشرقی کینیا کا دورہ کررہے ہیں۔ کہا جارہا ہے کہ قحط سے ایک کروڑ افراد متاثر ہیں۔
یونیسیف نے اپنی امدادی کارروائی کے تحت موغادیشو سے دو سو کلومیٹر دور بائیدووا کے علاقے میں ہوائی جہاز کے ذریعے خوراک اور دوائیں پہنچائی گئی ہیں۔
یونیسف کی ترجمان کا کہنا ہے الشباب نے ادارے کو یقین دہانی کرائی ہے کہ امدادی کاموں میں کسی قسم کی رکاوٹ نہیں ڈالی جائے گی۔
جنوبی اور مرکزی صومالیہ میں سرگرم شدت پسند تنظيم الشباب نے گزشتہ دو برس سے بیرونی امدادی ایجنسیوں پر یہ کہہ کر پابندی عائد کردی تھی کہ یہ ایجنسیاں مسلمانوں کے خلاف ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اطلاعات کے مطابق الشباب کے کنٹرول والے علاقوں سے ہر روز ہزاروں افراد ان علاقوں کا رخ کررہے ہیں جہاں امدادی کارروائی زوروں پر ہے۔






















