سعودیہ: ’نیا قانون انسانی حقوق کے خلاف‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ سعودی عرب میں خفیہ طریقے سے بنایا جانے والا دہشت گردی کے خلاف نیا قانون پرامن احتجاج پر بھی قدغن عائد کردے گا۔
بی بی سی کو اس قانون کی عبوری خفیہ دستاویز دکھائی گئی ہے جس میں کئی اقدامات تجویز کیے گئے ہیں اور ایمنسٹی کے مطابق اس سے انسانی حقوق پر زبردست پابندیاں لگائی جائیں گی۔
اس قانون کے تحت کسی بھی شخص کو مقدمہ قائم کی بغیر حراست میں رکھا جا سکتا ہے، اس کے قانونی حق تک رسائی پر پابندی عائد کی جا سکتی ہے اور سزائے موت کے جرائم میں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔
تاہم سعودی عرب کے ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ یہ دہشت گردوں کے لیے ہے حکومت کے مخالفین کے لیے نہیں ہے۔
سعودی حکومت نے اس پر ردعمل ظاہر کرنے سے گریز کیا ہے لیکن اعلٰی اہلکاروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر تصدیق کی ہے کہ ایسے قانون کا عبوری مسودہ تیار کیا گیا ہے۔
اس عبوری قانون میں دہشت گردی کی تعریف کو وسیع کیا گیا ہے جس میں ایسا عمل جو ریاست کی ساکھ کو نقصان پہنچائے یا قومی اتحاد کے لیے خطرہ بنے دہشت گردی کے زمرے میں آئے گا۔
مشتبہ افراد کو ایک سو بیس دن تک قیدِ تنہائی میں رکھا جاسکتا ہے اور قید کی مدت میں عدالتی حکم کے ذریعے توسیع بھی ہوسکتی ہے اور ان پر قانونی مدد تک رسائی پر بھی پابندی ہو سکتی ہے۔
قانون کی خلاف ورزی کی سخت سزائیں ہوں گی جن میں سزائے موت بھی شامل ہے تاہم اس کے لیے ریاست کے خلاف مسلح جرائم میں ملوث ہونا شامل ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سعودی عرب کے حکمرانوں کی ساکھ پر انگلی اٹھانا بھی قابلِ سزا جرم ہوگا اور اس کی کم از کم سزا دس سال ہوگی۔
ادارے کے رکن فلپ لوتھر کا کہنا ہے کہ سعودی عرب میں دہشت گردی سے محفوظ رکھنے کے لیے بنائے جانے والے اس عبوری قانون میں اظہار رائے کی آزادی کے لیے شدید خطرہ ہے۔
ان کے بقول ’اگر یہ قانون منظور ہو جاتا ہے تو حکومت کے خلاف معمولی اور پرامن مظاہروں کے شرکاء پر بھی دہشت گردی کا لبادہ چڑھا کر خطرہ ہے کہ انسانی حقوق کی شدید پامالی کی جائے گی۔‘
بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ سعودی عرب نے حالیہ برسوں میں القاعدہ اور اس کے اراکین کے خلاف اپنے ملک میں کافی حد تک کامیابی حاصل کی ہے۔
تاہم ایمنسٹی کی تنقید کا لبِ لباب یہ ہے کہ عبوری قانون کے جس حصے کی بات کی گئی ہے اس کا مقصد دہشت گردی پر قابو پانے سے زیادہ سیاسی مخالفین کو تہس نہس کرنا ہے۔





















