سعودی عرب: مراعات اور مظاہرین کو تنبیہہ

شاہ عبداللہ بہت کم ہی ٹیلی ویژن پر خطاب کرتے ہیں

،تصویر کا ذریعہReuters (audio)

،تصویر کا کیپشنشاہ عبداللہ بہت کم ہی ٹیلی ویژن پر خطاب کرتے ہیں

سعودی عرب کے شاہ عبداللہ نے خبردار کیا ہے کہ ملک کی سکیورٹی اور استحکام کے حوالے سے کسی خطرے کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

شاہ عبداللہ نے ٹیلی ویژن پر خطاب میں خلیجی ممالک کی سکیورٹی فورسز کی تعریف کہ وہ ’ اپنے ملکوں کی حفاظتی ڈھال‘ ہیں۔

ان کے خطاب کے بعد سرکاری ٹی وی نے کئی شاہی مراعات کا اعلان کیا جن میں کم سے کم اجرت میں اضافہ، تنخواہوں میں اضافہ، بدعنوانی کے خلاف مہم اور سکیورٹی فورسز کی تعداد میں اضافے کا وعدہ کیا گیا ہے۔

<link type="page"><caption> سعودیہ: مراعات سہولتوں میں اضافہ</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2011/02/110223_saudi_king_benefits_uk.shtml" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> بحرین: امریکہ اور سعودی عرب کی بے چینی</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2011/02/110216_bahrain_unrest_rza.shtml" platform="highweb"/></link>

ان مراعات کے لیے اربوں ڈالر خرچ کیے جائیں گے۔

مشرق وسطیٰ کو مظاہروں نے ان دنوں ہلا کر رکھ ہوا ہے تاہم سعودی عرب کافی حد تک ان مظاہروں سے بچا ہوا ہے۔

لیکن تیل سے مالا مال مشرقی صوبے میں اقلیتی شعیہ آبادی کی جانب سے مظاہرے ہوئے ہیں، بحرین میں سعودی عرب نے بدامنی کو روکنے کے لیے ایک ہزار فوجی بھیجے ہیں۔

شاہ عبداللہ کے خطاب اور شاہی مراعات میں توقع کے برعکس کابینہ میں رد و بدل اور سیاسی حقوق میں رعایت نہیں دی گئی۔

سعودی عرب میں سیاست کو سختی سے سنی مسلک کا شاہی خاندان کنٹرول کرتا ہے۔

شاہ عبداللہ نے اپنے تین منٹ کے خطاب میں کہا کہ ’فوج کے تمام شعبوں میں کام کرنے والے بہادروں، خاص طور پر آپ کے بھائی وزارتِ داخلہ میں کام کرنے والے سکیورٹی اہلکار، آپ وطن کی حفاظتی ڈھال ہو، جو سکیورٹی اور استحکام کو خطرے ڈالنے کی ہمت کرتے ہیں ان کے لیے مکا ہو۔‘

سعودی بادشاہ نے گیارہ مارچ کو انٹرنیٹ پر احتجاج کی ایک کال کا جواب نہ دینے پر سعودی شہریوں کی تعریف کی۔

’مجھے آپ پر فخر ہے، اس کو بیان کرنے کے لیے الفاظ نہیں ہیں، آپ اس ملک کی حفاظتی والو ہیں اور آپ نے ان کو مارا جو سچ کے ساتھ غلط تھے۔

تقریر کے بعد سرکاری ٹیلی ویژن نے نے مراعات کے نئے پیکج کا اعلان کیا۔

اس میں کم از کم اجرت تین ہزار ریال، سرکاری ملازمین کے لیے دو ماہ کی اضافی تنخوا، یونیورسٹی کے طالب علموں کے لیے اضافی گرانٹ، دو سو ساٹھ ڈالر کے قریب بے روزگاری الاؤنس، کم آمدن والے طبقے کے لیے پانچ لاکھ مکانات جب کہ چار عشاریہ تین ارب ڈالر صحت کی سہولیات کے لیے ہیں۔