فعل وحشیانہ مگر ضروری تھا: وکیلِ صفائی

،تصویر کا ذریعہReuters
ناروے میں بم دھماکے اور یوتھ کیمپ پر فائرنگ کے الزام میں گرفتار آندرے بیرنگ بریوک پر دہشت گردی کی دفعات کے تحت باقاعدہ مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
آندرے بیرنگ بریوک کو کل یعنی پیر کو عدالت میں پیش کیا جائے گا اور عدالت ان کو حراست میں رکھے جانے کے بارے میں فیصلہ کرے گی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ جمعہ کو ہونے والے دہشت گردی کے واقعات میں ہو سکتا ہے کہ ایک اور شخص ملوث ہو۔
<link type="page"><caption> آندرے بیرنگ بریوک کون تھا؟</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2011/07/110723_noway_suspect_profile_ra.shtml" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> ناروے میں غم کا سایہ: تصاویر</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2011/07/110723_norway_mourns_a.shtml" platform="highweb"/></link>
اس سے پہلے ناروے میں آندرے بیرنگ بریوک کے وکیل نے کہا تھا کہ ان کے مؤکل نے جمعہ کو ہونے والے حملوں کی ذمہ داری قبول کر لی ہے اور اپنی حرکت کو ’وحشیانہ‘ مگر ’ضروری‘ قرار دیا ہے۔ وکیل نے کہا کہ بریوک پیر کو عدالت میں اپنا مؤقف پیش کرنے کے لیے تیار ہیں۔
پولیس نے اب تک دہشت گردی کے پیچھے کارفرما سوچ کے بارے میں نہیں بتایا ہے لیکن اوسلو میں جن عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا ہے ان کا تعلق ناروے کی حکمران جماعت لیبر پارٹی سے ہے اور نوجوانوں کا کیمپ بھی اسی جماعت کے زیر انتظام قائم تھا۔
پولیس کے سربراہ کا کہنا ہے کہ ’آندرے بیرنگ کی پولیس کے ساتھ تمام وقت بات چیت ہوتی رہی اور وہ بہت زیادہ مطالبات کرتا ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
دریں اثناء دارالحکومت اوسلو میں دھماکے کی یاد گار پر بڑی تعداد میں سکتے کی کیفیت میں سوگواروں نے شرکت کی اور اس کے علاوہ ہلاک شدگان کے لیے خصوصی سروس کا اہتمام کیا گیا ہے جس میں توقع ہے کہ ہزاروں کی تعداد میں افراد شرکت کریں گے۔
شہر میں بی بی سی کے نامہ نگار سٹیفن اوناس کے مطابق بڑی تعداد میں مسلمانوں نے بھی چرچ میں جا کر ہلاک شدگان کو خراج عقیدت پیش کیا۔
ان میں ایک علی نامی شخص نے بتایا کہ بہت سارے افراد کا شروع میں یہ خیال تھا کہ بم دھماکہ میں القاعدہ ملوث ہے، ناروے ایک ایسا ملک ہے جو ہر کسی کو قبول کرتا ہے اور ہر کسی کو خوش آمدید کہتا ہے لیکن جب میں نے دیکھا کہ ایک نارویجن نے یہ کام کیا ہے تو مجھے دھچکا لگا، وہ نفرت سے لبریز تھا۔‘
واضح رہے کہ جزیرے یٹویا میں حکمران جماعت لیبر پارٹی سے وابستہ نوجوانوں کے ایک تربیتی کیمپ میں فائرنگ کے واقعہ میں پچاسی افراد ہلاک ہو گئے تھے جب کے اوسلو میں ہونے والے بم دھماکے میں سات افراد ہلاک ہوئے تھے۔
پولیس کے مطابق ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے کیونکہ بم دھماکے کے نتیجے میں متاثر ہونے والی عمارتوں میں متاثرین کی تلاش کے لیے امدادی سرگرمیاں شروع نہیں کی جا سکی ہیں کیونکہ ابھی تک عمارتیں بم دھماکے سے پہنچنے والے نقصان کی وجہ سے غیر محفوظ ہیں۔
اطلاعات کے مطابق آندرے بیرنگ بریوک ایک انتہائی دائیں بازو کی سوچ کے حامی ہیں۔ آندرے بیرنگ بریوک کی ان سے منسوب ایک وڈیو سے حاصل کی گئی تصویر اور وڈیو سنیچر کو یو ٹیوب سے ہٹا لی گئی تھی۔
ناروے کے ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ وڈیو بریوک نے بنائی تھی جس میں اسلام، مارکسزم اور کثیر الثقافتی معاشرے کے خلاف غصے کا اظہار کیا گیا تھا۔





















