لندن فسادات، لوٹ مار اور تشدد جاری

جمعرات کو پولیس فائرنگ سے ہلاک ہونے والے 29 سالہ مارک ڈگن چار بچوں کے والد تھے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنجمعرات کو پولیس فائرنگ سے ہلاک ہونے والے 29 سالہ مارک ڈگن چار بچوں کے والد تھے

شمالی لندن کے علاقے ٹوٹنہم کے فسادات کی دیکھا دیکھی اتوار اور پیر کی درمیانی شب کو بھی شہر بھر میں بدامنی اور لوٹ مار کے واقعات پیش آئے ہیں۔

پولیس کے مطابق ان واقعات کے دوران جنوبی لندن کے علاقے برکسٹن میں ایک کھیلوں کے سامان کی دکان کو نذرِ آتش کر دیا گیا جب کہ قریبی دکانوں سے لوٹ مار کی گئی ہے۔

اس کے علاوہ مشرقی لندن می تین پولیس افسران اس وقت زخمی ہو گئے جب انھوں نے ایک شخص کو گرفتاری کرنے کی کوشش کی۔

اس کے علاوہ اینفیلڈ اور والتھم سٹوو سمیت مختلف علاقوں میں بدامنی کے واقعات پیش آئے ہیں۔

<link type="page"><caption> لندن: ٹوٹنہم میں فسادات، لوٹ مار</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2011/08/110806_london_protests_rh.shtml" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> لندن میں ہنگامے: تصاویر</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2011/08/110806_london_protests_pics_rh.shtml" platform="highweb"/></link>

واضح رہے کہ جمعرات کو پولیس کی مبینہ فائرنگ سے 29 سالہ شخص ہلاک ہوگیا تھا۔ اس ہلاکت کے بعد مظاہرے شروع ہو گئے تھے۔ تاہم ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب یہ مظاہرے فسادات میں تبدیل ہو گئے۔

ان فسادات میں پولیس، پولیس کی دو گاڑیوں، ایک بس اور عمارتوں پر پٹرول بموں سے حملے کیے گئے تھے۔

اتوار کی شام کو شمالی لندن کے علاقے انفیلڈ میں فسادات شروع ہو گئے اور دکانوں کی کھڑکیاں توڑ دی گئیں اور ایک پولیس کی کار کو نقصان پہنچایا گیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ صورتحال اب قابو میں ہے اور اس نے کئی افراد کو گرفتار کیا ہے۔

جنوبی لندن سے اطلاعات ہیں کہ دو سو نوجوانوں کے ایک گروہ نے برکسٹن کی ہائی سٹریٹ اور کولڈ ہاربر میں واقع دکانوں میں لوٹ مار کی ہے اور پولیس پر دھاوا بولا ہے۔

میٹرو پولیٹن پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے ٹوٹنہم فسادات کے تسلسل میں اتوار اور پیر کی درمیانی شب شہر بھر میں ہونے والے فسادات کے کئی واقعات سے نمٹا ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے اے پی کے فوٹوگرافر لیوس وائلڈ نے بتایا ہے کہ انھوں نے برکسٹن میں ایک دکان کے باہر لوٹ مار کرنے والے افراد اور پولیس کے درمیان تصادم دیکھا ہے۔

’سو نوجوانوں کا ایک گروہ لوٹ مار کر رہا تھا اور انھیں روکنے کے لیے پولیس جب وہاں پہنچی تو گلی میں بڑے پیمانے پر تصادم شروع ہو گیا۔‘

نوجوان بوتلیں اور پتھر پھینک رہے تھے اور ایک کوڑے دان کو آگ لگا دی، اس کے علاوہ آگ بجھانے والے آلات سے پولیس کو پیچھے دھکیل رہے تھے تاکہ دکان میں واپس جا کر لوٹ مار کریں۔

ایک دوسرے شخص روڈا ڈاکر نے برکسٹن میں بدامنی کی صورتحال بتاتے ہوئے کہا ’میں نے ریلوے پل کی ایک سمت سے دھواں اٹھتے ہوئے دیکھا اور فضا میں ناگوار بو پھیلی ہوئی تھی۔

’نوجوان لوٹ مار کر رہے تھے اور ہاتھوں میں چھڑیاں پکڑے بھاگ رہے تھے، اس موقع پر میں نے وہاں سے نکل جانا ہی مناسب سمجھا۔ میں صرف اتنا ہی بتا سکتا ہوں کہ نوجوان وہاں کچھ ہونے کے انتظار میں تھے۔‘

پولیس کمانڈر کرسٹین جونز کا کہنا ہے ’ کچھ علاقوں میں تشدد، کچھ اضلاع میں لوٹ مار اور بدامنی کے پھیلنے جیسی صورتحال سے نمٹنے کا چیلنج درپیش ہے۔

’ہم نے پولیس یونٹس کو تعینات کر دیا ہے اور کسی بھی مجرمانہ سرگرمی سے جتنی جلدی ہو سکے نمٹ رہے ہیں۔‘

پولیس کمانڈر نے مزید کہا ’پولیس اہلکار ایک بار پھر خود کو خطرے میں ڈال کر ذمہ داروں کو گرفتار کر رہے ہیں تاکہ مزید جرائم نہ ہو سکیں اور مجھے پولیس کی بہادری اور لگن پر فخر ہے۔‘