سوانح عمری کی اشاعت پر اسانژ کی تنقید

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
وکی لیکس کے بانی جولین اسانژ نے برطانیہ کے ایک پبلشر پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے معاہدے کے خلاف ورزی کرتے ہوئے ان کی سوانح عمری کے کچھ حصے ان کی اجازت کے بغیر شائع کیے ہیں۔
پبلشر کینن گیٹ کا کہنا ہے کہ یہ سوانح عمری جمعرات سے دکانوں اور انٹرنیٹ پر فروخت کی جا رہی ہے۔
جولین اسانژ کا کہنا ہے کہ یہ مسودہ ابھی حتمی نہیں تھا اور پبلشر خامیوں والے مسودے سے ناجائز نفع کما رہا ہے۔
کینن گیٹ کا کہنا ہے کہ اسانژ نے ’گھوسٹ رائٹر‘ کے ہمراہ مسودے پر کام کیا لیکن بعد میں معاہدہ منسوخ کرنا چاہا۔
پبلشر کا کہنا ہے کہ انہوں نے اسانژ کو پیشگی رقم دے تھی اور جب رقم واپس نہیں کی گئی تو اس کا مطلب یہی ہوا کہ مارچ میں دیا جانے والا مسودہ شائع کیا جانا چاہئیے۔
جولین اسانژ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’اس غیر قانونی اشاعت کا معاملہ آزاد معلومات کا نہیں بلکہ یہ ایک پرانی طرز کی موقع پرستی اور دوغلہ پن ہے۔ یہ اپنے فائدے کے لیے دوسروں کو نقصان پہنچانا ہے۔ ‘
انہوں نے مذید کہا کہ کینن گیٹ نے معاہدے اور ذاتی یقین دہانی کو توڑا ہے جس کے مطابق یہ مسودہ ان کی اجازت کے بغیر شائع نہیں کیا جائے گا۔
ایک آزاد ناشر کمپنی نے چالیس سالہ جولین اسانژ کو سوانح عمری کے حقوق کے لیے رقم ادا کی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ادارے نے ایک بیان میں بتایا کہ جون دو ہزار گیارہ میں دنیا بھر میں ہمارے اٹھتیس پبلشنگ ہاؤسز کو یہ کتاب شائع کرنا تھی اور جولین اسانژ نے ہمیں بتایا کہ وہ یہ معاہدہ منسوخ کرنا چاہتے ہیں۔
ادارے کے مطابق ’ ہم نے کتاب شائع کرنے کے اپنے معاہدے کا احترام کرنے کا فیصلہ کیا اور ایک مرتبہ پیشگی رقم لے لی گئی تو ہم بھی معاہدے کا احترام کرتے ہوئے جولین اسانژ کو رائلٹی کی رقم ادا کریں گے۔‘
شائع ہونے والی سوانح میں جولین اسانژ کی آسٹریلیا میں گذرنے والی ابتدائی زندگی کا ذکر ہے اور یہ کہ وہ کب کمپیوٹر اور ہیکنگ سے وابستہ ہوئے اور خفیہ معلومات کے انکشاف کی ویب سائٹ بنائی۔





















