سعودی عرب: سزائے موت پر سخت تنقید

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
بنگلہ دیش میں حقوق انسانی کی ایک تنظیم نے سعودی عرب میں آٹھ بنگلہ دیشی شہریوں کو سرعام سزائے موت دیے جانے پر سخت تقنید کی ہے۔
سعودی عرب میں کام کرنے والے آٹھ بنگلہ دیشی شہریوں کو جمعہ کے روز ریاض شہر میں سرعام سر قلم کر کے سزائے موت دی گئی۔
ان شہریوں پر دو ہزار سات میں ایک مصری شہری کو قتل کا الزام ثابت ہوا تھا۔
<link type="page"><caption> سعودی عرب: سری لنکن ملازمین کی اپیل</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2011/10/111001_srilankan_housemaids_rwa.shtml" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> سعودیہ:’نیا قانون انسانی حقوق کے خلاف‘</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2011/07/110722_saudi_draft_law_ar.shtml" platform="highweb"/></link>
حقوق انسانی کی تنظیم عین و سالش کِندرا کا کہنا ہے کہ سعودی عرب میں کام کرنے والے اکثر غیر ملکی سعودی عدالتی کارروائی کو سمجھ نہیں پاتے اور بہت کم افراد کو اپنا کیس پیش کرنے کے لیے وکیل دستیاب ہوتا ہے۔
تنظیم نے بنگلہ دیشی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سعودی عرب میں مقدمات کا سامنا کرنے والے شہریوں کو قانونی معاونت فراہم کرنے کی پیشکش کرے۔
تنظیم کا کہنا ہے کہ انسانیت کی قدر کرنے والے ہر شخص کو بنگلہ دیشی شہریوں کو سزائے موت دیے جانے کی مذمت کرنی چاہیے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تنظیم کے مطابق اگرچہ سعودی قانون کے تحت سزائے موت دی جاتی ہے لیکن سرعام سر قلم کرنے کی وجہ سے ان افراد کے اہلخانہ کو شدید ذہنی صدمے اور اذیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
حقوق انسانی کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ سعودی عرب میں ماہِ رمضان کے بعد سزائے موت خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔
سعودی عرب میں رواں سال اب تک آٹھ بنگلہ دیشی شہریوں سمیت اٹھاؤن افراد کو سزائے موت دی جا چکی ہے جو کہ دنیا بھر میں دی جانے والے سزائے موت سے دگنی ہے۔
سزائے موت زیادہ تر غیر ملکی شہریوں کو دی گئی ہے جو ترقی پذیر ممالک سے بہتر روزگار کے لیے سعودی عرب کا رخ کرتے ہیں۔
واضح رہے کہ سعودی عرب میں بیس لاکھ سے زائد بنگلہ دیشی شہری روزگار کے لیے مقیم ہیں۔
سعودی عرب میں قتل، جنسی زیادتی اور دوسرے سنگین جرائم کے لیے سزائے موت دی جا سکتی ہے۔سر قلم کرنے کی سزا عموماً سرِعام دی جاتی ہے۔





















