الزامات غلط ہیں،میں بےقصور ہوں:سیف قذافی

سیف الاسلام

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشناطلاعات کے مطابق سیف الاسلام کی گاڑیوں کا قافلہ نائیجر کی جانب جاتے دیکھا گیا تھا۔

عالمی عدالت برائے جرائم (آئی سی سی) کا کہنا ہے کہ لیبیا کے مقتول رہنما کرنل معمر قذافی کے بیٹے سیف الاسلام قذافی کا کہنا ہے کہ ان پر انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات غلط ہیں اور وہ بےقصور ہیں۔

عدالت کے وکیل ِ استغاثہ لوئی مورینو اوکامپو کا کہنا ہے کہ سیف الاسلام کے ساتھ ایک تیسری پارٹی کے ذریعے غیر رسمی رابطے ہوئے ہیں اور ان سے انصاف کیا جائے گا۔

عالمی عدالت کا کہنا ہے کہ سیف الاسلام کو یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ وہ اس وقت تک بے قصور ہیں جب تک کہ ان پر لگائے جانے والے الزامات ثابت نہیں ہو جاتے۔

تاہم عالمی عدالت برائے جرائم نے ان اطلاعات کی تردید کی کہ سیف الاسلام سے کسی قسم کا معاہدہ کیا جا رہا ہے۔ عدالت کا کہنا ہے کہ بات چیت کا مقصد سیف کے وارنٹ گرفتاری پر عملدرآمد کرنا ہے۔

عدالت نے رواں برس جون میں انسانیت کے خلاف جرائم کے سلسلے میں سیف الاسلام کے وارنٹ جاری کیے تھے۔

عدالتی اہلکار نے بیان میں کہا ہے کہ ’آئی سی سی نے یہ بات واضح کی ہے کہ اگر سیف الاسلام اپنے آپ کو آئی سی سی کے حوالے کر دیتے ہیں تو وہ اپنا دفاع کرسکتے ہیں اور ان کے مجرم ہونے یا بے قصور ہونے کا فیصلہ جج صاحبان کریں گے۔‘

سیف الاسلام لیبیا میں باغیوں کے قبضے کے باعث کئی ماہ سے روپوش ہیں۔ حالیہ اطلاعات کے مطابق سیف الاسلام کی گاڑیوں کا قافلہ لیبیا کے ہمسایہ ملک نائیجر کی جانب جاتے دیکھا گیا تھا۔

لوئی مورینو نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ ’ہماری جانب سے جو فرد رابطے میں ہے اس پر ہمیں اعتماد ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ(سیف الاسلام) بےقصور ہیں اور اپنی بےگناہی ثابت کریں گے‘۔

اس سے قبل انہوں نے کہا تھا کہ آئی سی سی کو غیر رسمی رابطوں نے معلوم ہوا ہے کہ کرائے کے فوجیوں کے ایک گروہ نے سیف الاسلام کو پیشکش کی ہے کہ وہ سیف کو اس ملک میں لے جا سکتے ہیں جو آئی سی سی کا ممبر نہیں ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے ’آئی سی سی اس بات پر بھی غور کر رہی ہے کہ جہاز کو ممبر ملک کی فضائی حدود ہی میں روکا جائے اور سیف کو گرفتار کیا جائے۔‘

اطلاعات کے مطابق اگر سیف الاسلام ملک سے بھاگتے ہیں تو زیادہ امکانات زمبابوے جانے کے ہیں جہاں کے سربراہ رابرٹ موگابے کے قذافی خاندان سے دیرینہ تعلقات ہیں۔