قذافی کے بیٹے کا فرار ناکام بنایا جائے

عالمی عدالتِ جرائم کے چیف پراسیکوٹر لوئی مورینو اوکامپو کا کہنا ہے کہ الزامات کا جائزہ آزادانہ اور مکمل غیر جانبداری سے لیا جائے گا۔

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنعالمی عدالتِ جرائم کے چیف پراسیکوٹر لوئی مورینو اوکامپو کا کہنا ہے کہ الزامات کا جائزہ آزادانہ اور مکمل غیر جانبداری سے لیا جائے گا۔

عالمی عدالتِ جرائم کے چیف پراسیکوٹر کا کہنا ہے کہ معمر قدافی کے بیٹے سیف الاسلام لیبیا سے فرار ہونے کی کوشش کر سکتے ہیں۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں دیے جانے والے بیان میں لوئی مورینو اوکامپو نے دوسرے ملکوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ایسے منصوبوں کامیاب نہ ہونے دیں۔

ان کا کہنا ہے کہ عدالت انتالیس سالہ سیف کو عدالت میں پیش ہونے پر آمادہ کرنے کے لیے بات چیت کر رہی ہے۔ سیف جنگی جرائم کے الزامات کے تحت عدالت کو مطلوب ہیں۔

اوکامپو نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ نیٹو، لیبیا میں عبوری طور پر کام کرنے والی قوتوں اور قذافی نواز فوجیوں کے خلاف بھی الزامات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ تمام فریقوں پر لگائے جانے والے الزامات کا جائزہ آزادانہ اور مکمل غیر جانبداری سے لیا جائے گا۔

سیف الاسلام جنہیں کبھی قذافی کا جانشین تصور کیا جاتا تھا کئی ماہ سے روپوش ہیں۔

عالمی عدالت بیس اکتوبر کو ان کے والد معمر قذافی کی ہلاکت کے بعد سے ایک رابطہ کار کے ذریعے انہیں اس بات پر آمادہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ وہ خود کو عدالت کے حوالے کر دیں۔

سیف الاسلام پر الزامات

سیف پر الزام ہے کہ انہوں بالراست طریقے سے لوگوں کے قتل اور انتقام میں حصہ لیا اور انسانیت کے خلاف جرائم کے مرتکب ہوئے۔

پندرہ سے اٹھائیس فروری کے دوران قذافی کی حامی افواج نے شہریوں کے خلاف منظم حملے کیے اور سیف الاسلام کی مبینہ طور پر یہ خصوصی ذمہ داری تھی کہ یہ منصوبہ کامیاب ہو۔

اوکامپو قذافی کی حامی افواج کی جانب سے اجتماعی جنسی زیادتیوں کے واقعات اور نیٹو اور سابق باغیوں کی جانب سے جنگی جرائم کے ارتکاب کے الزامات کا بھی جائزہ لے رہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ عبوری کونسل کے فوجیوں پر بھی الزام ہے کہ انہوں نے مبینہ کرائے فوجیوں کی آڑ میں لوگوں کو حراست میں رکھا اور زیر حراست فوجیوں کو ہلاک کیا۔