ترقی رک گئی، مالیاتی بحران کا خطرہ:یورپی یونین

اٹلی کی بگڑتی ہوئی معاشی صورتحال سے یورپ میں سراسیمگی پھیل رہی ہے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشناٹلی کی بگڑتی ہوئی معاشی صورتحال سے یورپ میں سراسیمگی پھیل رہی ہے

یورپی یونین نےاپنی سالانہ ترقی کے تخمینوں کو ایک اعشاریہ آٹھ فیصد سے گھٹا کر نصف فیصد کرنے کا اعلان کیا ہے۔

یوریی کمشنر اولی رین نے یورپی یونین کی سالانہ ترقی کے تخمینوں میں کمی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ یورپ کی ترقی رک گئی ہے اور کساد بازاری کے ایک نئے دور کا خطرہ ہے۔

ترقی کی شرح میں کمی کی وجہ سے یورپ کےلیے قرضوں کے بحران سے بچنا آسان نہیں ہو گا۔ ادھر اٹلی کی بگڑتی ہوئی معاشی صورتحال کی وجہ پورے یورپ میں سراسیمگی پھیل گئی ہے۔

اٹلی نے جمعرات کے روز پانچ ارب یورو کے نئے بانڈز کا اجرا کر کے قرضوں کی عدم ادائیگی کے خطرے کو وقتی طور ٹال دیا ہے۔

گزشتہ ماہ بین الاقوامی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں کی طرف سے اٹلی کی کریڈٹ ریٹنگ میں کمی کی وجہ سے اس کے قرضوں پر شرح سود بڑھ گئی ہے۔ صرف ایک ماہ قبل اٹلی کو تین اعشاریہ پانچ فیصد شرح سود پر قرض ملتا تھا جو اب بڑھ کر چھ فیصد سے بھی زیادہ ہو گیا ہے۔

ماہرین کے مطابق شرح سود میں اضافے کا مطلب یہ ہے کہ اگر اٹلی اب قرض لیتا ہے جو اسے اگلے دس برسوں میں ادا کرنے ہیں تو اسے سات فیصد سے بھی زیادہ کی شرح سود ادا کرنی ہوگی جو بعض ماہرین کے مطابق بہت مشکل امر ہے۔

اٹلی یورپ کی تیسری بڑی معیشت ہے اور اس کو مالی بحران کا خطرے سے پورے یورپ میں سراسیمگی پھیل گئی ہے۔ یورپی یونین ابھی یونان کو بحران سے نہیں نکال پائی تھی کہ اب اٹلی کا بحران سامنے آ گیا ہے۔

بعض ماہرین کے مطابق یورپی یونین یونان جیسی چھوٹی معییشت کی مدد نہیں کر پائی ہے اور وہ اٹلی کی معیشت کو سہارا دینے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔یونان کی معیشت یورپ کی مجموعی معیشت کا صرف دو فیصد ہے۔

یوریی کمشنر نے کہا ہے کہ اگر اٹلی کی سیاسی پالیسیوں میں تبدیلی نہ آئی تو اٹلی کا قرضہ اسے کی خالص قومی پیداوار کا ایک سو بیس فیصد ہی رہے گا۔

یورپی کمشنر کے مطابق اگلے برس یونان کا قرضہ ملک کی خالص قومی پیدوار کے ایک سو اٹھانوے فیصد ہو جائےگا۔

بورو زون کے بحران پر تبصرہ کرتے ہوئے برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے کہا ہے کہ یورو زون کے رہنماؤں کو صورتحال کو بگڑنے سے بچانے کے لیے فوری اقدامات کرنے ہوں گے۔’مشکل فیصلوں کو جتنا مؤخر کریں گے بحران اتنا ہی خطرناک ہوتا جائے گا۔‘