آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کیا ’ڈیزل ڈپلومیسی‘ بنگلہ دیش کو انڈیا کے قریب لا سکتی ہے؟
- مصنف, راجیش ڈوبریال
- عہدہ, بی بی سی ہندی
- مطالعے کا وقت: 7 منٹ
امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے کے بعد مشرق وسطیٰ میں چھڑی جنگ کی وجہ سے دنیا کے کئی ممالک کی طرح بنگلہ دیش میں بھی ایندھن کا بحران پیدا ہوا ہے۔
اس دوران ملک میں پیٹرول پمپوں پر گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ چکی ہیں اور لوگ شکایت کر رہے ہیں کہ انھیں ضرورت کے مطابق تیل نہیں دیا جا رہا۔
اسی دوران انڈیا نے بنگلہ دیش کو پانچ ہزار میٹرک ٹن ڈیزل فراہم کیا ہے۔
توانائی کے بحران کے پیش نظر بنگلہ دیش نے انڈیا سے مزید 50 ہزار میٹرک ٹن ڈیزل دینے کی درخواست کی ہے لیکن ابھی تک انڈیا کی جانب سے اس پر کوئی جواب نہیں دیا گیا۔
بنگلہ دیش کی جماعت بی این پی (بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی) کے ساتھ انڈیا کے تعلقات روایتی طور پر اچھے نہیں رہے، اگرچہ فروری میں بی این پی کی حکومت بننے کے بعد مودی حکومت نے اس کا گرمجوشی سے خیر مقدم کیا تھا۔
تاہم کچھ مبصرین کا خیال ہے کہ اس بحران کے وقت ڈیزل فراہم کر کے انڈیا کو بنگلہ دیش کی مدد کرنی چاہیے، کیوں کہ وہ چین سے بھی مدد مانگ چکا ہے۔
ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ چین انڈیا کے پڑوس میں اپنا مقام مستحکم کرنے کا کوئی موقع شاید ہی اپنے ہاتھ سے جانے دے گا۔
انڈیا اور چین دونوں سے مدد مانگی گئی
بنگلہ دیش نے انڈیا کو خط لکھ کر 50 ہزار میٹرک ٹن اضافی ڈیزل فراہم کرنے کی درخواست کی ہے تاکہ توانائی کے بحران سے نمٹا جا سکے۔ ڈھاکہ میں انڈین ہائی کمشنر پرانوئے کمار ورما 11 مارچ کو بنگلہ دیش کے وزیر برائے بجلی، توانائی اور معدنی وسائل اقبال حسن محمود سے ملے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس ملاقات کے بعد اقبال حسن نے بتایا: ’انھوں نے کہا ہے کہ وہ ہماری تجویز کا جائزہ لیں گے اور فیصلہ کریں گے۔ فی الحال وہ خود بھی بحران کا سامنا کر رہے ہیں۔‘
بنگلہ دیش پیٹرولیم کارپوریشن (بی پی سی) کے مطابق اس کے اور انڈین سرکار کی ملکیت میں چلنے والی نومالی گڑھ ریفائنری لمیٹڈ کے درمیان معاہدہ ہوا جس کے بعد بدھ کو بنگلہ دیش میں پانچ ہزار ٹن ڈیزل پہنچایا گیا۔
اسی دوران بنگلہ دیش نے طویل مدتی معاہدوں کے تحت توانائی کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے چین سے بھی مدد طلب کی ہے۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ حکومت کے وزیرِ توانائی اور وزیرِ مملکت نے حال ہی میں ڈھاکہ میں چین کے سفیر سے ملاقات کی اور اس معاملے پر بات کی۔
اقبال حسن کا کہنا ہے کہ حکومت توانائی کے متبادل ذرائع درآمد کرنے کے لیے کئی ممالک کے ساتھ بات چیت کر رہی ہے۔
’معلوم نہیں جنگ کب تک چلے گی‘
موجودہ صورتحال میں بنگلہ دیش کے علاوہ انڈیا کے دیگر پڑوسی ممالک سری لنکا اور مالدیپ نے بھی اضافی تیل فراہم کرنے کی درخواست کی ہے۔ انڈیا نے کہا ہے کہ وہ اپنی ضروریات اور تیل کی دستیابی کو مدِّ نظر رکھتے ان مطالبات پر غور کر رہا ہے۔
حال ہی میں بنگلہ دیش میں ایسی جماعت کی حکومت قائم ہوئی ہے جسے انڈیا مخالف سمجھا جاتا ہے۔ ایسے میں سیاسی حلقے یہ مطالبہ بھی کر رہے ہیں کہ بنگلہ دیش میں ایندھن کی کمی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے انڈیا ’ڈیزل ڈپلومیسی‘ کے تحت اضافی مدد فراہم کرے تاکہ تعلقات بہتر ہو سکیں۔
اس سلسلے میں سوال پوچھے جانے پر انڈیا کے سابق سیکریٹری ششانک نے بی بی سی کے نامہ نگار سے کہا: ’انڈیا کی ہمیشہ سے پڑوسیوں کو ترجیح دینے کی پالیسی رہی ہے اور ہم نے ہر ممکن مدد کی ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’فی الحال ہمیں خود معلوم نہیں کہ جنگ کا کیا نتیجہ نکلے گا، یہ کب تک چلے گی۔ ہمیں بھی گیس کی قلت کا سامنا ہے، شہروں میں قطاریں لگی ہوئی ہیں اور پارلیمان میں سوال پوچھے جا رہے ہیں۔ ان سب باتوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے حکومت کو فیصلہ کرنا ہو گا۔‘
ششانک نے بتایا: ’میرا خیال ہے کہ یہ فیصلہ باہمی اعتماد کی بنیاد پر ہو گا۔ پڑوسیوں کو ترجیح دینا ہماری پالیسی ہے لیکن فیصلہ یہ دیکھ کر کیا جائے گا کہ ملک کے اندر کیا صورتحال ہے۔‘
صرف ڈیزل ڈپلومیسی کافی نہیں
کوٹیلیا سکول آف پبلک پالیسی میں بین الاقوامی تعلقات اور عالمی امور کی اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر کانیکا راکھرا کہتی ہیں کہ ’شیخ حسینہ حکومت کے ہٹائے جانے اور حسینہ کو انڈیا میں پناہ دیے جانے کے بعد سے بنگلہ دیش میں انڈین مخالف جذبات کافی بڑھ گئے ہیں۔'
ڈاکٹر کانیکا کے مطابق ان جذبات کو ٹھنڈا کرنے کا ایک طریقہ ’ڈیزل ڈپلومیسی‘ ہو سکتا ہے۔ پڑوسیوں کو ترجیح دینا انڈیا کی ہمیشہ سے پالیسی رہی ہے۔ انڈیا نے بنگلہ دیش کو ڈیزل دیا ہے اور آئندہ بھی دے سکتا ہے مگر یہ واحد حکمتِ عملی نہیں ہو سکتی۔'
وہ مزید کہتی ہیں: ’مارچ کے مہینے میں ہی بنگلہ دیش کی ملٹری انٹیلی جنس کا دورہ ہوا تھا۔ اس کے علاوہ انڈیا اور بنگلہ دیش کے قومی سلامتی کے مشیروں کی بھی ملاقات ہو چکی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ پسِ پردہ بات چیت جاری ہے۔ ایسے میں یہ سمجھنا بچکانہ سی بات ہو گی کہ انڈیا تیل کے بحران میں مدد کر دے گا اور تعلقات فوراً بہتر ہو جائیں گے۔‘
بنگلہ دیش کو چین کی مدد ملی تو کیا اس کا جھکاؤ چین کی طرف نہیں ہو جائے گا؟
اس سوال کے جواب میں ڈاکٹر کانیکا نے کہا: 'بنگلہ دیش ایک خود مختار ملک ہے اور وہ اپنی ضرورت اور اپنے فائدے کو دیکھے گا۔ انھوں نے چین سے بھی مدد مانگی ہے اور چین نے مدد کرنے کی بات بھی کی ہے۔ اس لیے ہمیں مسلسل دیکھنا پڑے گا کہ صورتحال کس طرح آگے بڑھتی ہے۔ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ چین کتنا ڈیزل فراہم کرتا ہے۔'
انھوں نے مزید کہا: 'ڈیزل ڈپلومیسی جیسی اصطلاح خبروں میں تو اچھی لگتی ہے مگر سفارت کاری میں بہت سے پہلوؤں کو دیکھنا پڑتا ہے۔ اس لیے میں نہیں مانتی کہ صرف ڈیزل ڈپلومیسی سے تعلقات بہتر ہو جائیں گے۔'