آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
دبئی، ابوظہبی میں دو پاکستانی شہریوں کی ہلاکت: ’مظفر بچپن میں یتیم ہوا، اب اس کے بچے بھی کم عمری میں باپ کھو بیٹھے‘
- مصنف, عمر دراز ننگیانہ، محمد زبیر خان
- عہدہ, بی بی سی
- مطالعے کا وقت: 6 منٹ
متحدہ عرب امارات کے علاقے ابوظہبی میں رواں ہفتے کے آغاز میں فضائی دفاعی نظام نے ایران کی طرف سے آنے والے بہت سے میزائلوں کو یوں تو فضا ہی تباہ کر دیا لیکن اِن کا ملبہ اور ٹکڑے جب نیچے زمین پر گرے تو اس کے نتیجے میں ہلاکتیں ہوئیں۔
اِن ہلاک ہونے والوں میں پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والے ایک ایسے شخص بھی شامل ہیں جو دس بچوں کے باپ تھے۔
محنت مزدوری کی غرض سے ابوظہبی میں مقیم محمد اسماعیل اُس وقت بنی یاس کے علاقے میں مزدوری کر رہے تھے جب فضا میں تباہ ہو جانے والے بم کا ایک ٹکڑا اُن پر آن گرا۔
یو اے ای کے مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق ریسکیو سروسز نے فوری طور پر اُن تک طبی امداد پہنچانے کی کوشش کی تاہم وہ امداد پہنچنے سے قبل ہی جان کی بازی ہار چکے تھے۔
محمد اسماعیل کے ابوظہبی میں مقمیم ایک رشہ دار محمد طحہ نے بی بی سی اُردو کو بتایا کہ اسماعیل گذشتہ کئی برسوں سے متحدہ عرب امارات میں مقیم تھے اور یہاں ایک نجی کمپنی کے ساتھ کیبلز یعنی تاریں بچھانے کا کام کرتے تھے۔
محمد طحہ کے مطابق ’جس وقت یہ واقعہ ہوا اسماعیل اُس وقت بھی کام کر رہے تھے۔ کام تو ہر طرف چل رہا ہے، کام تو نہیں رُکا۔ بس اسماعیل کی بدقسمتی کہ اُس وقت وہ اُس جگہ پر موجود تھا جہاں میزائل کے ملبے کا ٹکڑا گرا اور وہ اس کی زد میں آ گیا۔‘
محمد اسماعیل کی عمر لگ بھگ 47 برس تھی اور وہ جس کمپنی میں کام کرتے تھے وہ اُن کے ایک رشتہ دار ہی کی تھی۔ اسماعیل کے بہت سے دیگر رشتہ دار بھی ابو ظہبی میں کام کاج کی غرض سے رہائش پذیر ہیں۔
محمد طحہ نے بتایا کہ حادثے کے وقت محمد اسماعیل کے ایک بیٹے بھی ان کے ساتھ موجود تھے۔ وہ بھی گذشتہ کچھ عرصے سے محنت مزدوری کی غرض سے والد کے ساتھ ہی ابوظہبی میں کام کرتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
طحہ کے مطابق تمام قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد اسماعیل کی میت پاکستان میں اُن کے آبائی علاقے بھجوانے کے انتظامات مکمل کیے گئے، تاہم مسئلہ یہ تھا کہ خطے کی سکیورٹی صورتحال کی وجہ سے کوئی فلائٹ میسر نہیں تھی۔
محمد اسماعیل کے رشتہ دار نے بتایا کہ پاکستان میں ان کا تعلق صوبہ خیبرپختونخوا کے سرحدی علاقے کرم ایجنسی سے ہے۔ ان کا خاندان کرم ایجنسی کے مرکزی علاقے پاڑہ چنار سے کئی کلومیٹر کے فاصلے پر واقع پاڑہ چمکنی نامی ایک گاؤں کا رہائشی ہے جو پہاڑی علاقہ ہے۔
اسماعیل کے تین بیٹے اور سات بیٹیاں ہیں۔
محمد طحہ کے مطابق محمد اسماعیل کی میت کو پاکستان واپس بھجوانے میں انھیں مسائل کا سامنا اس لیے کرنا پڑ رہا تھا کہ خطے کی صورتحال کی وجہ سے فلائٹس میسر نہیں تھیں۔
'یہ صرف ہمارے لیے مسئلہ نہیں تھا۔ جس طرح کے حالات ہیں کسی کو بھی فلائٹ ملنا بہت مشکل ہو چکا ہے ان دنوں۔ اس لیے اس میں کچھ مشکل ہوئی لیکن اب فلائٹ مل گئی ہے، میت جلد ہی واپس پاکستان جا رہی ہے۔‘
محمد اسماعیل کی موت 17 مارچ کو ہوئی تھی اور اس کے بعد اُن کی میت کو سردخانے میں رکھوا دیا گیا تھا۔
اہلخانہ کے مطابق ایئر بلیو کی فلائٹ سے جمعرات (19 مارچ) کے روز اُن کی میت ابوظہبی سے اسلام آباد کے لیے روانہ کی گئی۔ ان کے بیٹے اپنے والد کی میت کے ہمراہ پاکستان جا رہے تھے۔
پاکستان پہنچنے کے بعد ان کے لیے اسلام آباد سے کرم ایجنسی میں پاڑہ چمکنی پہنچنے کا ایک اور طویل سفر شروع ہو گا۔
10 بچوں پر مشتمل محمد اسماعیل کے بڑے کنبے کی کفالت کی ذمہ داری اب اُن کے نوجوان بیٹوں کے کندھوں پر آن پڑی ہے۔
مظفر علی جو قرض لے کر دبئی پہنچے تھے
اسی طرح دبئی کے علاقے البرشا میں میزائل کا ملبہ گرنے سے ہلاک ہونے والے ایک اور پاکستانی کی شناخت مظفر علی کے نام سے ہوئی ہے جو صوبہ سندھ کے شہر حیدرآباد کے رہائشی تھے۔
دبئی حکام کے مطابق یہ واقعہ سات مارچ کو دبئی کے علاقے البرشا میں پیش آیا تھا اور مظفر علی موقع پر ہی ہلاک ہو گئے تھے۔
حکام کے مطابق مظفر علی گاڑی چلا رہے تھے جب دفاعی نظام کی جانب سے فضا میں تباہ کیے گئے ایک میزائل کا ملبہ اچانک ان کی گاڑی پر آ گرا۔ عینی شاہدین کے مطابق زور دار دھماکے کی آواز سُنی گئی جس کے بعد سڑک پر کھڑی گاڑی کو شدید نقصان پہنچا اور ڈرائیور موقع پر ہی دم توڑ گیا۔
اماراتی حکام کا کہنا تھا کہ حملے کے دوران داغا گیا میزائل کامیابی سے فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا تھا تاہم اس کا کچھ ملبہ قریبی رہائشی علاقے میں آ گرا جس سے جانی نقصان ہوا۔
مظفر علی کی لاش ان کے آبائی علاقے میں پہنچا دی گئی ہے جہاں ان کی تدفین بھی ہو چکی ہے۔
27 سالہ مظفر علی کے سوگواروں میں تین کم عمر بچے اور بیوہ چھوڑے ہیں۔ وہ اپنی والدہ، ایک بھائی اور ایک بہن کے بھی کفیل تھے۔
مظفر علی کے چچا عبدالکلیم نے بی بی سی کو بتایا کہ مظفر اور ان کے تین بہن بھائی بہت کم عمر تھے جب اُن کے والد، جو خود بھی ٹرک ڈرائیور تھے، ایک حادثے میں وفات پا گئے۔
عبدالکلیم کے مطابق مظفر نے 'میرے ہی گھر میں میرے بچوں کے ساتھ پرورش پائی۔ اتنی آمدن نہیں تھی کہ مظفر یا اپنے بچوں کو زیادہ تعلیم دے سکتا۔ تھوڑی بہت تعلیم کے بعد مظفر نے کم عمری ہی میں کام کاج شروع کر دیا تھا۔ پہلے وہ دیہاڑی دار مزدور بنا اس کے بعد کنڈکٹَر بنا اور پھر محنت کے بعد ڈرائیور بن گیا۔‘
عبدالکلیم کے مطابق ’شادی کے بعد مظفر کوشش کرتا رہا کہ کسی طرح دبئی چلا جائے اور پھر چار سال قبل اسے ویزا مل گیا مگر مظہر کے پاس ویزا لینے کے پیسے نہیں تھے۔‘
چچا کے مطابق مظفر نے دبئی کے ٹکٹ اور پاسپورٹ بنوانے کے لیے اُدھار لیا تھا۔
عبدالکلیم کا کہنا تھا کہ دبئی پہنچ کر بھی مظفر کی مشکلات کم نہیں ہوئیں، وہاں بھی کاغذات بنوانے تھے اور ڈرائیونگ لائسنس بنوانا تھا جس میں وقت لگا۔ اس دوران وہ دبئی میں دوبارہ مزدوری کرتا رہا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’لائسنس ملنے کے بعد اسے ڈرائیونگ کی ملازمت بھی مل گئی۔ ٹکٹ، پاسپورٹ وغیرہ کے لیے لیا گیا قرض اس نے مزدوری سے ادا کر دیا تھا، مگر ویزے کا قرض باقی تھا جو تنخواہ ملنے کے بعد وہ ادا کر رہا تھا۔‘
عبدالکلیم کے مطابق گذشتہ چار سال میں مظفر واپس پاکستان نہیں آیا تاہم رواں ماہ میں ویزے کی تجدید کے بعد وہ عید پاکستان میں گھر والوں کے ساتھ منانا چاہتا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ 'اُس نے مجھے بتایا تھا کہ اب وہ تمام قرض اُتار چکا ہے۔‘
عبدالکلیم نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جیسے مظفر خود بچپن میں یتیم ہو گیا تھا ویسے ہی اس کے اپنے بچے بھی کم عمری میں ہی یتیم ہو گئے ہیں۔