باجوڑ میں افغانستان کا مبینہ حملہ: عید کے لیے گھر آنے والے چار بھائی مارٹر گولے سے ہلاک ’والدہ اتنا بڑا غم برداشت کرنے کے قابل نہیں‘

    • مصنف, بلال احمد
    • عہدہ, بی بی سی اردو، پشاور
  • مطالعے کا وقت: 5 منٹ

کراچی اور راولپنڈی میں بطور مزدور کرنے والے چار بھائی معاذ، ایاز، ریاض اور ساجد عید منانے کے لیے اپنے آبائی علاقے باجوڑ پہنچے تھے لیکن انھیں نہیں معلوم تھا کہ وہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری جنگ کا شکار ہو جائیں گے۔

یہ چاروں بھائی اتوار کو مبینہ طور پر ضلع باجوڑ کے علاقے لیٹئی میں افغانستان کی طرف سے فائر کیے گئے مارٹر گولے کی زد میں آ کر ہلاک ہوئے ہیں۔

ان کے چچا ظاہر حنیف نے بی بی سی نیوز اردو کو بتایا کہ ’کچھ دن پہلے چاروں بھائی مجھ سے ملنے آئے تھے اور کہہ رہے تھے کہ عید پر دعوت پر سب کو اکٹھا کریں لیکن کسی کو کیا معلوم تھا کہ عید پر وہ خود ہی ہمارے درمیان موجود نہیں ہوں گے۔‘

‎‎‎انھوں نے مزید بتایا کہ اتوار کو چاروں بھائی اپنے گھر کی مرمت کے لیے گڑھا کھود کر مٹی نکال رہے تھے اور اس دوران وہاں اچانک دھماکہ ہو گیا، جس کے باعث معاذ، ایاز، ریاض اور ساجد چاروں جان کی بازی ہار گئے۔

ظاہر حنیف بتاتے ہیں کہ ساجد اور ریاض کی ایک سال قبل ہی شادی ہوئی تھی اور دونوں کا ایک، ایک بچہ ہے۔

پاکستان کے وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے بھی ان چار شہریوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے اور اپنے ایک بیان میں الزام عائد کیا ہے کہ افغانستان میں طالبان حکومت پاکستان میں عام شہریوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔

وزیرِ اطلاعات کا کہنا تھا کہ باجوڑ میں ہونے والے حملے میں ’چار معصوم شہری شہید اور ایک پانچ سالہ بچہ زخمی ہوا ہے۔‘

خیال رہے پاکستان اور افغانستان کے درمیان تنازع کی شروعات گذشتہ مہینے ہوئی تھی اور اس کے بعد سے فریقین ایک دوسرے کا بھاری نقصانات کرنے کے دعوے کرتے آئے ہیں۔

گذشتہ روز پاکستان کے وزیرِ اطلاعات نے دعویٰ کیا تھا کہ اب تک پاکستانی کارروائیوں میں افغان طالبان کے 684 اہلکار ہلاک اور 912 زخمی ہو چکے ہیں۔

دوسری جانب افغان طالبان کی حکومت بھی پاکستان پر ملک میں عام شہریوں کو نشانہ بنانے کا الزام لگاتی رہی ہے۔

گذشتہ روز دوحہ میں طالبان کے رہنما سہیل شاہین نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ افغانستان کے صوبے خوست میں پاکستانی فوج کی مارٹر شیلنگ سے دو بچے ہلاک ہوئے ہیں۔

’والدہ غم سے ںڈھال‘

باجوڑ میں چار جوان بچوں کی موت پر ان کی والدہ غم سے نڈھال ہیں اور ان کے چچا ظاہر حنیف کا کہنا ہے کہ ’وہ اتنا بڑا غم برداشت کرنے کے قابل نہیں۔‘

لیٹئی کا علاقہ ضلع باجوڑ کے مرکزی علاقے سے 45 کلومیٹر کے فاصلے پر تحصیل سلارزئی کے شمال مغرب میں واقع ہے۔

یہ ایک سرحدی پہاڑی علاقہ ہے اور کی دوسری جانب افغانستان کا صوبہ کنڑ واقعہ ہے۔ جس علاقے میں یہ واقعہ پیش آیا وہاں کی آبادی چار، پانچ سو نفوس پر مشتمل ہے۔

ظاہر حنیف نے بی بی سی نیوز اردو کو بتایا کہ ’چونکہ ہمارا علاقہ سرحد کے قریب ہے اس لیے ہم نے پہلے بھی ملک کے لیے قربانیاں دی ہیں۔‘

’دو، تین بار پہلے بھی ہم یہاں گھر بار چھوڑ کر گئے ہیں، لیکن پھر واپس آگئے اور کہاں جا سکتے ہیں؟‘

اس واقعے میں چار افراد کی ہلاکت کے باوجود بھی حکومتی حکام اس علاقے کو خالی کروانے کا ارادہ نہیں رکھتے۔

باجوڑ کے ڈی پی او محمد خالد نے بی بی سی نیوز اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ لٹئی چونکہ بارڈر کے قریب واقعہ ہے، گذشتہ روز گولہ باری کے نتیجے یہاں چار بھائی ہلاک ہوئے ہیں۔

جب ڈی پی او سے پوچھا گیا کہ کیا حکومت اس گاؤں کو خالی کروانے کا ارادہ رکھتی ہے تو ان کا کہنا تھا کہ چونکہ ’یہ گاؤں زیادہ رش والا علاقہ نہیں ہے اور گھر یہاں کافی فاصلے پر ہیں اس لیے اس کی نوبت نہیں آئی، البتہ شہریوں کو حفاظتی اقدام اٹھانے کا کہا ہے۔‘