آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
دیمونا: اسرائیل کی ’خفیہ‘ جوہری تنصیب کے قریب ہوئے ایرانی میزائل حملے کے بارے میں اب تک ہم کیا جانتے ہیں؟
ایران نے اسرائیلی جوہری تنصیبات کے قریب واقع قصبے دیمونا پر میزائل حملہ کیا ہے، تاہم عالمی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے مطابق اسے جوہری تحقیق کے اس مرکز کو نقصان پہنچنے کی کوئی اطلاع نہیں ملی ہے۔
یاد رہے کہ حملے کا نشانہ بننے والا دیمونا نامی قصبہ اسرائیلی جوہری تنصیب سے لگ بھگ 13 کلومیٹر دور واقع ہے۔
ایران کے سرکاری ٹی وی کے مطابق یہ حملہ سنیچر کے روز ایران کی نظنز جوہری تنصیب پر مبینہ اسرائیلی حملے کے بعد ردعمل میں کیا گیا ہے۔
عالمی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے مطابق اس واقعے کے بعد علاقے میں تابکاری کی سطح میں کسی قسم کا اضافہ نہیں ہوا ہے۔
عالمی توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی نے کہا ہے کہ فریقین کو جوہری تنصیبات کے قریب حملوں سے گریز کرنا چاہیے۔
اسرائیل کی ایمبولینس سروس کے مطابق دیمونا میں حملے کے بعد اُنھوں نے 40 زخمی افراد کو علاج کی سہولیات فراہم کی ہیں، جن میں 37 افراد کو معمولی زخم آئے ہیں جبکہ ایک 10 سالہ لڑکے کی حالت تشویشناک ہے۔
اسرائیلی ایمرجنسی سروس کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ عراد کے قریبی قصبے میں ایک اور ایرانی میزائل حملے کے بعد 68 افراد کا علاج کیا جا رہا ہے جن میں 47 معمولی زخمی ہوئے ہیں جبکہ 10 کی حالت تشویشناک ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایمرجنسی میڈیکل ٹیکنیشن یاکر طالکار کے مطابق ’یہ ایک بہت ہی پریشان کن منظر ہے۔ متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں، جن کے زخم مختلف نوعیت کے ہیں۔‘
اسرائیلی حکام اب اس بات کی تحقیقات کر رہے ہیں یہ میزائل فضائی دفاعی نظام کو چکمہ دینے میں کیسے کامیاب ہوئے۔
اسرائیلی فائر فائترز کا کہنا ہے کہ ’دیمونا اور عراد میں ان میزائلوں کو روکنے کے لیے انٹر سیپٹرز لانچ کیے گئے تھے تاہم وہ انھیں روکنے میں ناکام رہے جس کے نتیجے میں سینکڑوں کلوگرام وزنی وار ہیڈز سے لیس بیلسٹک میزائل یہاں گرے۔‘
ڈیمونا کے قریب اسرائیل کا ’جوہری تحقیقی مرکز‘
اسرائیل کا شمعون پیریز نیگیو تحقیقی سینٹر اسرائیل کے صحرائے نیگیو میں واقع ہے اور اسے عام طور پر ’دیمونا ری ایکٹر‘ کہا جاتا ہے۔
طویل عرصے سے یہ خیال کیا جاتا ہے کہ اسرائیل نے اپنے جوہری ہتھیار یہاں رکھے ہوئے ہیں۔ اسرائیل نے باضابطہ طور پر کبھی جوہری تجربات کرنے کا اعلان نہیں کیا لیکن اسے (اسرائیل کو) ’غیر اعلانیہ‘ جوہری قوت سمجھا جاتا ہے (یعنی یہ جوہری ہتھیار رکھتی ہے مگر اس کا کبھی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا)۔
اسرائیل کا سرکاری موقف یہ ہے کہ یہ مرکز مکمل طور پر تحقیقی مقاصد کے لیے ہے۔ لیکن چھ دہائیوں سے دنیا کے لیے یہ ایک کُھلا راز ہے کہ اسرائیل نے وہاں جوہری بم تیار کیے ہیں۔
اسرائیل کی تمام سابقہ حکومتوں نے اس عرصے کے دوران یہ موقف برقرار رکھا ہے کہ یہ صرف ایک تحقیقی مرکز ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ اسرائیل مشرقِ وسطیٰ میں واحد ایٹمی طاقت ہے اور اس کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کسی بھی کوشش کو (اسرائیل میں) انتہائی سنجیدگی سے لیا جاتا ہے۔
امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف چھیڑی گئی جنگ کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ ایران کی جوہری بم بنانے کی صلاحیت کو مکمل طور پر ختم کیا جائے۔
ایران کی اپنی اٹامک انرجی آرگنائزیشن (اے ای او آئی) نے نطنز پر حملے کو جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیا اور کہا کہ وہاں تابکار مواد کے اخراج کی کوئی اطلاع نہیں ملی اور ارد گرد کے رہائشیوں کو بھی کوئی خطرہ نہیں ہے۔
ایران کی جوہری سائیٹ نطنز کو 28 فروری کو شروع ہونے والی حالیہ جنگ کے ابتدائی دنوں میں بھی نشانہ بنایا گیا تھا جبکہ گذشتہ برس جون میں بھی 12 روزہ ایران، اسرائیل جنگ کے اختتام پر امریکہ نے یہاں بمباری کی تھی۔
سنیچر کو نطنز کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں اسرائیل کی ڈیفنس فورسز کا کہنا تھا کہ وہ اس حملے سے لاعلم ہیں۔
اسرائیل کا جوہری پروگرام
جوہری ہتھیاروں کے بارے میں اسرائیل کی سرکاری پالیسی کو ’امیمت‘ یا ’دانستہ ابہام‘ کہا جاتا ہے۔ یعنی اسرائیل ایسے ہتھیار رکھنے کی تصدیق کرتا ہے اور نہ ہی تردید۔
شمعون پیریز جنھوں نے اسرائیل کے وزیراعظم اور صدر کے طور پر خدمات انجام دیں نے اس بارے میں اپنی یادداشتوں میں لکھا: ’ہم نے سیکھا ہے کہ ابہام غیر معمولی طاقت رکھتا ہے۔۔۔ شک ان لوگوں کے لیے ایک طاقتور رکاوٹ تھا جو دوسرے ہولوکاسٹ کا خواب دیکھتے تھے۔‘
یہ امکان ہے کہ اسرائیل نے سنہ 1948 میں ریاست کے قیام کے فوری بعد ہی اپنے جوہری پروگرام پر کام شروع کر دیا تھا۔
اسرائیل کی اپنے دشمنوں کی بھاری عددی برتری کو دیکھتے ہوئے اس کے پہلے وزیر اعظم ڈیوڈ بین گوریون نے جوہری ہتھیاروں کی اہمیت کو تسلیم کیا لیکن وہ ایک کشیدہ خطے میں غیر روایتی ہتھیار متعارف کروا کر اپنے اتحادیوں کو پریشان کرنے سے ہچکچاتے رہے۔
چنانچہ اسرائیل نے دیمونا ری ایکٹر کی تعمیر کے لیے فرانس کے ساتھ ایک خفیہ معاہدہ کیا جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہاں سنہ 1960 کی دہائی میں جوہری ہتھیاروں کے لیے مواد تیار کرنا شروع کر دیا گیا تھا۔ برسوں سے اسرائیل کا اصرار تھا کہ یہ صرف ایک فیکٹری ہے۔
امریکی انسپکٹروں نے 1960 کی دہائی کے دوران متعدد مواقع پر اس مقام کا دورہ کیا لیکن مبینہ طور پر اس مقام کی تہوں میں چھپے رازوں سے سے وہ لاعلم تھے، جسے چھپانے کے لیے اینٹوں اور پلاسٹر کی موٹی تہیں بچھائی گئی تھیں۔
ماضی میں دیمونا میں بطور نیوکلیئر ٹیکنیشن کام کرنے والے اسرائیلی شہری وانونو کو اس سہولت کی تفصیلات ظاہر کرنے کی پاداش میں قید کی سزا بھی سنائی گئی تھی۔
سینٹر فار آرمز کنٹرول کے مطابق اسرائیل کے جوہری ہتھیاروں کا تخمینہ اس وقت تقریبا 90 جوہری وار ہیڈز پر لگایا گیا۔
اس کے باوجود اسرائیل اپنی جوہری صلاحیتوں کے بارے میں سرکاری پالیسی پر قائم ہے اور اس کے رہنماؤں نے بار بار اس بات پر زور دیا ہے کہ ’اسرائیل مشرق وسطی میں جوہری ہتھیار متعارف کروانے والا پہلا ملک نہیں ہو گا۔‘
سنہ 1970 سے اب تک 191 ممالک جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے پر دستخط کر چکے ہیں، یہ ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے جس کا مقصد جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو محدود کرنا اور جوہری تخفیف اسلحہ کی عالمی کوششوں کو فروغ دینا ہے۔
صرف پانچ ممالک امریکہ، روس، برطانیہ، فرانس اور چین جوہری ہتھیار رکھنے کے حقدار ہیں کیونکہ انھوں نے یکم جنوری 1967 کو جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے کے نفاذ سے پہلے جوہری بم بنائے اور ان کا تجربہ کیا۔
اسرائیل نے جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے پر دستخط نہیں کیے ہیں۔