آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’روسی ایجنٹ‘ کو حساس معلومات دینے پر وزارتِ دفاعی پیداوار کے چار سول ملازمین کو سزائیں: ’گرفتاری کے وقت چار ہزار ڈالر برآمد ہوئے‘
- مصنف, شہزاد ملک اور روحان احمد
- عہدہ, بی بی سی اردو، اسلام آباد
- مطالعے کا وقت: 7 منٹ
اسلام آباد کی ایک مقامی عدالت نے وزارتِ دفاعی پیداوار کے چار ملازمین کو غیرملکی ’ایجنٹ‘ کے ساتھ حساس معلومات شیئر کرنے کے الزام پر قید کی سزائیں سنا دی ہیں۔
آفیشل سیکرٹس ایکٹ عدالت کے جج طاہر عباس سپرا کے فیصلے کے مطابق ان چاروں افراد کو آفیشل سیکرٹس ایکٹ 1923 کی دفعات تین اور چار کے تحت سزائیں سنائی گئی ہیں۔
عدالتی فیصلے کے مطابق صفدر رحمان نامی شخص کو 10 برس قید، تنزیل الرحمان کو پانچ برس، محمد وقار کو پانچ برس اور محمد طاہر کو بھی پانچ برس قید کی سزائیں سنائی گئی ہیں۔
اس مقدمے میں دو افراد کو بری بھی کیا گیا ہے کیونکہ عدالت کے مطابق ان افراد نے کبھی ’غیر ملکی ایجنٹ، روسی سفارتکار سے ملاقات نہیں کی اور نہ غیر ملکی ایجنٹ کو براہ راست خفیہ معلومات پہنچائی۔‘
ان دفعات کے تحت جرم ثابت ہونے پر 14 برس تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔
آفیشل سیکرٹس ایکٹ کی دفعہ تین کسی دشمن کو فائدہ پہنچانے یا دفاعی امور، فوج، بحریہ، فضائیہ یا دیگر حساس معلومات دینے سے متعلق ہے۔
دوسری جانب آفیشل سیکرٹس ایکٹ کی دفعہ چار دشمن ایجنٹ سے روابط رکھنے سے متعلق ہے۔
اس مقدمے کے پراسیکیوٹر جواد عادل نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ جن مجرمان کو اس مقدمے میں سزائیں سنائی گئی ہیں انھیں متعلقہ عدالت نے سنہ 2022 سے ضمانتیں دی ہوئی تھیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کے مطابق یہ مقدمہ سنہ 2021 میں درج ہوا تھا اور اس میں نامزد اکثر ملزمان کا تعلق وزارت دفاعی پیداوار سے ہے۔
جواد عادل نے یہ بھی بتایا کہ گذشتہ چار ماہ کے دوران آفیشل سیکرٹس ایکٹ کے تحت درج چھ مقدمات کے فیصلے سنائے گئے ہیں۔ ان کے مطابق چونکہ ان مقدمات میں ملزمان کی تعداد کم تھی، اس لیے فیصلے جلدی ہوئے۔
پراسیکیوٹر کے مطابق جن افراد کے خلاف مذکورہ بالا مقدمہ درج کیا گیا تھا ان ملزمان میں زیادہ تر سویلین ہیں تاہم ان میں کرنل رینک کا ایک افسر بھی شامل تھا۔
مقدمے کی تحقیقات کرنے والے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ کرنل رینک کے افسر نے اس مقدمے کے اندراج میں اپنا نام آنے کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ اہلکار کے بقول انھیں وہاں سے اس ضمن میں ریلیف بھی ملا ہے۔
اس مقدمے کے باقی ملزمان کے بارے میں کیا کہا گیا ہے، اس بارے میں عدالتی فیصلے کی معلومات ابھی سامنے نہیں آئیں۔
عدالتی فیصلے میں کیا ہے؟
خصوصی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے جاسوسی کے الزام میں درج ہونے والے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ اس مقدمے کے مرکزی ملزم صفدر رحمان ہیں جو کہ ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ڈیفنس پرچیز میں اعلی عہدے پر فائز تھے۔ فیصلے کے مطابق ان کے خلاف ناقابل تردید شواہد موجود ہیں کہ انھوں نے ’ریاست اور فوج سے متعلق حساس دستاویزات غیر ملکی ایجنٹ کو دی ہیں۔‘
عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ مجرم صفدر رحمان جس اہم عہدے پر فائز تھے، وہ اس بات کے متقاضی تھے کہ 'وہ کسی بھی غیر ملکی سے نہ ملتے لیکن انھوں نے ایسا نہیں کیا۔'
اس غیر ملکی ایجنٹ کے بارے میں عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ اس مقدمے کی سماعت کے دوران عدالت میں جو دستاویزات پیش کی گئی ہیں، ان کے مطابق 'کرل کرشنیکوو نامی شخص روسی سفارت خانے میں بطور سکینڈ سیکریٹری کام کرتے تھے اور وہ اس عہدے پر فروری 2020 سے فروری 2023 تک برقرار رہے۔‘
عدالت نے اپنے فیصلے میں اس مقدمے میں کی جانے والی تحقیقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ صفدر رحمان کے بارے میں معلومات ملنے کے بعد وفاقی تحقیقاتی ادارے نے انھیں 18 مئی 2021 کو اسلام آباد کے سیکٹر جی ایٹ سے اس وقت گرفتار کیا جب وہ ایک ’غیر ملکی ایجنٹ کی گاڑی سے نکل رہے تھے اور ان کے قبضے سے چار ہزار امریکی ڈالر بھی برآمد کیے گئے۔‘
تفتیشی ٹیم کے بقول ملزم نے یہ رقم ’حساس دستاویزات فراہم کرنے کے عوض وصول کی تھی۔‘ جس روز صفدر رحمان کو گرفتار کیا گیا، اسی روز ہی ان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
عدالتی فیصلے میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ دوران تفتیش ملزم صفدر رحمان نے اس بات کا انکشاف کیا کہ انھوں نے اپنے دو بیٹوں تفضل الرحمن اور وقار کے ساتھ مل کر غیر ملکی ایجنٹ سے حساس معلومات شیئر کرتے تھے۔ ملزم کی نشاندہی پر ’نہ صرف ان کے دونوں بیٹوں کو گرفتار کیا گیا بلکہ ان کے قبضے سے کافی بڑی تعداد میں حساس نوعیت کی دستاویزات بھی برآمد کی گئیں۔‘
عدالتی فیصلے کے مطابق ملزمان کے قبضے سے 'ہارڈ ویئر ڈسک بھی برآمد کی گئیں جن میں فوج کے ہیڈ کوارٹر، وزارت دفاعی پیداوار کے بجٹ اور نیوی ایئر کرافٹس خریدنے کے بعد ان کی ادائیگی کا بھی ذکر تھا۔'
فیصلے میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ اس مقدمے کے تمام ملزمان ’حساس نوعیت کی دستاویزات صفدر رحمان کو دیتے تھے جس کے عوض انھیں 15 سے 20 ہزار روپے دیے جاتے تھے۔‘
یہ مقدمہ آفیشل سیکرٹس ایکٹ کے تحت نو افراد کے خلاف درج کیا گیا تھا۔ اس مقدمے کے پراسیکوٹر جواد عادل کے مطابق جن افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ان میں حساس ادارے کے افسر عرفان حمید کیانی بھی شامل تھے۔
عدالتی فیصلے میں اس بات کا ذکر کیا گیا ہے کہ عرفان حمید کیانی، احمد کیانی اور محمد اشرف کی طرف سے بریت کی درخواست دی گئی تھی جو کہ منظور کر لی گئی۔
اس فیصلے میں ملزم صفدر رحمان کو جس گاڑی سے اترتے ہوئے گرفتار کیا گیا، اس پر لگی ہوئی نمبر پلیٹ کا بھی ذکر ہے جو کہ اسلام آباد سے رجسٹرڈ تھی۔
تاہم اس کی تصدیق کے لیے پاکستانی وزارت خارجہ سے رابطہ کیا گیا تو انھوں نے اس گاڑی کو الاٹ کیے جانے والے ڈپلیومیٹک نمبر کے بارے میں بتایا۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ یہ ڈپلومیٹک نمبر اسلام آباد میں روسی سفارت خانے کو الاٹ کیا گیا تھا تاہم سکیورٹی وجوہات کی بنا پر سفارت کاروں کو عارضی نمبر الاٹ کیے جاتے ہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں بتایا کہ ملزمان نے الزامات کو غلط اور بے بنیاد قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس مقدمے میں جتنے بھی گواہ پیش کیے گئے ہیں ان میں سے ایک بھی گواہ ایسا نہیں جس نے آزادانہ طور پر گواہی دی ہو۔
ملزمان کا کہنا ہے کہ اس مقدمے میں 12 گواہان پیش کیے گئے اور تمام گواہان کا تعلق ایف آئی اے سے تھا۔
ملزمان کے وکلا کے دلائل کا ذکر کرتے ہوئے اس عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ملزمان کے وکلا کا کہنا تھا کہ ’روسی سفارت کار کو کسی طور پر بھی غیر ملکی ایجنٹ نہیں کہا جاسکتا۔‘
پاکستان میں ماضی میں بھی دفاعی اداروں کو آفیشل سیکریٹس ایکٹ کی خلاف ورزی یا جاسوسی کے الزام میں سزائیں سنائی جاتی رہی ہیں۔
سنہ 2012 میں لیفٹیننٹ جنرل جاوید اقبال کو جاسوسی کے الزام میں 14 سال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی تھی۔ ان پر آئی ایس آئی کی اہم معلومات انڈین خفیہ ایجنسی کو فراہم کرنے کا الزام تھا۔
اس کے علاوہ گذشتہ برس آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کو بھی گذشتہ برس 14 سال کی سزا سنائی گئی تھی۔ ان پر ایک الزام آفیشل سیکرٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کا بھی تھا۔
اس سے قبل ایک مقامی عدالت نے سابق وزیرِ اعظم عمران خان کو بھی آفیشل سیکرٹس ایکٹ کے تحت 10 برس قید کی سزا سنائی تھی۔ تاہم بعد میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے انھیں اس مقدمے میں بری کر دیا تھا۔
نوٹ: اس خبر کے ابتدائی ورژن میں متعلقہ وزارت کا نام غلط لکھا گیا جسے درست کر دیا گیا ہے۔