آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
جب افغانستان میں بدھا کے دیوقامت مجسمے تباہ کرنے میں القاعدہ نے طالبان کی مدد کی
- مصنف, بی بی سی افغانستان فیکٹ شیٹ
- مطالعے کا وقت: 9 منٹ
25 سال پہلے، 11 مارچ 2001 کو، افغانستان کی طالبان حکومت نے اُس وقت کے رہنما ملا محمد عمر مجاہد کے حکم پر بدھا کے دو مجسمے ہمیشہ کے لیے تباہ کر دیے تھے۔ اس پر دنیا بھر سے ردِ عمل سامنے آیا تھا۔
اس واقعے کو گزرے ایک چوتھائی صدی گزر چکی ہے۔ بی بی سی افغانستان نے مجسموں کی تباہی کے وقت موجود عینی شاہدین کی زبانی اس ثقافتی سانحے کی کہانی بیان کی ہے۔
بدھ کے مجسموں کو تباہ کرنے کا حکم طالبان رہنما نے 28 فروری 2001 کو قندھار میں جاری کیا تھا۔
افغانستان بھر میں موجود مجسموں کو تباہ کرنے کا حکم جاری کرتے ہوئے طالبان رہنما کا کہنا تھا کہ ’انھیں مزاروں میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔‘
افغانستان میں اسلام آنے کے بعد سے یہ مجسمے کبھی بھی مقدس مقامات یا مزارات کے طور پر استعمال نہیں ہوئے۔
بدھا کی تباہی میں القاعدہ کا کردار
بی بی سی افغانستان کے سربراہ شعیب شریفی کہتے ہیں کہ جس روز بدھا کے مجسمے کو تباہ کیا جانا تھا، اس سے ایک ہفتے قبل وہ خفیہ طور پر بامیان گئے تھے۔
انھوں نے کہا کہ بدھا کے مجسمے کو مکمل طور پر تباہ کرنے میں تقریباً دو ہفتے لگے۔ ’ایسا لگتا ہے کہ طالبان کے پاس اتنے بڑے مجسمے کو اڑا کر مکمل طور پر مسمار کرنے کی تکنیکی صلاحیت نہیں تھی۔‘
لہٰذا مجسمے میں دھماکہ خیز مواد نصب کرنے اور اس کی تباہی کے لیے تکنیکی مدد فراہم کرنے کی ذمہ داری القاعدہ سے وابستہ عرب جنگجوؤں پر عائد کی گئی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
شعیب شریفی کہتے ہیں: ’عرب جنگجوؤں نے تباہی کے لیے طریقۂ کار طے کیا۔ دھماکے کے لیے زیادہ تر توپ کے گولے استعمال کیے گئے۔ دھماکہ خیز مواد کو ایک تار کے ذریعے اس طرح جوڑا گیا کہ ایک بٹن دبانے سے وہ پھٹ جائے۔‘
وہ بتاتے ہیں کہ اُس وقت افغانستان میں القاعدہ طالبان کی حامی تھی اور اس کے بیشتر جنگجو کابل کے شمال میں احمد شاہ مسعود کی زیر قیادت شمالی اتحاد کے خلاف لڑ رہے تھے۔
القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن اُس وقت قندھار میں مقیم تھے۔
شعیب شریفی بتاتے ہیں کہ اس واقعے سے قبل بامیان میں کوئی غیر ملکی جنگجو نہیں تھے، بلکہ کچھ تو وہاں بدھا کے مجسموں کو تباہ کرنے آئے تھے اور کچھ یہ واقعہ اپنی آنکھوں سے دیکھنے کے لیے وہاں پہنچے تھے۔
شعیب شریفی کے مطابق: ’جب میں نے پہلی بار بدھا کے مجسمے دیکھے تو میں بہت خوف زدہ ہوا۔ جب میں نے بڑے بڑے ہاتھ پاؤں والے ان دیو قامت مجسموں کو دیکھا تو مجھے اپنا وجود بہت چھوٹا محسوس ہوا۔‘
وہ بتاتے ہیں کہ کچھ طالبان جنگجو، جو طالبان مخالف قوتوں سے لڑنے کے لیے بامیان آئے تھے، وہ محاذ پر جانے سے پہلے بدھا کے مجسموں کو دیکھنے آتے۔
’وہ مجھ سے کہتے کہ ہمارے ساتھ چلیں اور بامیان کے بدھا کے سامنے ہماری تصویر کھینچیں۔ حالانکہ اُس وقت تصاویر کھینچنا سختی سے منع تھا۔‘
اُس وقت کی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کچھ جنگجو کلاشنکوف سے مجسمے کی طرف گولیاں چلا رہے ہیں۔
’شاید یہ ایک بہت بڑے مجسمے کے سامنے طاقت کا اظہار تھا۔‘
وہ کہتے ہیں کہ جب تک بدھا کو تباہ کرنے کا حکم نہیں آیا تھا، طالبان کا محکمہ اطلاعات و ثقافت ایک تاریخی ورثے کے طور پر ان کی حفاظت کر رہا تھا۔
’جاپانی صحافی نے خود کو ملبے پر گرا دیا‘
امیر شاہ ایک صحافی ہیں جو اُن برسوں میں ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے لیے کام کرتے تھے۔ بدھا کی تباہی کے دنوں میں وہ بھی بامیان میں موجود تھے۔
امیر شاہ کہتے ہیں کہ جس روز بدھا کے مجسموں کو تباہ کیا جا رہا تھا، اس دن بھی یونیسکو کا ایک وفد تباہی روکنے کے لیے کابل میں طالبان حکومت کے ساتھ مذاکرات کر رہا تھا۔
’یونیسکو کا ایک وفد آیا تھا۔ ان میں فرانس اور اٹلی کے نمائندے بھی شامل تھے۔ انھوں نے طالبان کے وزیرِ خارجہ وکیل احمد متوکل سے بھی ملاقات کی۔ متوکل نے انھیں کہا تھا کہ آج رات خبریں سنیں، سب کچھ واضح ہو جائے گا۔‘
اسی رات ریڈیو نے بدھا کے مجسموں کی تباہی کی خبر نشر کی۔
امیر شاہ مزید بتاتے ہیں کہ اس واقعے کے ایک ہفتے بعد وہ کچھ غیر ملکی صحافیوں کے ہمراہ بامیان گئے اور ’ایک جاپانی صحافی نے خود کو تباہ شدہ بدھا کے مجسموں کے ملبے پر گرا دیا۔‘
امیر شاہ کے مطابق انہوں نے سنہ 1990 کی دہائی میں بھی بامیان کا سفر کیا تھا۔ اس وقت ایک مسلح گروہ نے بدھا کے مجسمے کے نیچے ’اسلحے کا گودام‘ قائم کر رکھا تھا۔
’خوش نصیب ہوں بدھا کے مجسمے دیکھ پائی‘
برطانوی صحافی کیٹ کلارک سنہ 1999 سے 2002 تک کابل میں بی بی سی کی نامہ نگار رہیں اور اب افغانستان اینالسٹ نیٹ ورک کی سربراہ ہیں۔
اپنے دور کی کہانی سناتے ہوئے ان کا کہنا تھا: ’میں خوش نصیب ہوں کہ تباہ ہونے سے چند ماہ پہلے بدھا کے مجسمے دیکھ پائی۔ کابل سے مزار شریف جاتے ہوئے ہم نے اپنا راستہ تھوڑا بدلا اور بامیان سے گزرے۔‘
کیٹ کلارک کے مطابق طالبان رہنما ملا عمر نے سنہ 1998 میں بامیان فتح کرنے والے کمانڈر عبدالواحد کو مجسمے تباہ کرنے سے منع کیا تھا۔
’ملا عمر کا کہنا تھا کہ یہ یادگاریں افغانستان کی وراثت کا حصہ ہیں اور انھیں محفوظ رکھنا چاہیے۔ طالبان خود کو قومی خزانے کا محافظ کہتے تھے۔‘
سنہ 2020 میں شائع ہونے والی یونیسکو رپورٹ کے مطابق ملا عمر نے جولائی 1999 میں بدھا کے مجسموں کو تاریخی نوادرات اور افغانستان کے لیے آمدنی کے اہم ذریعے کے طور پر محفوظ رکھنے کا حکم جاری کیا۔ لیکن بعد میں سنہ 2001 میں انھوں نے اپنا ارادہ بدل دیا اور مجسموں کو تباہ کرنے کے احکامات جاری کیے۔
کیٹ کلارک بتاتی ہیں کہ ’مجسموں کی تباہی پر بین الاقوامی سطح پر شدید ردِ عمل سامنے آیا۔‘
’میں خدا کو کیا منہ دکھاؤں گا؟‘
صحافی اور مصنف سٹیو کول اپنی کتاب گھوسٹ وارز میں لکھتے ہیں کہ جب طالبان نے بدھا کے یہ مجسمے توڑنے کا فیصلہ کیا تو ساری دنیا نے کوشش کی کہ طالبان کو اس ارادے سے باز رکھا جائے۔ اس پر طالبان رہ نما ملا عمر نے حیران ہو کر کہا: ’مجھے سمجھ نہیں آ رہی سب اتنے پریشان کیوں ہیں، ہم پتھر ہی تو توڑ رہے ہیں۔‘
کتاب کے مطابق بدھا کو ماننے والوں نے اُس وقت کی پاکستان حکومت سے بھی مطالبہ کیا کہ مداخلت کریں اور بدھا کا مجسمہ بچائیں۔ اُس وقت پاکستان میں جنرل پرویز مشرف حکمران تھے۔ انھوں نے اپنے وزیر داخلہ معین الدین حیدر کو افغانستان بھیجا۔
گھوسٹ وارز میں درج ہے کہ معین الدین حیدر نے اسلامی سکالرز کے ساتھ مشاورت کر کے ملا عمر کو منانے کےلیے اسلامی دلائل تیار کیے۔ پھر وہ مترجمین کے ساتھ قندھار گئے، ملا عمر سے ملاقات کی اور انھیں مجسمے تباہ کرنے کا ارادہ منسوخ کرنے پر قائل کرنے کی کوشش کی۔
کتاب کے مطابق ملا عمر نے جواب دیا کہ اس مسئلے پر وہ چھ ماہ تک غور و فکر کرتے رہے ہیں اور ان کا فیصلہ یہی ہے کہ بدھا کے مجسمے تباہ ہی کریں گے۔
معین الدین حیدر نے قرآن کی وہ آیت پڑھی جس میں کہا گیا ہے کہ دوسروں کے خداؤں کو برا بھلا نہ کہا جائے۔ پھر انھوں نے تاریخ کے کئی حوالے پیش کیے جہاں مسلمانوں نے دوسرے مذاہب کے بتوں اور فنی نمونوں کو بچایا تھا۔
پاکستانی وزیر داخلہ نے دلیل دی کہ افغانستان میں بدھا کے مجسمے تو اسلام آنے سے بھی پہلے کے ہیں، کئی صدیوں تک مسلمان سپاہی افغانستان سے گزر کر انڈیا تک جاتے رہے، جب اُنھوں نے اِن مجسموں کو کوئی نقصان نہ پہنچایا تو آپ کیوں انھیں تباہ کرنا چاہتےہیں؟
گھوسٹ وارز میں درج ہے کہ ملا عمر نے جواب دیا، ہو سکتا ہے اُنھوں نے مجسمے اس لیے تباہ نہ کیے ہوں کہ اُن کے پاس مطلوبہ ٹیکنالوجی نہ تھی۔
کتاب کے مطابق ملا عمر کا کہنا تھا: ’قیامت کے روز یہ تمام پہاڑ مٹی بن جائیں گے اور ہوا میں تحلیل ہو جائیں گے۔ اُس روز اگر یہ بت اسی شکل میں اللہ کے پاس پہنچ گئے تو ملا عمر خدا کو کیا منہ دکھائے گا۔‘
’طالبان کی پہلی حکومت کے دوران بدھ مت کے 2500 آثار تباہ کیے گئے‘
افغانستان کے قومی عجائب گھر کے سابق ڈائریکٹر عمر خان مسعود کہتے ہیں کہ میوزیم کا بڑا حصہ بدھ مت کے دور کے آثار پر مشتمل تھا۔
انھوں نے بی بی سی کو بتایا: ’طالبان کی پہلی حکومت کے دوران میوزیم میں موجود بدھ مت کے دور کے تقریباً 2500 آثار تباہ کر دیے گئے اور جو محفوظ رہے وہ بھی اس وجہ سے کہ میوزیم کے عملے نے انھیں چھپا دیا تھا۔‘
سنہ 2003 میں یونیسکو نے بامیان کی وادی کو عالمی ورثے کی فہرست میں شامل کیا تاہم بدھا کے مجسمے اس سے بہت پہلے تباہ کیے جا چکے تھے۔
مجسمے دوبارہ کیوں تعمیر نہ کیے جا سکے؟
مجسموں کی تباہی کے 10 سال بعد سنہ 2011 میں یونیسکو نے اعلان کیا کہ اس کے بعد مجسموں کی بحالی کا کوئی منصوبہ نہیں اور نہ ہی ان کی دوبارہ تعمیر عملاً ممکن ہے۔
دو دہائیوں کے دوران مختلف ممالک کے ماہرینِ آثار قدیمہ نے مجسموں کی بحالی کا جائزہ لیا ہے۔ یونیسکو جاپان اور اٹلی کے آثار قدیمہ کے ماہرین کے ساتھ مل کر بامیان کی غاروں اور دیواروں پر پائی گئی تصویروں کی بنیاد پر اس مقام کے باقیات کو محفوظ کرنے کے لیے کام کرتا رہا۔
سابق افغان حکومت میں یہ بھی مانا جاتا تھا کہ بدھا کے مجسموں کی تباہی کو اس کی تاریخ کا حصہ سمجھا جا سکتا ہے۔
موجودہ طالبان حکومت کہتی ہے کہ وہ افغانستان کے تاریخی یادگاروں اور نوادرات کی حفاظت کر رہی ہے اور بامیان وادی کی حفاظت کے لیے ایک خصوصی یونٹ بنایا گیا ہے۔