عربی سادات کے پاس موجود پیغمبرِ اسلام اور دیگر شخصیات سے منسوب تبرکات لاہور کی بادشاہی مسجد کیسے پہنچے؟

    • مصنف, وقار مصطفیٰ
    • عہدہ, صحافی و محقق
  • مطالعے کا وقت: 10 منٹ

لاہور کے شمال میں زمین سے 15 فٹ بلند چبوترے پر واقع بادشاہی مسجد کے سرخ پتھر بارش سے گلابی ہو رہے تھے جب 17ویں صدی میں بنی مسلمانوں کی اس عبادت گاہ کے پیش امام اور خطیب مولانا سید محمد عبدالخبیر آزاد اِس کے شاندار محرابی دروازے سے گزر کر ہمیں بالائی منزل پر لے کر گئے۔

اُوپری منزل پر ’تبرکاتِ مقدسہ‘ کی تختی کے تلے سے گزریں تو ایک گیلری میں داخل ہوتے ہیں۔ یہاں مسلمانوں کی مقدس کتاب قرآن مجید کی تلاوت اور ترجمے کے پُراثر صوتی پس منظر میں شیشوں سے محفوظ بڑے اور چھوٹے خانوں میں پیغمبرِ اسلام اور دیگر مذہبی شخصیات سے منسوب تقریباً 27 اشیا رکھی ہیں، جنھیں مسلمان متبرک مانتے ہیں اور ہر روز ’صبح آٹھ بجے سے اذانِ مغرب تک‘ انھیں دیکھا جا سکتا ہے۔

بادشاہی مسجد کے خطیب مولانا آزاد، جو اسلامی مہینوں کے آغاز کا تعین کے لیے قائم سرکاری ادارے رویت ہلال کمیٹی کے سربراہ بھی ہیں، نے دھیمے انداز میں بی بی سی کو بتایا کہ یہاں موجود تبرکات پیغمبر اسلام، اُن کی بیٹی حضرت فاطمہ، حضرت علی، حضرت امام حسن، حضرت امام حسین اور حضرت عبدالقادرجیلانی سے منسوب ہیں۔

مولانا آزاد نے بتایا کہ ’پہلی متبرک چیز موئے مبارک ہے، یعنی پیغمبرِ اسلام کا بال، جسے مہدب عدسے یا میگنیفائینگ گلاس سے دیکھا جاتا ہے۔ یہ مہدب عدسہ شیشے کے شیلف ہی میں نصب ہے۔‘

’اس کے ساتھ حضور سے منسوب ایک گُدڑی، ایک سبز عمامہ اور وہ کلاہ یا ٹوپی ہے جس کے گرد یہ عمامہ باندھا جاتا تھا، ایک روئی بھرا جُبہ مبارک ہے اور ایک عصا یعنی چھڑی ہے۔ اِن تبرکات کے پس منظر میں حضور سے منسوب عَلَم یعنی جھنڈے کی نقل ہے۔‘

’یہاں غلافِ کعبہ اور غلافِ روضہ رسول ہے، رُکن یمنی (یمن کا پتھر) اور غارِحرا کا پتھر ہے۔ (اسلامی عقائد کے مطابق غارِ حرا میں پیغمبرِ اسلام عبادت کرتے تھے اور یہیں اُن پر پہلی وحی اُتری تھی۔)‘

’یہاں حضور سے منسوب تبان (گھٹنا یا تہہ بند)، جوتا، ایک جوتے کا خاکہ اور ایک صندل رنگ پتھر ہے جس پر آپ کے قدم مبارک کا نشان ثبت ہے۔ پتھر انھیں آرام دینے کے لیے نرم پڑ گیا تھا۔‘

مولانا آزاد نے ہمیں حضرت علی، امام حسن، امام حسین اور عبدالقادر جیلانی سے منسوب تبرکات بھی دکھائے۔

مسجد سے منسلک حبیب الرحمٰن اعوان نے بی بی سی کو بتایا کہ ’تبرکات کے تحفظ کے لیے ہر چند ماہ بعد ماہرین کی ایک ٹیم انھیں ایک کیمیائی عمل سے گزارتی ہے۔‘

تبرکات کا سفر

سید محمد لطیف نے لاہور کی تاریخ پر مبنی اپنی کتاب ’لاہور: اِٹس ہسٹری، آرکیٹیکچرل ریمینز اینڈ اینٹیکوئٹیز، وِد این اکاؤنٹ آف اِٹس ماڈرن انسٹی ٹیوشنز، انہیبٹینٹس، دیئر ٹریڈ، کسٹمز‘ میں اِن تبرکات کی صداقت کے بارے میں فقیر نور الدین کا بیان نقل کیا ہے۔

فقیر نور الدین فقیر عزیز الدین کے بھائی تھے جو مہاراجا رنجیت سنگھ کے دربار میں ایک معالج، ماہر لسانیات، سفارتکار اور وزیر خارجہ تھے۔

سنہ 1853 میں لارڈ لارنس کی درخواست پر یہ بیان فقیر نور الدین نے فارسی میں تحریر کیا تھا اور اسے انگریزی میں فقیر سید جمال الدین نے منتقل کیا۔

اس بیان کے مطابق یہ تبرکات ابتدا میں عرب کے سادات اور دمشق اور قسطنطنیہ کے قاضیوں کے پاس تھے۔

سنہ 1401 میں تیمور کے دمشق فتح کرنے پر اور سنہ 1402 میں قسطنطنیہ کے حکمران کی طرف سے پیش کیے گئے تحائف میں یہ شامل تھے۔ بعد ازاں یہ مغل سلطنت کے بانی ظہیر الدین بابر تک پہنچے جو انھیں سنہ 1526 میں ہندوستان لائے۔

’محمد شاہ کی وفات کے بعد جب مغل سلطنت ٹوٹ پھوٹ کے دہانے پر پہنچ چکی تھی تو احمد شاہ ابدالی نے ہندوستان پر چڑھائی کی اور محمد شاہ کی بیٹی (مغلانی بیگم) کو اپنے بیٹے کے لیے بیاہ لیا۔ اُن کی والدہ ملکہ زمانی نے، دلی میں خود کو غیر محفوظ پا کر اپنے تمام مال و اسباب سمیت، جن میں یہ تبرکات بھی شامل تھے، جموں کی طرف ہجرت کر لی۔‘

’ضرورت کے باعث انھیں یہ تبرکات جموں کے ایک معزز تاجر کے پاس رہن رکھنا پڑے۔ کچھ ہی عرصے بعد اُن کی بیٹی مغلانی بیگم کابل میں وفات پا گئیں اور مرحوم شہزادی کی میت دلی میں تدفین کے لیے ہندوستان لائی گئی۔ راستے میں گجرات کے مقام پر سکھ لٹیرے گوجر سنگھ بھنگی نے تابوت سے اس کے قیمتی زیورات اُتار لیے۔‘

’جب تابوت جموں پہنچا تو بیوہ ملکہ نے دلی روانگی کی تیاری کرتے ہوئے اِن مقدس تبرکات کو چھڑانے کی خواہش ظاہر کی۔ چِٹی کے شاہ محمد بازا اور پیر محمد چٹھہ، جو جموں میں مقیم تھے، نے اپنے بیٹوں شیخ سوندھا اور غلام محمد کو اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ ملکہ سے درخواست کریں کہ یہ تبرکات انھیں عطا کر دیے جائیں، اور اس کے عوض وہ 80 ہزار روپے نذرانہ پیش کریں گے۔ ملکہ نے خوش دلی سے ان کی درخواست قبول کر لی۔‘

’بعد ازاں پیر محمد اور شاہ محمد بازا نے ان مقدس تبرکات کو اس رقم کے تناسب سے آپس میں تقسیم کر لیا جو ہر ایک نے ادا کی تھی، اور اپنے اپنے گھروں کو روانہ ہو گئے۔ پیر محمد اپنے حصے کے تبرکات رسول نگر لے گئے اور انھیں قلعے کے ایک برج میں محفوظ کر دیا۔‘

’مہاراجا رنجیت سنگھ کے والد سردار مہا سنگھ نے چٹھوں کو شکست دے کر رسول نگر پر قبضہ کر لیا اور ان کی تمام املاک کے ساتھ یہ مقدس تبرکات بھی اپنے قبضے میں لے لیے۔ سردار نے انھیں گوجرانوالا میں ایک حویلی میں محفوظ رکھا، جہاں وہ ان کی وفات تک محفوظ رہے۔‘

’جب شاہ زمان کے ہندوستان کی طرف پیش قدمی کی خبر سے ملک میں خوف و ہراس پھیل گیا تو مہاراجا نے اپنی تمام دولت، جن میں یہ تبرکات اور ’چٹھیاں والی‘ نامی توپ بھی شامل تھی، اپنی اہلیہ بی بی مہتاب کور کی نگرانی میں مکیریاں کے قلعے میں محفوظ رکھنے کے لیے بھیج دی۔ یہ قلعہ اس وقت ان کی ساس مائی سدا کور کی ملکیت تھا۔‘

’ایک دن اتفاقاً قلعے میں شدید آگ بھڑک اٹھی جو ہر سمت پھیل گئی۔ سب کچھ جل کر خاکستر ہو گیا۔ لیکن جب آگ اس عمارت کے دروازوں تک پہنچی جس میں بارود کی بڑی مقدار رکھی ہوئی تھی اور جس کی بالائی منزل میں یہ تبرکات محفوظ تھے، تو آگ خود بخود بجھ گئی۔ اس عمارت کے اندر موجود ہر چیز بالکل محفوظ رہی۔‘

’اس واقعے کے بعد قلعے کے تمام باشندے، سکھ اور مسلمان، اس بات پر یقین کرنے لگے کہ ان تبرکات میں کوئی فوق الفطرت تاثیر موجود ہے اور ان کے احترام اور عقیدت میں مزید اضافہ ہو گیا۔ سدا کور نے بھی ان تبرکات کو انتہائی عقیدت کی نگاہ سے دیکھنا شروع کر دیا۔ چنانچہ جب شاہ زمان کے کابل واپس چلے جانے کے بعد مہاراجا نے اپنی جائیداد واپس کرنے کا مطالبہ کیا تو مائی نے سب کچھ واپس کر دیا مگر تبرکات اپنے پاس رکھ لیے۔‘

’اُن کی وفات کے بعد مہاراجا شیر سنگھ اُن کی جائیداد کے وارث بنے اور یہ تبرکات بھی ان کے قبضے میں آ گئے۔ انھوں نے انھیں چوِنڈا کے قلعے میں محفوظ رکھا جب تک انھیں سندھیانوالیا سرداروں، اجیت سنگھ اور لہنا سنگھ، نے قتل کر دیا۔‘

’جب سندھیانوالیہ سرداروں کو شکست دے کر اور قتل کر کے راجا ہیرا سنگھ اقتدار میں آئے تو مقتول مہاراجا کی جائیداد ریاست کے قبضے میں لے لی گئی۔ اس وقت ریاست کے سربراہ ہیرا سنگھ تھے اور انھوں نے یہ تبرکات لاہور میں اپنی حویلی میں محفوظ رکھے۔‘

’سنہ 1901 میں راجا ہیرا سنگھ قتل ہو گئے اور ان کی تمام جائیداد، بشمول ان تبرکات کے، سکھ حکومت کے قبضے میں آ گئی۔ اُس وقت کے وزیر سردار جواہر سنگھ نے انھیں اپنے ایک معتمد خادم، اصطبل کے نگران کلی کے سپرد کر دیا، جو دو برس تک ان کی نگہداشت پر مامور رہے۔‘

’اس کے بعد مہارانی جنداں کے حکم سے یہ تبرکات خواب گاہِ کلاں کے توشہ خانے میں رکھ دیے گئے۔ اس کمرے کی چابی رسول جُوَند کشمیری کے پاس رہتی تھی، جو جیون سنگھ توشہ خانیہ کے مختار تھے، جبکہ حافظ بدرالدین وہاں شمعیں روشن کرتے اور پھول نچھاور کیا کرتے تھے۔‘

یہ تبرکات اسی حالت میں محفوظ رہے یہاں تک کہ برطانوی حکومت نے سنہ 1849 میں پنجاب کو اپنے قبضے میں لے لیا۔

تبرکات کا وہ حصہ جو چِٹی کے شاہ محمد بازا کے حصے میں آیا تھا، اُن کی اولاد کے پاس ہی رہا، یہاں تک کہ فقیر سید نورالدین نے اسے خرید لیا۔

لارنس کی ان معلومات کے لیے فقیر سید نور الدین سے سنہ 1853 میں کی گئی درخواست، یہ بیان اور حکومت کا ستائش کا خط لاہور کے عجائب خانہ میں محفوظ ہیں۔

بادشاہی مسجد اور تبرکات مسلمانوں کے حوالے

جب ایسٹ انڈیا کمپنی نے پنجاب کو اپنی سلطنت میں شامل کیا تو یہ تبرکات بھی اس کے قبضے میں آ گئے، تاہم انتیں لاہور کے قلعے ہی میں رہنے دیا گیا۔

تاریخ پر گہری نگاہ رکھنے والے پنجاب پبلک لائبریریز کے ڈائریکٹر جنرل کاشف منظورکے مطابق اپنے دورۂ پنجاب کے دوران میں ہندوستان کے وائسرائے لارڈ کیننگ (1856–1862) نے بھی ان تبرکات کی زیارت کی۔ یوں یہ تبرکات یورپی اور مقامی معزز شخصیات کی توجہ کا مرکز بن گئے۔

’تاہم بعض اخبارات میں ان کے مذہبی پہلو کو نظر انداز کرتے ہوئے یہ تجویز دی گئی کہ انھیں انگلستان بھیج دیا جائے یا نیلام کر دیا جائے۔‘

بادشاہی مسجد مہاراجا رنجیت سنگھ اور ان کے بعد کے سکھ حکمرانوں کے دورِ حکومت میں فوجی مقاصد کے لیے استعمال ہوتی رہی تھی۔ برطانوی حکومت نے بھی 1857 کی بغاوت کے دوران میں اور اس کے بعد اسے ایک فوجی چھاؤنی کے طور پر استعمال کیا۔

تاہم، کاشف منظورنے بی بی سی کو بتایا کہ مسلمانوں میں بڑھتی ہوئی بے چینی کو کم کرنے کے لیے سنہ 1856 میں پنجاب کے چیف کمشنر سر جان لارنس نے قلعے اور اس کے نواح کے ذمہ دار فوجی حکام سے مشاورت کے بعد حکومتِ ہند سے منظوری حاصل کی کہ مسجد کو لاہور کی مسلمان برادری کے حوالے کر کے بحال کیا جائے۔

ہنری رینارگولڈنگ نے اپنی کتاب ’اولڈ لاہور: ریمنسینسز آف اے ریزیڈنٹ‘ میں ایک دستاویز کا حوالہ دیا ہے، جو لاہور کے 70 ممتاز مسلمانوں کے دستخط شدہ ایک خط کا ترجمہ ہے، جس میں انھوں نے اس حوالگی پر حکومتِ ہند کا شکریہ ادا کیا، سر جان لارنس کے توسط سے۔

’اس کے علاوہ ، قاضی حفظ الدین، نواب عبدالرحمٰن، نواب احمد اللہ خان اور 67 دیگر کے دستخط شدہ اس خط میں بتایا گیا ہے کہ سید بزرگ شاہ کو مسجد کا متولی اور پیش امام مقرر کیا گیا ہے۔‘

کاشف منظور کے مطابق تبرکات انجمن اسلامیہ لاہور نے پنجاب کے گورنر کے حکم پر سنہ 1883 میں وصول کیے اور فوری طور پر بادشاہی مسجد میں رکھوا دیے۔

’مسجد کی مرمت اور تزئین و آرائش کا سلسلہ شروع ہوا، جب کہ بڑے پیمانے پر طویل المدتی بحالی کا کام سنہ 1939 میں سر سکندر حیات خان کی قیادت میں آغاز ہوا جو پاکستان بننے کے بعد بھی جاری رہا۔ انھوں نے ان اخراجات کے لیے مسلمان زمین داروں پر خصوصی ٹیکس لگایا۔‘

مولانا آزاد کا کہنا تھا کہ بادشاہی مسجد اور ان نودارات کو دیکھنے کے لیے ہزاروں لوگ آتے ہیں، خاص طورپر ترکی سے وفود۔

’اب ان کے لیے ایک نیا ہال بنایا گیا ہے، یہ تمام نوادارت جلد وہاں شفٹ کر دیے جائیں گے تاکہ لوگ اُن کی بہتر طور پر زیارت کر سکیں اور روحانی سکون حاصل کر سکیں۔‘

بین المسالک، بین المذاہب ہم آہنگی کا مرکز

مولانا آزاد کے مطابق تقریباً ایک لاکھ نمازیوں کی گنجائش رکھتی بادشاہی مسجد اتحاد اُمت کا مرکزہے۔

مسجد سے منسلک حبیب الرحمٰن اعوان نے بتایا کہ مسجد کے چاروں کونوں پر مربع مینار قائم ہیں جن کے اوپر سرخ پتھر کے بنے نیم پویلین نما ڈھانچے ہیں، جن پر سفید سنگِ مرمر کے گنبد نصب ہیں۔

’صحن کے چاروں کونوں پر بلند، ہشت پہلو مینار (برج) موجود ہیں۔ مغل دور میں اس علاقے کی کانوں سے یہ سرخ پتھر حاصل کیا گیا جو بعد میں جے پور بنا۔ گنبدوں اور اندرونی جڑائی کے لیے استعمال ہونے والا سنگِ مرمر بھی راجپوتانہ کے علاقے (موجودہ راجستھان) سے منگوایا گیا، جو مغل دارالحکومت دلی کے جنوب میں تھا۔‘

’اگرچہ بڑے پتھریلے اجزا باہر سے منگوائے گئے، تاہم اینٹیں اور دیگر ضروری تعمیری سامان پنجاب کے مقامی علاقوں سے حاصل کیا گیا۔‘

مولانا آزاد کے مطابق ’اس مسجد میں ہم مسالک کو بھی دعوت دیتے ہیں، مذاہب کو بھی۔ میرے والد سید عبدالقادر آزاد، بھی یہاں خطیب رہے ہیں اور اب یہ ذمہ داری میرے پاس ہے۔ہماری کوشش رہتی ہے کہ اتحاد، یگانگت اور محبت کا پیغام یہاں سے جائے۔‘

’اس کی ایک نمایاں مثال 1974 میں پاکستان میں منعقد ہونے والی اسلامی سربراہی کانفرنس ہے جس کے دوران میں 39 مسلم ممالک کے سربراہان نے تب بادشاہی مسجد کے خطیب مولانا عبدالقادر آزاد کی امامت میں بادشاہی مسجد میں نمازِ جمعہ ادا کی۔ اس موقع پر پاکستان کے ذوالفقار علی بھٹو، سعودی عرب کے شاہ فیصل، لیبیا کے معمر قذافی اور فلسطین کے یاسر عرفات بھی شریک تھے۔‘

حبیب الرحمٰن اعوان نے مسجد کے اطراف کی جانب اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ اس کے ایک جانب سکھوں کا مرکز ہے، دوسری جانب ہندو مندر اور تیسری جانب مسیحی عبادت گاہ۔

اسی طرح ان کا کہنا تھامختلف دنوں میں مختلف مسالک کے علما یہاں خطاب کرتے ہیں۔