ملتان سلطانز کے مالک گوہر شاہ جنھیں ’ہر شخص نے پی ایس ایل میں سرمایہ کاری سے منع کیا‘

گوہر شاہ
مطالعے کا وقت: 6 منٹ

’گوہر شاہ ایک پاکستانی ہے جسے کرکٹ سے محبت ہے۔ کرکٹ، ریڈنگ اور بائیو ٹیک اِن چیزوں سے مجھے لگاؤ ہے۔‘

پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کی سب سے مہنگی ٹیموں میں سے ایک ملتان سلطانز کے نئے مالک گوہر شاہ نے بی بی سی اُردو کو اپنا تعارف کچھ یوں کروایا۔

علی ترین اور پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے درمیان اختلافات کے بعد، اب گوہر شاہ ہی کی بدولت ملتان سلطانز کی پی ایس ایل میں واپسی ممکن ہوئی ہے۔

انھوں نے پی ایس ایل کی رواں برس سامنے آنے والی دو نئی فرنچائزز میں سے ایک ’سیالکوٹ سٹالینز‘ کو خریدا تھا اور بعد میں اس کا نام بدل کر ملتان سلطانز رکھ دیا گیا۔

بی بی سی نے اس انٹرویو میں گوہر شاہ کی علی ترین سے دوستی کے علاوہ پی ایس ایل میں سرمایہ کاری کے فیصلے اور ٹیم کو لے کر اُن کے ویژن کے بارے میں جاننے کی کوشش کی ہے۔

علی ترین سے دوستی اور نام کی کہانی

تو کیا گوہر شاہ محض علی ترین کے دوست ہیں یا ان کی نمائندگی بھی کر رہے ہیں؟

اس پر گوہر شاہ نے کہا کہ ’علی سے واقعی میری دوستی ہے۔ جب میں نے بولی جمع کروائی تو علی نے کال کر کے سپورٹ کیا کہ کوئی بھی چیز چاہیے تو بتانا۔‘

وہ کہتے ہیں کہ نیلامی میں وہ دونوں ایک دوسرے کے خلاف حصہ لے رہے تھے مگر بعد میں علی ترین نے انھیں کہا کہ ’میرے پاس پچھلے سال کا جو بھی سامان پڑا ہے تو میرا بندہ آپ کو پہنچا دے گا تاکہ آپ کو کسی چیز کی کمی نہ ہو۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’جو ہوا وہ علی ترین اور پی سی بی کے درمیان تھا۔ میں اُن (علی ترین) سے ٹیم نہیں چھین رہا۔ نہ ہی میں نے پی سی بی سے زبردستی ٹیم لی ہے۔‘

ٹیم تو سیالکوٹ سٹالینز کے نام سے رجسٹر ہوئی تھی مگر اس کا نام ملتان سلطانز رکھا گیا! تو گوہر شاہ کو ملتان سلطانز یا جنوبی پنجاب سے کیا لگاؤ ہے؟

اس پر وہ کہتے ہیں کہ اُن کا آبائی تعلق جلالپور پیروالا سے ہے جو کہ ملتان سے ایک گھنٹے کی مسافت پر واقع شہر ہے۔ اُن کے بقول اُن کے خاندان کی جڑیں جنوبی پنجاب میں تھیں تو انھوں نے اسی لیے ٹیم کا نام ملتان سلطانز رکھا۔

گوہر شاہ کہتے ہیں کہ ’جس بھی بندے سے پوچھا اس نے کہا کہ (پی ایس ایل میں) بالکل سرمایہ کاری مت کرنا کیونکہ آپ کو سالانہ تین سے چھ ملین ڈالر کا نقصان ہو گا، جو کہ بہت زیادہ پیسہ ہوتا ہے۔ لیکن زد تھی، شوق تھا۔‘

تصویر

،تصویر کا ذریعہ@MultanSultans

’سی ڈی وینچرز‘ کیا ہے اور گوہر شاہ کے پاس اتنا پیسہ آیا کہاں سے؟

ہم نے اُن سے یہ بھی پوچھا کہ ملتان سلطانز کی ٹیم خریدنے والی ’سی ڈی وینچرز‘ کیا ہے کیونکہ بہت سے لوگ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ اُن کے پاس اتنے پیسے کہاں سے آئے۔

گوہر شاہ نے بتایا کہ ’سی ڈی وینچرز میرے ٹوئٹر پر نام ’سی ڈی نائنٹین‘ سے متاثر ہے۔ سی ڈی نائنٹین ایک پروٹین ہے جو آپ کے مدافعتی نظام کا حصہ ہوتا ہے۔'

وہ بتاتے ہیں کہ سی ڈی نائنٹین سے متعلق ایک دوا بنانے والی کمپنی میں ’میرے سب سے زیادہ پیسے بنے۔‘

’اس کے مالک کے طور پر میں نے اپنا نام سی ڈی نائنٹین رکھا تو ادھر سے پھر جب ہم یہاں پر ملتان سلطان کو خریدنے کے لیے ایک کمپنی بنا رہے تھے تو میں نے کہا کہ سی ڈی سے سی ڈی وینچرز کر لیتے ہیں تو سی ڈی وینچرز کا نام آیا۔‘

وہ کہتے ہیں کہ اسی لیے سی ڈی وینچرز کے نام پر انٹرنیٹ پر کچھ نہیں ملے گا کیونکہ دراصل بائیو ٹیکنالوجی سے کمائے گئے پیسوں سے پی ایس ایل میں سرمایہ کاری کی گئی ہے۔

پہلی نیلامی میں ناکامی کے بعد ’دل ٹوٹ گیا تھا‘

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

گوہر نے بتایا کہ پہلی نیلامی کے دوران ٹیم نہ خرید پانے پر وہ خاصے مایوس تھے۔ ٹی وی سکرینز پر دیکھا گیا کہ وہ رو بھی رہے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’میں بہت مایوس تھا، میرا دل ٹوٹا تھا۔ اتنی محنت کر کے اس عمر میں اتنا آگے آ کر بھی آپ نہ کر پاؤ۔۔ تو مجھے یہ افسوس تھا۔‘

’جس چیز سے پیار ہو اور وہ آپ کو نہ ملے تو دل تو ٹوٹتا ہے۔‘

نیلامی کے بعد، ان کے بقول، کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے مالک ندیم عمر نے انھیں اپنے پاس بلایا اور اپنے تجربے کے بارے میں بتایا تاکہ ’میں یہ سمجھ سکوں کہ ٹیم کیسے چلائی جاتی ہے۔‘

’میں واپس لندن چلا گیا، سوچا کہ پیسے بچ گئے۔ جو اللہ نے چاہا اسی میں لگے رہو، ادھر آنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ میں روزمرہ کام میں دوبارہ لگا رہا۔‘

وہ بتاتے ہیں کہ لیکن ایک دن انھیں اچانک فون آیا اور ان سے پوچھا گیا کہ ’کیا آپ ہماری ٹیم خریدنے میں دلچسپی رکھتے ہیں؟‘

وہ کہتے ہیں کہ ’گفتگو شروع ہوئی تو معلوم ہوا کہ یہ پیشکش سیالکورٹ سٹالینز کے نئے مالکان کی طرف سے کی جا رہی تھی۔ وہ 75، 25 فیصد ملکیت چاہ رہے تھے۔‘

’اللہ کی طرف سے راستے کھلے اور ہھر یہ ہوا کہ میں پریس کانفرنس کر رہا تھا۔‘

ملتان سلطانز، گوہر شاہ

’دو ارب تو صرف فرنچائز کی لاگت ہے‘

ملتان سلطانز کی خریداری میں اس قدر تگ و دو کے باوجود تمام چیزوں میں گوہر شاہ کی مرضی شامل نہیں ہے۔ جیسا کہ اس ٹیم کے لیے تمام کھلاڑیوں کی سلیکشن پہلے سے ہو چکی ہے۔

گوہر کہتے ہیں کہ انھیں اس بات پر افسوس ہے کہ کھلاڑیوں کی نیلامی میں تمام 19 لڑکے پہلے ہی سلیکٹ ہو چکے ہیں۔ ’میں نے اسے ری سیٹ کرنے کی کوشش کی لیکن پی سی بی نے کہا ان لڑکوں کے ساتھ زیادتی ہو گی کیونکہ معاہدے ہو چکے ہیں۔‘

اُن کا ملتان سلطانز کے شائقین کے لیے پیغام ہے کہ ’جو میں نے وعدہ کیا، وہ پورا کر کے دکھایا ہے۔ اب لوگوں کی باری ہے کہ ٹیم کو سپورٹ کریں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک آسان اور سستا کاروباری فیصلہ نہیں تھا۔ ’دو ارب تو صرف فرنچائز کی لاگت ہے۔ اس کے اوپر پلئرز کی فیس، سٹاف کی فیس، کمرشلائزیشن کی فیس۔ یہ ساری چیزیں ہم صرف تب ہی برداشت کر سکتے ہیں اگر فینز ہمیں بھرپور سپورٹ کریں۔‘

اس سوال پر کہ کیا وہ کھلاڑیوں پر سرمایہ کاری کریں گے، گوہر شاہ نے کہا کہ 'ہاں، اگر وہ اس کے مستحق ہیں تو۔ سٹیو سمتھ ہماری ٹیم میں ہیں، وہ لیگ کے سب سے مہنگے کھلاڑی ہیں۔ ہماری ٹیم سب سے مہنگی ہے جس میں لیگ کے سب سے مہنگے کھلاڑی ہیں۔‘

انھوں نے ذکر کیا کہ ٹیم میں صاحبزادہ فرحان بھی شامل ہیں جنھوں نے ٹی 20 ورلڈ کپ میں سب سے زیادہ رنز بنائے تھے۔ ’میں جہاں جاتا ہوں، میرے نصیب میں مہنگا کا لفظ پھنسا ہوا ہے۔ لیکن اگر چیز اچھی ہے اور اس سے ہمیں فائدہ ہو گا تو کوئی مسئلہ نہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ پی سی بی نے بھی حد مقرر کر رکھی ہے کہ آپ کھلاڑیوں پر 1.6 ملین ڈالر سے زیادہ نہیں خرچ سکتے۔ اس کے اندر رہتے ہوئے ہماری کوشش ہو گی کہ بہترین کھلاڑیوں کو لائیں۔