امریکہ کی جانب سے ایرانی تیل پر عائد پابندیاں عارضی طور پر ہٹانے کے فیصلے سے انڈیا کو کتنا فائدہ ہو گا؟

Indian Oil

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنانڈیا اپنی تیل کی ضروریات کا 90 فیصد حصہ درآمد کرتا ہے
    • مصنف, سوتک بسواس
    • عہدہ, نامہ نگار برائے انڈیا
  • مطالعے کا وقت: 7 منٹ

امریکہ نے تیل و گیس کی بین الاقوامی مارکیٹ پر دباؤ کم کرنے کی غرض سے سمندر میں پہلے سے موجود بحری جہازوں پر لدے ایرانی تیل کی خرید و فروخت سے پابندی عارضی طور پر ہٹانے کا اعلان کیا ہے۔

امریکی وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ ’مختصر مدت کی اس اجازت‘ سے تقریباً 14 کروڑ بیرل تیل عالمی منڈیوں کے لیے دستیاب ہو سکے گا۔

اُن کا مزید کہنا تھا کہ یہ اجازت ’صرف ایسے ایرانی تیل تک محدود ہے جو پہلے سے ہی ٹرانزٹ میں ہے (یعنی سمندر میں موجود ہے)۔ اس کے تحت نئی خریداری یا پیداوار کی اجازت نہیں ہو گی۔‘

یہ متوقع امریکی اقدام جنگ کے سبب دباؤ کا شکار جہاز رانی کے شعبے اور تیل کی پیداوار میں حائل رکاوٹوں کا ازالہ کر کے کروڑوں بیرل تیل بین الاقوامی منڈی میں شامل کرے گا۔

واشنگٹن کی یہ نئی ممکنہ حکمت عملی انڈیا کے لیے بہت فائدے مند ثابت ہو سکتی ہے۔

انڈیا اپنی تیل کی ضروریات کا 90 فیصد حصہ درآمد کرتا ہے اور اسے رعایتی نرخوں پر تیل خریدنے میں ہمیشہ سے دلچسپی رہی ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ امریکہ کی جانب سے پابندیوں میں نرمی انڈیا کے لیے فائدے کا باعث بنے گی۔

امریکہ کے اس فیصلے کا مقصد شپنگ اور تیل کی پیداوار میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کے دوران عالمی سپلائی میں بڑھتی ہوئی تنگی کو کم کرنا ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ امریکہ کی طویل عرصے سے جاری پالیسی میں ایک نمایاں اور غیر یقینی نوعیت کی تبدیلی ہے۔

اس سے قبل فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں امریکی وزیر خزانہ بیسنٹ نے بتایا تھا کہ اِس وقت سمندر میں موجود ایرانی کارگوز (تجارتی جہازوں) میں 14 کروڑ بیرل تیل موجود ہے اور یہ کہ امریکہ کو امید ہے کہ اس تیل کو خریداروں تک پہنچنے کی اجازت دینے سے 10 سے 14 دن تک تیل کی عالمی مارکیٹ پر دباؤ کم کرنے میں مدد ملے گی۔

فی الحال چین ایرانی تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے۔ یہ واضح نہیں کہ سمندر میں موجود تیل کس طرح فروخت کیا جائے گا، لیکن امریکی سیکریٹری خزانہ کے مطابق ایشیائی صارفین، جن میں انڈیا، جاپان اور ملائیشیا شامل ہیں، اس متوقع فیصلے سے فائدہ اٹھائیں گے۔

تیل

،تصویر کا ذریعہBloomberg via Getty Images

،تصویر کا کیپشنماہرین کہتے ہیں کہ امریکہ کی جانب سے پابندیوں میں نرمی انڈیا کے لیے فائدے کا باعث بنے گی

انڈیا اس موقع سے سب سے زیادہ فائدہ اُٹھا سکتا ہے۔

انڈیا میں استعمال ہونے والا 60 فیصد خام تیل خلیجی ممالک خصوصاً عراق، سعودی عرب، کویت اور متحدہ عرب امارات سے آتا ہے۔ ان درآمدات کا نصف حصہ آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے، جو ایک تنگ گزرگاہ ہے اور اب تنازع کے باعث بند ہو چکی ہے۔

میری ٹائم انٹیلیجنس کمپنی کپلر میں آئل مارکیٹ کے تجزیہ کار سمت رتولیا کہتے ہیں کہ ’چین میں سرکاری کمپنیوں، نجی ریفائنریوں اور دیگر ایشیائی ممالک کے بعد انڈیا ایک ایسا ملک ہے، جسے تیل کی طلب کے نئے مرکز کے طور پر اُبھرتا ہوا دیکھا جا سکتا ہے۔‘

ایرانی لائٹ اور ہیوی گریڈ کا خام تیل انڈین ریفائنریوں کے لیے نہایت موزوں تھا اور اکثر رعایتی قیمتوں اور ادائیگی کی آسان شرائط کے ساتھ دستیاب ہوتا تھا۔

تیل کی یہ سپلائی 2019 میں رک گئی تھی، جس کی جگہ مشرقِ وسطیٰ اور امریکی خام تیل نے لے لی تھی۔ بعد ازاں یوکرین جنگ کے بعد عالمی منڈی میں تبدیلی کے نتیجے میں رعایتی نرخوں پر موجود روسی تیل نے اس کی جگہ لے لی۔

کارگو

،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images

،تصویر کا کیپشنبیسنٹ کے مطابق اس وقت سمندر میں موجود ایرانی کارگوز میں 14 کروڑ بیرل تیل موجود ہے
مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

جب روسی تیل رعایت پر دستیاب ہوا تو انڈین ریفائنریاں فوراً سرگرم ہو گئیں اور کسی رکاوٹ کے بغیر درآمدات میں تیزی سے اضافہ کر دیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایرانی تیل دوبارہ مارکیٹ میں داخل ہوتا ہے تو اسی طرح کی صورتِ حال دوبارہ جنم لے سکتی ہے۔

کپلر کا اندازہ ہے کہ اس وقت 17 کروڑ بیرل ایرانی کروڈ آئل سمندر میں موجود ہے۔ یہ وہ تیل ہے جو جہازوں پر چڑھا دیا گیا ہے یا سمندر میں موجود ہے۔

اس میں دو اقسام شامل ہیں: وہ تیل جو خریداروں کی جانب سفر میں ہے اور وہ تیل جو بطور فلوٹنگ سٹوریج رکھا گیا ہے۔

کپلر سے منسلک تجزیہ کار ینگ کونگ لوہ کہتے ہیں کہ ’فلوٹنگ سٹوریج سے مراد وہ تیل ہے جو جہازوں پر تو رکھا جاتا ہے لیکن وہ جہاز اپنی جگہ رُکے رہتے ہیں۔‘

’یہ وہ بحری جہاز ہوتے ہیں جو تیل لے کر جا رہے ہوتے ہیں، لیکن بہت آہستہ رفتار سے حرکت کرتے ہیں یا بالکل نہیں کرتے اور کئی دنوں تک ایک ہی علاقے میں ٹھہرے رہتے ہیں۔ عموماً ان کی کم رفتار اور حالیہ ٹریکنگ ڈیٹا سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ کسی فعال ترسیلی راستے پر نہیں ہیں۔‘

سمت رتولیا کے مطابق ایسا ضروری نہیں کہ یہ سارا تیل ہی فروخت کے لیے دستیاب ہو بلکہ اس کا کچھ حصہ پہلے سے ہی فروخت ہو چکا ہوتا ہے۔

دوسرے لفظوں میں یوں کہہ لیجیے کہ ایرانی تیل کی بڑی مقدار پہلے ہی سمندر میں موجود ہے، یا تو جہازوں میں بیرل رکھ کر انھیں کہیں منتقل کیا جا رہا ہے یا پھر وہ فلوٹنگ سٹوریج میں موجود ہیں۔

اس تمام تیل کے لیے ابھی تک خریدار موجود نہیں ہیں۔ اس میں کچھ تیل پہلے ہی فروخت ہو چکا ہے، لیکن ایک بڑا حصہ اب بھی غیر فروخت شدہ ہے۔

سمت رتولیا بتاتے ہیں کہ: ’انڈین ریفائنریاں کم سے کم عملی تبدیلیوں کے ساتھ دوبارہ ان بیرلز کو اپنے نظام میں شامل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں، کیونکہ انھیں پہلے سے اس تیل کی پروسیسنگ کا تجربہ ہے۔‘

انڈیا کے پاس دنیا کی چوتھی بڑی تیل کی ریفائنریاں ہیں اور اسے آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد شدید مشکلات کا سامنا ہے، لیکن چین کے برعکس اس نے ریفائنڈ ایندھن کی برآمدات کو محدود کرنے کی طرف کوئی قدم نہیں بڑھایا۔

ماہرین کے مطابق ایرانی تیل کی مستقل واپسی کا انحصار ریفائننگ کی صلاحیت سے زیادہ تجارت اور جیو پولیٹکس پر ہے۔

A general view of the Mathura Oil Refinery

،تصویر کا ذریعہLightRocket via Getty Images

،تصویر کا کیپشنکپلر کا اندازہ ہے کہ اس وقت 17 کروڑ بیرل ایرانی کروڈ آئل سمندر میں موجود ہے

پابندیاں صرف تیل کی فروخت کو ہی محدود نہیں کرتیں بلکہ وہ شپنگ، انشورنس اور ادائیگیوں کے معاملات کو بھی پیچیدہ بنا دیتی ہیں۔

سمت رتولیا کے مطابق ’اہم عوامل میں پابندیوں میں نرمی کی نوعیت اور اس کی پائیداری (خصوصاً شپنگ سے متعلق)، قیمتوں کا تعین، انشورنس اور لاجسٹکس کے دستیاب طریقۂ کار شامل ہیں۔‘

جب تک ان طریقۂ کار کو واضح یا نرم نہیں کیا جاتا رقم کا لین دین خطرات کا شکار ہی رہتا ہے۔

امریکی سیکریٹری خارجہ نے اس بارے میں بہت کم تفصیل فراہم کی ہے کہ اس طرح کی چھوٹ کا ڈھانچہ کیسے ہوگا اور اس کی ادائیگی کی رقم کو تہران تک واپس جانے سے کیسے روکا جائے گا۔ محکمۂ خزانہ نے اس پر مزید وضاحت سے گریز کیا ہے۔

جب صدر ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا وہ اس تجویز کی حمایت کریں گے تو انھوں نے غیر واضح جواب دیا اور صرف اتنا کہا کہ ’ہم قیمت کو برقرار رکھنے کے لیے جو کچھ ضروری ہوگا کریں گے۔‘

یہ بھی واضح نہیں کہ بیسنٹ کی تجویز کو واشنگٹن میں کتنی پذیرائی ملے گی، جہاں ایوانِ نمائندگان نے ابھی حال ہی میں ایران کے تیل کے شعبے پر پابندیاں سخت کرنے کا بل منظور کیا ہے۔