1970 کی دہائی کا تیل بحران کیا تھا، اور کیا دنیا اس سے بھی بڑے بحران کی طرف بڑھ رہی ہے؟

    • مصنف, راچیل کلن
    • عہدہ, بزنس رپورٹر
  • مطالعے کا وقت: 7 منٹ

دنیا کی اہم ترین آبی گزرگاہ ایک مہینے سے بند ہے اور اس بندش سے یہ عندیہ مل رہا ہے کہ دنیا شاید 1970 کی دہائی میں پیدا ہونے تیل کے بحران سے بھی بڑے کسی بحران کی طرف بڑھ رہی ہے۔

شپنگ کمپنی میسک کے سابق ڈائریکٹر اور جہاز رانی کے امور کے ماہر لارس جینسن کہتے ہیں کہ امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے اثرات 1970 کی دہائی میں جنم لینے والی اقتصادی افراتفری کے مقابلے میں ’زیادہ‘ ہوں گے۔

ان کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گذشتہ مہینے کے اوائل میں بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر فاتح بیرول نے خبردار کیا تھا کہ دنیا کو ’تاریخ کے سب سے بڑے‘ توانائی کے بحران کا سامنا ہے۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ ’یہ 1970 کی دہائی کے بحران سے بڑا بحران ہے، جب تیل کی قیمتوں میں بھونچال آ گیا تھا۔ ہم نے یوکرین پر روس کے حملے کے بعد قدرتی گیس کی قیمت میں اضافہ دیکھا تھا لیکن موجودہ بحران اس سے بھی بڑا ہے۔‘

آبنائے ہرمز کی بندش نے تیل اور گیس کی بین الاقوامی ترسیل کو تہس نہس کر دیا ہے لیکن کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ دنیا آج ماضی کے مقابلے میں ایسے بحران سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

1970 کی دہائی میں کیا ہوا تھا؟

ماہرِ اقتصادی امور اور کرسٹل انرجی کے چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر کیرل نخلے کہتی ہیں کہ 1970 کی دہائی کا تیل کا بحران آج کے بحران سے ’بنیادی طور پر مختلف‘ تھا کیونکہ اُس وقت تیل کی قیمت میں اضافہ ایک ’دانستہ طور پر بنائی گئی پالیسی فیصلے کا نتیجہ تھا۔‘

اکتوبر 1973 میں تیل پیدا کرنے والے عرب ممالک نے اسرائیل کی یوم کپور جنگ کی حمایت کرنے پر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو تیل کی ترسیل پر پابندی عائد کر دی تھی۔ اس کے ساتھ ہی تیل کی پیداوار میں کمی کی گئی، جس سے عالمی سطح پر بحران پیدا ہوا۔

ڈاکٹر نخلے کہتی ہیں کہ اس کا ’نتیجہ یہ نکلا کہ چند ہی مہینوں کے اندر تیل کی قیمتیں تقریباً چار گنا بڑھ گئیں۔‘

اس کے نتیجے میں تیل کا استعمال کرنے والے بڑے ممالک نے ایندھن ذخیرہ کرنا شروع کر دیا اور ڈاکٹر نخلے کے مطابق اس نے ایک ’عالمی معاشی اور مالیاتی بحران' کو جنم دیا، جس کے دیرپا اثرات مرتب ہوئے۔‘

بیلفاسٹ کی کوئنز یونیورسٹی سے منسلک محقق ڈاکٹر تیارنان ہینی کہتے ہیں کہ تیل کی قیمتوں میں اضافے سبب دنیا میں مہنگائی بڑھی ’اس کا مطلب یہ ہے کاروبار میں کمی ہوئی اور بیروزگاری بڑھ گئی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’اس صورتحال کے بالواسطہ بہت بڑے اثرات مرتب ہوئے، جنھوں نے کئی ممالک کے سماجی ڈھانچے کو نقصان پہنچایا، ملک گیر ہڑتالیں ہوئیں، غربت میں اضافہ ہوا اور بہت سارے خاندانوں کو بنیادی ضروریات پوری کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔‘

امریکہ اور برطانیہ دونوں کو 1973 سے 1975 تک جاری رہنے والی کساد بازاری کا سامنا کرنا پڑا اور اس بحران نے 1974 میں ٹید ہیث کی کنزرویٹو حکومت کے خاتمے میں اہم کردار ادا کیا۔

اس وقت تیل کے موجود بحران کے دوران کیا ہو رہا ہے؟

ایک مہینے پہلے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ کی شروعات کے بعد آبنائے ہرمز عملی طور پر جہاز رانی کے لیے بند ہے۔

اس صورتحال نے خلیجی ممالک سے تیل، گیس اور دیگر ضروری سامان کی ترسیل کو شدید متاثر کیا ہے۔ یہ ممالک عام طور پر دنیا کے تیل کا تقریباً پانچواں حصہ برآمد کرتے ہیں۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے خلیجی ممالک سے تیل کی فراہمی دوبارہ شروع کروانے کے لیے مختلف اقدامات کرنے کی کوشش کی ہے، جن میں اتحادی ممالک سے جنگی بحری جہاز بھیجنے کی درخواست اور آبنائے ہرمز سے جہازوں کو گزرنے نہ دینے پر ایران کو سخت نتائج کی دھمکی دینا شامل ہے۔

لارس جینسن نے بی بی سی ٹوڈے کو بتایا کہ خلیجی خطے سے ایک مہینے سے زیادہ عرصے پہلے روانہ ہونے والا زیادہ تر تیل ابھی بھی دنیا بھر کی ریفائنریوں تک پہنچ رہا ہے، لیکن یہ سلسلہ جلد ہی رک جائے گا۔

’اگر کرشماتی طور پر آبنائے ہرمز کل کھل بھی جاتی ہے تب بھی تیل کی موجودہ قلت میں مزید اضافہ ہی ہوگا۔‘

جینسن کہتے ہیں کہ ’ہم قیمتوں میں بڑا اضافہ دیکھیں گے، صرف اس بحران کے دوران ہی نہیں بلکہ اس کے ختم ہونے کے چھ سے 12 مہینے بعد تک۔‘

کیا موجودہ بحران 1970 کی دہائی کے بحران سے بڑا ثابت ہوگا؟

ڈاکٹر نخلے، جو عرب انرجی کلب کی سیکرٹری جنرل بھی ہیں، کہتی ہیں کہ آج کی تیل کی مارکیٹ 1970 کی دہائی کے مقابلے میں کہیں زیادہ متنوع ہے اور مجموعی طور پر تیل کے استعمال میں بھی نمایاں کمی آئی ہے۔

وہ سمجھتی ہیں کہ تیل کی موجودہ قیمتیں زیادہ ہیں، تاہم موجودہ بحران زیادہ شدید نہیں ہے۔

’حالانکہ اپنے حجم کے لحاظ سے موجودہ رکاوٹیں کافی بڑی ہیں لیکن تیل کی موجودہ منڈی 1970 کی دہائی کے مقابلے میں زیادہ مضبوط اور لچکدار ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ آج کی منڈی زیادہ متنوع ہے، تیل پر کم انحصار کرتی ہے اور اس کے پاس ایسے جھٹکوں سے نمٹنے کے لیے بہتر حفاظتی اقدامات اور ہنگامی ردِعمل کے طریقۂ کار موجود ہیں۔

نیٹکسس سی آئی بی میں کموڈٹیز ریسرچ کے ڈائریکٹر جوئل ہینکاک کے مطابق ایک اور اہم فرق یہ ہے کہ 1970 کے بحران کا نشانہ ترقی یافتہ ممالک تھے، جن کے پاس نہ صرف وسائل موجود تھے بلکہ وہ سیاسی طور پر بھی اس صورتحال سے نمٹنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے تھے۔

انھوں نے مزید کہا کہ موجودہ بحران کا بنیادی اثر ترقی پذیر ممالک پر پڑ رہا ہے، جن کے پاس ’ایسے ادارے، مالیاتی استحکام اور اقتصادی طاقت نہیں ہے کہ وہ اس بحران کا مؤثر مقابلہ کر سکیں۔‘ اس کے علاوہ توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والا نقصان، جو آج ایک بڑا مسئلہ ہے، 1970 کی دہائی کے بحران کے دوران بڑا عنصر نہیں تھا۔

وہ کہتے ہیں کہ ’موجودہ بحرن تب ہی ختم ہوگا جب یہ جنگ ختم ہوگی۔‘

ہینی کے مطابق آج کی دنیا کے حق میں کچھ ایسے عوامل بھی کام کر رہے ہیں جو 1970 کی دہائی میں موجود نہیں تھے، جن میں معیشتوں کی بہتر سمجھ بوجھ اور زیادہ ممالک کا تیل کے ذخائر رکھنا شامل ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ’اصل خطرہ یہ ہے کہ اگر بحران طویل ہو جائے تو مستقبل کے بارے میں توقعات بہت زیادہ مایوس کن ہو جائیں گی۔‘

’سب سے اچھا یہی ہوگا کہ یہ تنازع جتنی جلدی ہو سکے ختم ہو جائے اور استحکام کی کوئی شکل بحال ہو جائے۔‘