آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
چین کے ساتھ ’ہونٹ اور دانتوں‘ جیسا تعلق اور ’جوہری یرغمال‘ پڑوسی: ایران جنگ کے باوجود شمالی کوریا ’بے خوف‘ کیوں ہے؟
- مصنف, سنگمی ہان
- عہدہ, بی بی سی نیوز، کوریا
- مطالعے کا وقت: 8 منٹ
امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف چھیڑی گئی جنگ کے بعد شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن کے ذہن میں بھی کچھ پیچیدہ خیالات ہوں گے۔
شمالی کوریا نے سرعت کے ساتھ اس حملے کی مذمت کی تھی اور اسے ’بلاجواز جارحیت‘ قرار دیا تھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایران اور شمالی کوریا نے 1979 کے بعد سے ’امریکہ مخالف فرنٹ لائن بلڈ الائنس‘ بنا رکھا ہے جس کے تحت دونوں ممالک نے میزائلوں کی تیاری میں بھی تعاون کیا۔
شمالی کوریا کے ایک سابق سفارت کار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ ایران شمالی کوریا کے ہتھیاروں کی سب سے بڑی منزل ہے۔ تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دو چیزیں شمالی کوریا کو ایران کے مقابلے میں بہت زیادہ فائدہ مند صورتحال میں ڈال دیتی ہیں۔
جوہری ہتھیار اور چین۔
سنہ 2003 کی عراق جنگ کے دوران اُس وقت شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ال ان 50 روز کے لیے منظر نامے سے غائب ہو گئے تھے۔ جنوبی کوریا کی انٹیلی جنس کے مطابق انھوں نے اپنا زیادہ تر وقت دارالحکومت پیانگ یانگ سے 600 کلو میٹر دُور سمجیون کمپاؤنڈ کے ایک بنکر میں گزارا تھا۔
لیکن اس کے برعکس کم جونگ اُن عوامی نظروں سے اوجھل نہیں ہوئے، یہاں تک کہ ایران کے رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے باوجود بھی وہ کہیں نہیں چھپے۔
جنوبی کوریا کی نیشنل انٹیلی جنس سروس کے سابق ڈائریکٹر جانگ یونگ سیوک کا کہنا ہے کہ اس طرح کا مختلف ردِعمل ایک طرح سے شمالی کوریا کے اپنی طاقت پر بڑھتے ہوئے اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔
جوہری طاقت
شمالی کوریا ایک ڈی فیکٹو جوہری طاقت ہے، حتیٰ کے 2025 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی یہ کہا تھا کہ شمالی کوریا ’ایک طرح سے جوہری قوت‘ ہے اور اس کے پاس ’بہت سے جوہری ہتھیار‘ ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (سپری) کے مطابق شمالی کوریا کے پاس 50 جوہری وار ہیڈز ہیں اور 40 مزید وار ہیڈز تیار کرنے کے لیے مواد بھی موجود ہے۔
جولائی 2024 میں جنوبی کوریا نے خبردار کیا تھا کہ شمالی کوریا ٹیکٹیکل جوہری ہتھیار تیار کرنے کے ’آخری مراحل‘ میں ہے، جس کی رینج کم ہے اور اس کا مقصد اس ہتھیار کو میدان جنگ میں استعمال کرنا ہے۔
گذشتہ برس جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ نے کہا تھا کہ شمالی کوریا بین البراعظمی بیلسٹک میزائل تیار کرنے کے بہت قریب ہے، جو جوہری ہتھیار کے ساتھ امریکہ تک مار کر سکتے ہیں۔ حالانکہ میزائل کی رہنمائی اور فضا میں دوبارہ داخلے کے دوران وار ہیڈ کی حفاظت کرنے کی صلاحیت پر سوالیہ نشان برقرار ہے۔
عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے مطابق ایران کے اپنے جوہری پروگرام سے متعلق بڑے عزائم ہیں، لیکن جوہری ہتھیار بنانے کے لیے درکار کسی ’سٹرکچرڈ پروگرام‘ کے شواہد نہیں ملے۔
’آسن انسٹی ٹیوٹ فار پالیسی اسٹڈیز‘ کے مشرق وسطیٰ کے ماہر جنگ جی ہیانگ کے مطابق سنہ 2015 کے جوہری معاہدے کے بعد ایران نے یورینیم کی افزودگی محدود کرنے پر بھی رضا مندی ظاہر کی تھی۔ ایران نے آئی اے ای اے کے معائنہ کاروں کے دوروں میں بھی نرمی کی تھی، جس کی وجہ سے اس کا جوہری پروگرام بہت سست ہو گیا تھا۔
لیکن ٹرمپ کی جانب سے اس معاہدے سے دستبرداری کے بعد ایران نے جوہری تنصیبات پر عالمی توانائی ایجنسی کے معائنہ کاروں کے دورے بھی محدود کر دیے تھے۔
آئی اے ای اے کی گذشتہ ماہ جاری ہونے والی رپورٹ کے مطابق ایران نے گذشتہ برس جون میں امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد ایجنسی کے ساتھ ہر طرح کا تعاون ختم کر دیا تھا۔
لیکن دوسری جانب شمالی کوریا نے سنہ 2006 میں پہلا ایٹمی تجربہ کیا اور اس کے تین برس بعد ایک اور تجربہ کیا جبکہ 2017 تک شمالی کوریا نے مزید پانچ ایٹمی تجربات کیے۔
اس وقت شمالی کوریا، امریکہ کے ساتھ بات چیت کا خواہاں تھا جس کے نتیجے میں 2018 اور 2019 میں دونوں ممالک کے رہنماؤں کے درمیان دو تاریخی ملاقاتیں ہوئیں۔ کم جونگ ان بین الاقوامی پابندیاں ہٹوانا چاہتے تھے اور اُنھوں نے یونگبیون جوہری پاور پلانٹ کو ختم کرنے کی بھی پیشکش کی۔ لیکن ٹرمپ مزید چاہتے تھے اور بات چیت بالآخر ختم ہو گئی۔
امریکی تھنک ٹینک سٹمسن سینٹر کے کوریا پروگرام کی قیادت کرنے والی جینی ٹاؤن کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا اب پراعتماد دکھائی دے رہا ہے، کیونکہ یوکرین میں جنگ نے اسے روس کے قریب کیا ہے جو اسے ضروری اقتصادی اور فوجی تعاون فراہم کرتا ہے۔
لیکن ٹرمپ اور کم کے درمیان اچھے تعلقات دکھائی دیتے ہیں، امریکی صدر نے گذشتہ سال کی طرح حال ہی میں کم جونگ ان کی تعریف بھی کی۔
ٹاؤن کا کہنا ہے کہ کم جونگ ٹرمپ کے ساتھ معاملات بہتر کرنے کے لیے کسی چیز کی قربانی نہیں دیں گے۔
شمالی کوریا نے ایران جنگ کی مذمت کے باوجود کھلے عام ٹرمپ کے حوالے سے کوئی طنز یہ سخت جملہ نہیں کہا۔ گذشتہ ماہ حکمراں جماعت کی کانگریس کے اجلاس کے موقع پر شمالی کوریا نے کہا تھا کہ اگر اس کی حیثیت کا احترام کیا جاتا ہے تو وہ امریکہ کے ساتھ اچھے تعلقات کا خواہاں ہے۔ یہ ایک طرح سے مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھنے کی دعوت تھی۔
چین، روس اور ’جوہری یرغمال‘
جغرافیہ بھی شمالی کوریا کے حق میں ہے۔ اس کی سرحد چین سے ملتی ہے جو اسے امریکہ اور اس کے اتحادی جنوبی کوریا کے خلاف ایک اہم رکاوٹ کے طور پر دیکھتا ہے۔
اگر شمالی کوریا کی حکومت گرتی ہے تو چین میں بڑے پیمانے پر مہاجرین آ سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخی طور پر دونوں کمیونسٹ ممالک کے درمیان تعلقات کو ’ہونٹوں اور دانتوں‘ جیسا قریبی قرار دیا گیا ہے۔
سنہ 1961 میں شمالی کوریا کے ساتھ طے پانے والے باہمی دفاعی معاہدے کے تحت چین نے یہ وعدہ کر رکھا ہے کہ اگر شمالی کوریا پر حملہ ہوا تو وہ اسے تحفظ فراہم کرے گا۔ یہ ایسا واحد معاہدہ ہے جس پر بیجنگ نے دستخط کر رکھے ہیں۔
اُن کے بقول اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ چین شمالی کوریا کو ہمیشہ ایک بہترین اتحادی کے طور پر دیکھتا ہے، کیونکہ اس کے جوہری ہتھیاروں کی توسیع خطے کو غیر مستحکم کر رہی ہے۔
سیول نیشنل یونیورسٹی سے وابستہ محقق جانگ یونگ سیوک کے مطابق چین بھی روس کے ساتھ شمالی کوریا کے بڑھتے ہوئے تعلقات کو دیکھ کر زیادہ خوش نہیں ہو سکتا، خاص طور پر جب سے دونوں ممالک نے 2024 میں دفاعی معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔
اس کے باوجود وہ کہتے ہیں کہ شمالی کوریا کے چین کے ساتھ سٹریٹجک مفادات ہیں اور چین اپنے سٹریٹجک مفادات میں بہت مضبوط ہے اور کم جونگ ان اس سے بخوبی واقف ہیں۔
جنگ جی ہیانگ کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا اپنی جغرافیائی قربت کی وجہ سے جنوبی کوریا اور جاپان کو بھی ’جوہری یرغمال‘ بناتا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ دونوں کوریا صرف غیر فوجی زون سے الگ ہیں، جو تقریباً 250 کلومیٹر لمبا اور چار کلومیٹر چوڑا ہے، ان کے دارالحکومتوں میں صرف 200 کلومیٹر کا فاصلہ ہے۔
اس کا مطلب ہے کہ سول میٹروپولیٹن ایریا شمالی کوریا کے براہ راست سٹرائیک زون کے اندر ہے۔ یہ سوالات موجود ہیں کہ آیا اسرائیل کی طرح جنوبی کوریا، میزائل یا راکٹ حملوں کو روک سکے گا یا نہیں۔
جاپان بھی شمالی کوریا کے براہ راست سٹرائیک زون میں واقع ہے اور شمالی کوریا اپنے تجربات کے دوران باقاعدگی سے بحیرہ جاپان میں میزائل فائر کرتا رہا ہے۔
دونوں ایشیائی ممالک میں تقریباً 80 ہزار امریکی فوجی تعینات ہیں جبکہ مشرق وسطیٰ میں 50 ہزار امریکی فوجی موجود ہیں۔
واشنگٹن ڈی سی کے تھنک ٹینک کوریا-یو ایس اکنامک انسٹی ٹیوٹ کی ایلن کم کا کہنا ہے کہ ایران کی جنگ نے ممکنہ طور پر کم جونگ ان میں یہ پختہ تاثر پیدا کیا ہے کہ علی خامنہ ای ’بے بس تھے کیونکہ ان کے پاس جوہری ہتھیار نہیں تھے۔‘
ٹاؤن اس سے اتفاق کرتے ہیں کہ ’شمالی کوریا نے جوہری ڈیٹرنٹ صلاحیت کے حصول میں برسوں کے دوران بہت زیادہ نقصان اٹھایا ہو گا، لیکن اس طرح کی صورتحال میں کم جونگ ان کو یقین ہے کہ اُنھوں نے درست فیصلہ کیا اور وہ یہ جانتے ہیں کہ جوہری ہتھیاروں سے لیس ملک پر حملہ کرنے کا خطرہ بہت زیادہ ہے۔
اس طرح کے لمحات میں، کم جونگ اُن کو تقریباً یقین ہے کہ اُنھوں نے صحیح فیصلہ کیا ہے، یہ جانتے ہوئے کہ جوہری ہتھیاروں سے لیس ملک پر حملہ کرنے کا خطرہ بہت زیادہ ہے۔