چالیس کے بچن اور عامر کی مقبولیت
- مصنف, ریحانہ بستی والا
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ممبئی
امیتابھ بچن نے فلم انڈسٹری میں چالیس برس پہلے' ساتھ ہندستانی ' فلم کے ذریعہ قدم رکھا تھا۔ چالیس کے بچن
نا ۔۔۔نا۔۔۔۔۔امیتابھ بچن چالیس برس کے نہیں ہوئے بلکہ اس فلم انڈسٹری میں چالیس سال پہلے انہوں نے ' ساتھ ہندستانی ' فلم کے ذریعہ پہلا قدم رکھا تھا۔ اب اسے یادگار بنانے کی تیاریاں زوروں پر ہے۔ ان کے قریبی دوست اور صنعت کار انیل امبانی کی ریلائنس فلم مارکیٹنگ کمپنی اکتوبر میں ممبئی کے ایک سٹیڈیم میں بڑے پیمانے پر ایک پروگرام کریں گے جس میں بے شک بالی وڈ کی نامور ہستیاں شریک ہوں گی۔ پروگرام میں بچن کو اعزاز تو دیا ہی جائے گا لیکن ساتھ ہی ممبئی کے تھیئٹرز میں ان کی ستر اور اسی کے عشرے کی فلمیں نئی نسل کے لیے نمائش کے لیے بھی پیش کی جائیں گی۔
بگ بی اس کے حقدار ضرور ہیں اور انیل کو دوستی کا حق بھی تو ادا کرنا ہی ہے لیکن ساتھ ہی اپنی فلمی کپمنی کے لیے شہرت بھی۔۔۔۔
ساڑھے چھ کروڑ روپیوں کا گیت
یقین کر ہی لیجئے کہ کوئی فلمساز اس بجٹ میں پوری فلم بنا لیتا ہے اور کسی نے صرف اپنی فلم کے لیے ایک گیت کے لیے اتنی بڑی رقم صرف کر دی۔ اجے دیوگن نے اپنی ہوم پروڈکشن فلم ' آل دی بیسٹ ' میں گوا کے ساحل پر سنجے دت ، فردین خان، بپاشا باسو اور مگدھا گوڈسے پر یہ گیت فلمایا گیا ہے۔ ممبئی سے ڈیڑھ ہزار سے زائد لوگ بلائے گئے گوا کے مقامی کالجوں سے طلباء کو بلایا گیا چھ دنوں تک اس کی شوٹنگ چلتی رہی تب جا کر گیت کی فلمبندی مکمل ہوئی۔
چھ کروڑ روپے ایک گیت کی فلمبندی پر، چالیس یا ساٹھ کروڑ روپے ایک فلم بنانے میں۔۔۔۔۔ یاروں کم از کم ایک فلم ایسی بنا لو جو آسکر ایوارڈ دلا سکے؟
عامر کی مقبولیت

عامر خان کا شمار ویسے تو بالی وڈ کے نمبر ون سٹارز میں ہوتا ہے یہ سبھی جانتے ہیں لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ وہ ریاستی حکومت کے ریکارڈ میں بھی اول نمبر کی پوزیشن میں ہیں۔ وہ پہلے سے ریاست کی سیاحت کی فروغ کے لیے اشتہار دے رہے ہیں ۔انہوں نے الیکشن کے دوران لوگوں کو صحیح امیدوار منتخب کرنے کے اور ووٹ دینے کے لیے اکسایا تھا لیکن اب حکومت ایک بار پھر چاہتی ہے کہ عامر بچہ مزدوری کے مخالف ریاست حکومت کی مہم کا حصہ بنیں۔ عامر کا کہنا تھا کہ صرف انہی سے اس طرح کا اشتہار کروانا کچھ ٹھیک نہیں ہے۔ عامر کے انکار پر ایڈ مین پرہلاد ککر نے امید کا دامن نہیں چھوڑا ہے کیونکہ ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کے پیغامات کے لیے عامر سے بہتر کوئی اور ہو ہی نہیں سکتا ہے۔۔۔۔
کبھی ہاں کبھی نا
کِسنگ کِنگ یعنی فلم کے پردے پر بوسہ دینے کے لیے مشہور اداکار عمران ہاشمی نے اپنی ہیروئین کو بوسہ دینے سے انکار کر دیا۔۔۔ہے نہ حیرت کی بات۔۔۔قصہ کچھ یوں ہے کہ فلم ' تم ملے ' کے ایک منظر ڈوبتے سورج کے پس منظر میں ہیروئین سوہا علی خان کو عمران کے ہونٹوں پر بوسہ دینا تھا۔ ہدایت کار کنال دیشمکھ نے سوہا کی رضامندی بھی حاصل کر لی تھی لیکن عین شوٹنگ کے دن سوہا نے وہ منظر فلمانے سے انکار کر دیا۔ شاید سوہا بے بی کی کچھ یادیں ایسے کسی منظر سے وابستہ رہی ہوں آپ سمجھ سکتے ہیں ۔۔۔۔۔ خیر یہ خبر عمران تک پہنچ گئی۔ اور جب تک کنال سوہا کو سمجھاتے عمران نے بوسہ لینے سے ہی انکار کر دیا۔
قطرینہ کی ذاتی اشیاء کی نیلامی

کون کافر نہیں چاہے گا کہ کیٹ جیسی بے حد پرکشش خاتون کی ذاتی اشیاء کو اپنے پاس رکھے۔ تو پھر تیار ہو جائیے کیوں کہ کیٹ بے بی نے اپنے ذاتی سامان کی نیلامی کی تیاری کر لی ہے۔ کیٹ اس نیلامی سے ہونے والی آمدنی کو بے سہارا بچوں کی مدد کے لیے بنے ٹرسٹ کو دیں گی۔ ویسے یہ ٹرسٹ چینئی میں ہے اور کیٹ کی والدہ مرسی اسے چلاتی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پردے پر حقیقت
آسٹریلیا میں ہندستانی طلباء پر ہونے والے نسل پرستانہ حملوں سے متاثر ہوئے ہدایت کار موہت سوری اب اس موضوع پر فلم بنانے کی تیاری کر رہے ہیں۔ سوری نے اس سے پہلے بھی زندگی کی ایک حقیقی کہانی سے متاثر ہو کر فلم ' کل یگ ' بنائی تھی۔ کیوں نہ بنائیں جب وہ ایسے ہی فلمساز مہیش بھٹ کے چیلے جو ہیں جنہوں نے مافیا سرغنہ ابو سالم اور مونیکا بیدی کی کہانی سے متاثر ہو کر فلم ' گینگسٹر ' بنا دی تھی۔
ارشد کا نہانا

آج کل ارشد وارثی دو سے تین گھنٹے تک شاور کے نیچے بیٹھتے ہیں۔ گندگی ہے کہ پیچھا ہی نہیں چھوڑتی۔ ارشد اس وقت وشال بھردواج کی فلم ' عشقیہ ' میں کام کر رہے ہیں۔ کردار کے مطابق انہیں بہت گندہ نظر آنا ہے۔ روز صبح وہ نہا دھو کر فریش سیٹ پر پہنچتے ہیں جہاں پہلے سے تیار میک اپ مین ان کے بدن پر سیاہ رنگ کی کم سے کم چار پرتیں لگاتا ہے۔ اس کے بعد بدن پر پسینہ نظر آنے کے لیے سپرے بھی کیا جاتا ہے۔ بیچارے ارشد سارا دن پسینہ میں نہاتے رہتے ہیں اور گھر جا کر پانی میں
زباں پہ لاگا
آپ کو اوم کارا کا یہ گیت تو یاد ہے نا' زباں پہ لاگا لاگا رے نمک عسق کا ' بے حد مقبول نغمہ فلمساز وشال بھردواج کی بیوی ریکھا نے گایا تھا۔ اب لوگوں کو ہی نہیں بلکہ موسیقار اے آر رحمن کو بھی ریکھا بھردواج کی آواز اتنی پسند آگئی ہے کہ وہ اپنی ہر فلم میں ان کی آواز میں گیت گوانا چاہتے ہیں۔ رحمن نے ریکھا کو ایک گیت کے لیے چینئی طلب کر لیا۔ پہلے یہ گیت کسی اور گلوکارہ کی آواز میں ریکارڈ کیا جانا تھا لیکن رحمن کو وہ آواز پسند نہیں آئی اور رات میں کام کرنے والے رحمن نے اسی وقت ریکھا کو فون کر کے جگایا اور چینئی بلا لیا۔ اب آسکر ایوارڈ یافتہ عظیم موسیقار کے ساتھ کام کرنا کون پسند نہیں کرے گا۔





















