پاکستان کے اندرونی حالات، تجارت متاثر

واہگہ سرحد پر بھارتی اور پاکستانی گارڈز
،تصویر کا کیپشنواہگہ پر بھارتی اور پاکستانی گارڈز

بھارت میں ایک سروے کے مطابق پاکستان کی اندرونی صورتحال کا اثر بھارت کے ساتھ اس کی تجارت پر پڑ رہا ہے۔ بھارت کے تاجر پاکستان جانے سے کترا رہے ہیں۔

بھارت میں صنعتکاروں اور تاجروں کی تنظیم فیکی کے سروے کے مطابق آنے والے کچھ مہینوں میں دونوں ملکوں کے درمیان تجارت میں کافی گراوٹ آ گئی ہے۔

سال 10-2009 میں دوطرفہ تجارت گر کر 90 کروڑ ڈالر رہ جانے کا اندیشہ ہے۔ فی الحال دونوں ملکوں کے درمیان لگ بھگ دو ارب ڈالر کی تجارت ہو رہی ہے۔ سروے سے پتا چلتا ہے کہ بھارتی ایکسپورٹرز پہلے سے ہو چکے سودوں کے لیے بھی پاکستان جانا نہیں چاہتے ہیں۔ اس سروے میں کہا گیا ہے کہ پا کستان میں خراب صورتحال کے سبب بھارت کے ایکسپورٹرز اور امپورٹرز میں ڈر کا ماحول ہے۔

پاکستان میں حال ہی میں ہونے والے تشدد کے واقعات کا دونوں ملکوں کی تجارت پر گہرا اثر پڑا ہے۔ کپڑا، مشنری، کپاس، اسٹیل، کیمیکل اور زراعت کی سرحد پار تجارت میں سب سے زیادہ گراوٹ آنے کا اندیشہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق موجودہ ماحول کو دیکھتے ہوئے بھارتی تاجر پاکستانی منڈی تک پہنچنے کے لیے پھر دبئی یا سنگاپور جیسے تیسرے آپشن کا استعمال کر سکتے ہیں۔ تیسرے ملک کے راستے کاروبار مہنگا تو پڑتا ہے لیکن تاجر یہ آپشن چننے میں زیادہ آسانی محسوس کرتے ہیں۔ جہاں تک کپڑوں کی درآمد کا سوال ہے تو بھارتی امپورٹرز پاکستان کے علاوہ مصر اور اٹلی جیسے ملکوں سے رابطے کر سکتے ہیں۔ سروے کے مطابق لاہور میں سری لنکا کے کرکٹ کھلاڑیوں پر حملے کے بعد سری لنکا اور پاکستان کے درمیان تجارتی تعلقات پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔ ایسے میں سری لنکا کے تاجر کچھ سامان پاکستان کے بجائے بھارت سے درآمد کر سکتے ہیں۔