ورن گاندھی کی ضمانت منظور

عدالت نے پچاس ہزار روپے جرمانے کے بدلے ضمانت منظور کی
،تصویر کا کیپشنعدالت نے پچاس ہزار روپے جرمانے کے بدلے ضمانت منظور کی

اتر پردیش میں پیلی بھیت حلقے سے بھارتیہ جنتا پارٹی کے امیدوار ورن گاندھی کو مبینہ طور پر مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیز بیان دینے کے معاملے میں دلی ہائیکورٹ نے پیشگی ضمانت دے دی ہے۔

ورن گاندھی کے وکیل نے الیکشن کمیشن کو ان کا جواب بھی بھیج دیا ہے۔الیکشن کمیشن نے انہیں اس معاملے میں صفائی پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا تھا کہ ورون گاندھی کو ہی یہ ثابت کرنا ہے کہ ان کے انتخابی خطاب کوغلط ڈھنگ سے پیش کیا گیا ہے۔

در اثناء اترپردیش اہلکاروں نے نئی دلی آکر ورون گاندھی کے متنازعہ ٹیپس کی ایک کاپی انہیں سونپ دی ہے۔ ورن کا دعوٰی ہے کہ ان کے انتخابی خطاب والی سی ڈی صحیح نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کے پیچھے انہیں بدنام کرنے کی ایک سیاسی سازش ہے۔

ورن گاندھی نے اپنے خلاف درج ایف آئی آر کو الہ آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔ انہوں نے منگل کو دلی ہائیکورٹ میں پیشگی ضمانت کی درخواست دی تھی۔ ہائی کورٹ نے انہیں پیشگی ضمانت 50 ہزار روپے جرمانہ ادا کرنے پر دی ہے۔ اس معاملے کی اگلی سماعت 27 مارچ کو ہوگی۔

بدھ کودلی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ورن گاندھی نے کہا تھا کہ انہوں نے کسی خاص برادری کے خلاف کسی بھی طرح کا کوئی اشتعال انگیز بیان نہیں دیا ہے اور ان کی سیکولر شبیہ کو خراب کرنے کے لیے ان کے خلاف سیاسی سازش کی جارہی ہے۔

دلی میں ذرائع بلاغ کو اس بارے میں اک مختصر بیان جاری کرتے ہوئے ورن گاندھی نے کہا تھا ’جب بھی کوئی اپنی ہندو شناخت کی بات کرتا ہے تو اسے بدنام کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اور فرقہ پرست کہا جاتا ہے۔ میں اپنے عقیدے پر فخر کرتا ہوں۔ میں گاندھی ہوں، ہندو ہوں اور ہندوستانی بھی۔ میں نے ایسا کچھ بھی نہیں کہا جس کا مقصد نفرت پھیلانا ہو‘۔

ورن گاندھی کا کہنا تھا کہ جس علاقے سے وہ انتخاب لڑ رہے ہیں وہاں کے ہندوؤں کا اعتماد بحال کرنے کے لیے کچھ باتیں کہی تھیں جن کا غلط مطلب نکالا گیا ہے۔

انتخابی کمیشن نے ورون گاندھی پر مبینہ طور پر مذہب کی بنیاد پر عوام کو تقسیم کرنے اور اشتعال انگیز بیانات دینے کے الزامات کے تحت ان سے وضاحت طلب کی ہے۔

پیلی بھیت انتخابی حلقے سے ورن گاندھی کی ماں مینکا گاندھی (اندرا گاندھی کی چھوٹی بہو) انتخابی میدان میں اترتی رہی ہیں اور کامیاب بھی ہوتی رہی ہیں لیکن اس مرتبہ ورن گاندھی اپنی قسمت آزمانے جا رہے ہیں۔