ورون گاندھی کو انتخابی کمیشن کا نوٹس

اتر پردیش کے پیلی بھیت حلقے سے بھارتیہ جنتا پارٹی کے امیدوار ورون گاندھی کو انتخابی مہم کے دوارن اشتعال انگیز بیانات دینے کے الزام میں انتخابی کمیشن نے نوٹس جاری کر دیا ہے۔
کمیشن نے ورون گاندھی پر مبینہ طور پر مذہب کی بنیاد پر عوام کو تقسیم کرنے اور اشتعال انگیز بیانات دینے کے الزامات کی وضاحت طلب کی ہے۔
اس انتخابی حلقے سے ورون گاندھی کی ماں مینکا گاندھی (اندرا گاندھی کی چھوٹی بہو) انتخابی میدان میں اترتی رہی ہیں اور کامیاب بھی ہوتی رہی ہیں لیکن اس مرتبہ ورون گاندھی اپنی قسمت آزمانے جا رہے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق ایک انتخابی ریلی میں ورون گاندھی نے کہا ’یہ ہاتھ نہیں ہے، یہ کمل کی طاقت ہے جو کسی کا سر قلم کر سکتا ہے۔‘
ہندوستان کے ٹی وی چینلز پر نشر ہونے والی ویڈیو کلپنگز ميں ورون گاندھی کہہ رہے ہیں کہ اگر کوئی ہندؤوں کی طرف ہاتھ بڑھاتا ہے یا پھر یہ سوچتا ہے کہ ہندؤں کی سربراہی کرنے والا کوئی نہیں ہے تو میں گیتا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں اس ہاتھ کو کانٹ دوں گا۔
اپنے خطاب میں ورون گاندھی نے مہاتما گاندھی کے مشہور عدم تشدد کے فلسفے کو بھی غلط قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا تھا ميں اسے بیوقوفی مانتا ہوں کہ اگر کوئی آپ کے ایک گال پر ایک چانٹا مارے تو آپ دوسرا گال آگے کر دیں ۔۔۔۔اس کے ہاتھ کاٹ دو تاکہ وہ کسی دوسرے پر بھی ہاتھ نہ اٹھا سکے۔
اپنے خطاب میں ورون گاندھی مسلمانوں کے ناموں کی ہنسی اڑاتے لادین او پکڑنے کا دعوی کرتے ہوئے بھی نظر آئے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
حالانکہ ورون گاندھی نے پیلی بھیت کے ضلع مجسٹریٹ کو دیے اپنے جواب میں اشتعال انگیز بیان دینے کے الزام کو غلط قرار دیتے ہوئے اس سے انکار کیا ہے۔
لیکن ورون گاندھی کے بیان کی ان کی پارٹی میں بھی سخت نکتہ چینی کی جا رہی ہے۔ پارٹی کے سیئنر رہمان مختار عباس نقوی نے کہا کہ ورون نے جو کہا وہ بی جے پی کی روایت نہیں رہی ہے۔
ادھر کانگریس کے ترجمان ابھیشیک منو سنگھوی نے کہا ہے کہ ورون ایک ایسی پارٹی سے جڑے ہوئے ہیں جس کا نظریہ اقلیت مخالف ہے۔






















