ورن گاندھی ہمارے امیدوار: بی جے پی

بھارتیہ جنتا پارٹی نے ورن گاندھی کے معاملے پر الیکشن کمیشن کی جانب سے دی گئی ہدایت کو متعصبانہ قرار دیا ہے۔ انتخابی کمیشن نے بھارتیہ جنتا پارٹی کو کہا تھا کہ وہ ورن گاندھی کو پارٹی کا امیدوار نہ بنائيں۔
ورن گاندھی کی مسلم مخالف بیانات والی سی ڈی منظر عام پر آنے کے بعد الیکشن کمیشن نے انہیں قصوروار ٹھہراتے ہوئے بھارتیہ جنتا پارٹی سے کہا تھا کہ پارٹی انہیں عام انتخابات میں اپنا امیدوار نہ بنا ئے۔
بی جے پی کا کہنا ہے کہ انتخابی کمیشن کو یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ کسی پارٹی کو یہ بتائے کہ وہ کس کو اپنا امیدوار بنائے اور کس کو نہیں۔
بی جے پی کے رہنما بلبیر بونج کے مطابق ورن گاندھی پیلی بھیت سے بھارتیہ جنتا پارٹی کے امیدوار ہیں۔ الیکشن کمیشن نے جو صلاح دی تھی اسے وہ صلاح دینے کا کوئی حق نہیں ہے۔جمہوریت میں اگر امیدوار ٹھیک ہے تو عوام کا ووٹ ملے گا اور اگر نہیں تو نہیں اور پیلی بھیت کی عوام ورن گاندھی کے بارے میں فیصلہ کرے گی۔
بھارتیہ جنتا پارٹی کا یہ بھی کہنا ہے کہ ملک کی مختلف پارٹیوں نے کئی بار ایسے امیدواروں کو انتخاب میں اتارا ہے جن پرنہ صرف فوجداری مقدمات درج ہیں بلکہ جنہیں عدالت قصوروار بھی ٹھہرا چکی ہے۔
بلبیر بونج نے مزید کہا کہ سنجے دت کے خلاف کیس ہے، جگدیش ٹائٹلر کے خلاف کیس ہے اور اس کے علاوہ سجن کمار کے خلاف بھی مقدمہ درج ہے لیکن ان لوگوں کے بارے میں انتخابی کمیشن نے کبھی کچھ نہیں کہا۔
ورن گاندھی معاملے پر پہلی بار اپنا رد عمل دیتے ہوئے کانگریس کے انجہانی لیڈر اور سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی کی بیٹی پرینکا گاندھی نے کہا ہے کہ ورن گاندھی کے بیان افسوسناک ہیں اور ان کے خاندان کی سوچ کے خلاف ہیں۔
وہیں ورن گاندھی نے الیکشن کمیشن کو ایک خط لکھا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن نے جلد بازی میں ان کے خلاف کارروائی کی ہے۔ انکا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن نے جس طرح سے انکے خلاف کارروائی کی ہے اس سے یہ لگتا ہے کہ اس نے یہ قدم کسی سیاسی دباؤ میں کیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
گزشتہ ہفتے میڈیا کے ذریعے ورن گاندھی کی پیلی بھیت حلقے میں ایک انتخابی ریلی کے خطاب والی سی ڈی میڈیا میں دکھائی گئی تھی جس میں ورن گاندھی مسلم مخالف اشتعال انگیز بیان دے رہے تھے۔الیکشن کمیشن انہیں پہلے ہی اس معاملے میں قصوروار ٹھہرا چکی ہے۔ ورن گاندھی کی دلیل ہے کہ سی ڈی میں جو آواز ہے وہ انکی نہیں ہے اور انہیں ایک سیاسی سازش کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔



















